مسلح جدوجہد

سلمان عابد  پير 24 مارچ 2014
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو اپنی بقا کے لیے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں ایک بڑا مسئلہ مسلح جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد مذہبی ہو یا سیاسی حقوق کے لیے، اس کا نتیجہ بدامنی اور پرتشدد ذہنی رجحانات کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ ہم مجموعی طور پر جس بڑی بدامنی کے عمل سے گزر رہے ہیں اس میں بعض قوتوں نے ریاست کے مقابلے میں اپنی ایک متبادل ریاست بنا ڈالی ہے۔

پاکستان کی ریاست اس وقت اس مسلح جدوجہد سے بچنے کے لیے ان قوتوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جو اس جدوجہد کے حامی ہیں۔ عمومی طور پر ایک فکری مغالطہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف مذہبی انتہا پسندی کا ہے، جب کہ اس کے برعکس ملک میں دیگر مسلح علیحدگی پسند عناصر بھی موجود ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ دونوں کوششوں کو ایک انداز سے دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ دونوں کا پس منظر اور محرکات مختلف ہیں ۔ لیکن دونوں میں ایک مشترکہ عمل مسلح جدوجہد کاہے۔ دونوں اپنے تئیں ریاست اور اس کے طریقہ نظام سے مطمئن نہیں۔ ایک مسلح جدوجہد کی بنیاد پر نظام شریعت کا حامی ہے، تو دوسرا حقوق کے نام پر ریاست کے خلاف بندوق اٹھائے ہوئے ہے۔ ہمارے بعض حلقے ایک مسلح جدوجہد کے حامی اور دوسرے کے مخالف ہیں، حالانکہ مسلح جدوجہد کسی بھی طرز کی ہو اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے۔

وفاق المدارس پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والی ’’ تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس‘‘ کے مشترکہ اعلامیہ میں واضح طور پر نفاذ شریعت اور غیر ملکی تسلط کے خاتمہ کے لیے ’’ مسلح جدوجہد ‘‘ کو شرعی اعتبار سے غلط قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرز کی جدوجہد کا براہ راست فائدہ ہمارے دشمنوں کو پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح اس بنیادی نقطہ پر بھی زور دیا گیا کہ معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمہ کے لیے آئینی اور جمہوری ذرایع ہی کو بنیاد بنا کر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہو گا۔ یہ اعلامیہ ایک اہم موقع پر سامنے آیا ہے، کیونکہ اس وقت حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل چل رہا ہے ۔ مذاکرات کے مخالفین کا موقف ہے کہ جو قوتیں ریاست کے آئین اور اس کے فریم ورک کو تسلیم ہی نہیں کرتیں ، ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہونگے۔ لیکن اس وقت حکومت اور طالبان کے درمیان جو کچھ بھی مفاہمتی عمل سامنے آیا ہے ، وہ ریاست کے آئین اور اس کے فریم ورک ہی کی بنیاد پر ہے۔

مسلح جدوجہد کی مخالفت میں وفاق المدارس کا یہ اعلامیہ کوئی پہلی دفعہ سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل بھی کئی مکاتب فکر کے علمائے کرام مسلح جدوجہد کی مخالفت میں اپنی رائے دے چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کے بارے میں ایک رائے یہ دی جاتی ہے کہ وہ طالبان کے حامی ہیں۔ لیکن خود سید منور حسن اپنی جماعت کی پالیسی میں یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ شریعت کبھی بندوق کے زور پر نہیں آ سکتی، اور مسلح جدوجہد ماسوائے انتشار کے اور کچھ نہیں دے سکے گی۔ اس برس امام کعبہ نے جو خطبہ حج دیا اس میں بھی مسلح جدوجہد کے ذریعے شریعت کے نفاذ کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح سعودی عرب کے شیخ العزیز علامہ ناصر البانی، کویت کے وزیر اوقاف و مذہبی امور یوسف العجمی کے فتوے بھی موجود ہیں جو اس طرح کی مسلح جدوجہد کی حمایت نہیں کرتے۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی، جمعیت اہلحدیث سمیت کئی مذہبی جماعتیں مسلح جدوجہد کے بجائے ’’جمہوری فریم ورک‘‘ میں ووٹ کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں، اس عمل کی سیاسی پزیرائی بھی ضروری ہے۔ لیکن بعض اوقات ہماری کچھ مذہبی جماعتیں ’’غیر ملکی تسلط یا امریکا دشمنی‘‘ کی بنیاد پر اس طرح کی مسلح جدوجہد کے بارے میں ایسا نرم گوشہ رکھتی ہیں، جو مسائل پیدا کرتا ہے۔ اس عمل پر ہماری بعض مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادت کو ضرور غور کرنا چاہیے کہ مسلح جدوجہد کے خلاف واضح موقف کے باوجود ان کے بارے میں رائے عامہ میں یہ ابہام کیوں موجود ہے کہ وہ اس جدوجہد کی حمایت کرتی ہیں۔ اصولی طور پر ہونا یہ ہی چاہیے کہ ہماری یہ مذہبی جماعتیں کھل کر اس طرح کی مسلح جدوجہد کے خلاف محض فتوے یا اعلامیہ ہی جاری نہ کریں، بلکہ اسے اپنے سیاسی ایجنڈے کی بنیاد بنا کر ان عناصر کے خلاف موثر اور عملی آواز اٹھائیں جو مسلح جدوجہد کی حمایت کرتی ہیں ۔

اسی طرح وہ عناصر جو مسلح جدوجہد کے حامی ہیں انھیں بھی اب اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ آج کی دنیا میں اس طرز کی جدوجہد کی حمایت نہ تو سیاسی بنیادوں پر موجود ہے اور نہ ہی سیاسی اشرافیہ اب اس کی حمایت کے لیے آگے بڑھے گی۔

کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے ایک بڑے قوم پرست راہنما سردار عطاء اللہ مینگل نے بھی ان بلوچ عناصر کو جو مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، مشورہ دیا تھا کہ وہ اس جدوجہد سے باہر نکل کر جمہوری انداز میں اپنا مقدمہ لڑیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے بقول جو لوگ آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ ہم آزادی کے بعد کیسے اپنا نظام چلا سکیں گے؟ کیونکہ اس طرح کی جدوجہد ہمیں ایک مصیبت سے نکال کر دوسری مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔ انھوں نے بلوچ علیحدگی پسندوں کو مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں سے نیچے آجائیں اور آئین، ریاست اور پنجاب کی بالادست قوتوں سے مل کر کوئی ایسی مفاہمت کا راستہ نکالیں جو بلوچ حقوق کی حقیقی ضمانت بن سکے۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے بیٹے سردار اختر مینگل بھی اسی سوچ کی بنیاد پر پاکستان آئے اور انھوں نے 2013ء کے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ اگرچہ اس وقت بلوچستان ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود بلوچستان میں بہت سی قیادتیں جمہوریت اور آئینی فریم ورک میں رہ کر ہی اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس وقت بھی بلوچستان میں جو سیاسی قیادت اقتدار میں ہے، وہ ان ہی حقوق کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنائے ہوئے ہے جس پر صوبہ میں تحفظات یا ردعمل پایا جاتا ہے۔

یہ بنیادی مسئلہ ہماری ریاست اور اس پر موجود بالادست فریقوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ جب تک ریاست لوگوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے پہلو کو مضبوط نہیں بنائے گی، ریاستی عمل بھی مضبوط نہیں ہو گا۔ آج پاکستان کی ریاست کے بارے میں بھی جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں انھیں محض آسانی سے نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کی روش بھی ختم ہونی چاہیے۔ ماضی میں ہماری ریاست اپنی مفاداتی سیاست کو تقویت دینے کے لیے خود اسلحہ بردار گروپس یا مسلح جدوجہد کی حمایت کرتی رہی ہے، اور ان کی تشکیل میں اس کا معاونت کا کردار بھی تھا۔ اس لیے مسلح طرز کی جدوجہد کے لیے ہماری ریاست کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ریاست کو اس دوہری پالیسی سے بھی گریز کرنا چاہیے جو مسلح اور سیاسی جدوجہد کے درمیان تضادات کی سیاست کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ہمارے حکومتی نظام اور اس میں فیصلہ سازی کے عمل میں بھی اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، کمزور لوگوں میں بڑھتا ہوا احساس محرومی، سیاسی، سماجی اور معاشی تفریق سمیت ذہنوں میں موجود تعصبات اور نفرت کے رویوں کی بنیاد پر ہم لوگوں کو جمہوری اور قانونی حکمرانی کے تابع نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے مسلح جدوجہد کے خاتمہ کے لیے ہمیں اپنی ریاست اور حکومتی نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کر کے اسے سب فریقین کے لیے قابل قبول بنانا ہو گا۔ وگرنہ جب لوگوں میں اپنے حقوق اور اس کی نفی یا تفریق کی صورت میں جو بغاوت پیدا ہوتی ہے، اس کا ایک نتیجہ مسلح جدوجہد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے ہمیں مسائل کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میں دیکھ کر مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔