تھر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، دنیا کو بتائیں گے تھر کی اصل کہانی کیا ہے، قائم علی شاہ

اسٹاف رپورٹر  منگل 25 مارچ 2014
 قحط کی صورتحال پر ایم کیوایم کی پیش کردہ تحریک التوا خلاف ضابطہ قرار، حکومت اور اپورزیشن کا آج نئی تحریک التوا پیش کرنے پر اتفاق  فوٹو: فائل

قحط کی صورتحال پر ایم کیوایم کی پیش کردہ تحریک التوا خلاف ضابطہ قرار، حکومت اور اپورزیشن کا آج نئی تحریک التوا پیش کرنے پر اتفاق فوٹو: فائل

کراچی: تھرپارکر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کومستقل طورپر بہتر کرنے کے لیے حکومت سندھ نے تھرڈیولپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے )کے قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ تھر پارکر کے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی خشک سالی سے متاثرہ نہ ہو۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہائوس میں تھرپار کر میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اورامدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیاجس کی صدارت وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کر رہے تھے۔علاوہ ازیں پیر کو سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ارکان کی جانب سے تھرمیں قحط کی صورت حال پر پیش کردہ تحریک التوا پر بات کر تے  ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم پوری دنیا، پاکستان اور سندھ کے عوام کوبتلائیں گے کہ تھر کے ایشو کے پس پردہ سندھ حکومت کے خلاف کیا سازش ہورہی ہے اور اصل کہانی کیا ہے؟۔ حکومت نے اس تحریک التواکی مخالفت کی۔ اسپیکرآغا سراج درانی نے تحریک التوا کوخلاف ضابطہ قراردے کرنمٹادیا تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس بات پراتفاق ہواکہ منگل کوتھرکے مسئلے پرایک اور تحریک التوا لائی جائے گی اور اس پر2 گھنٹے تک بحث کی جائے گی۔دریں اثنا تھر سے متعلق اعلی سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات کو2 ہفتے کے اندرفزیبلٹی رپورٹ مکمل کرنے کے احکام دیے ہیں تاکہ ٹی ڈی اے بل کے مسودے پر آئندہ کا بینہ اجلاس میں غوروخوص کر کے حتمی منظوری سندھ اسمبلی سے لی جاسکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو تھرپارکر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی منصوبہ بندی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں ودیگر مواصلاتی سہولتیں ،صحت، تعلیم ، لائیواسٹاک کے فروغ، غربت کے خاتمے اورکمیونٹی کو بااختیار بنانے جیسی اسکمیوں کی شمولیت کویقینی بنانے کے احکام بھی دیے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ تھر کے پسماندہ عوام کی خدمت کی ہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو پہلے ملکی رہنما تھے جنھوں نے خشک زون جیسے علاقوں کی ترقی کے لیے۔”سندھ ایرڈزون ڈیولپمنٹ اتھارٹی “کا بنیاد رکھا تاہم ان کے بعد حکومت میں آنے والوں نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ تھر پارکر کے متاثرہ علاقوں میں قلیل مدتی امدادی سرگرمیوں کے علاوہ حکومت سندھ تھرپارکر میں خشک سالی کی صورتحال سے مستقل بنیاد پر نمٹنے کے لیے ضلع تھر پارکر میں موثرمیکنزم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تھر پارکر میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ٹراسپورٹرز کے مسائل حل کرنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کے کورآرڈینٹر تاج حیدر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی جس میں محکمہ خوراک اور محکمہ خزانہ کا ایک ایک نمائندہ بھی ہوگا تاکہ ٹرانسپورٹرزکے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کیے جائیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک کو تھر پارکر اور دیگر ملحقہ اضلاع میں گندم کے ضروری اسٹاک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بھی احکام دیے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مقامی انتظامیہ کو تھرپارکر میں خشک سالی سے متاثرہ ہر فرد کو امداد کی صاف شفاف اور بلاتفریق فراہمی کو یقینی بنانے کے احکام دیے۔ صوبائی سیکریٹری صحت اقبال درانی نے اجلاس میں بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ تھر پارکر میں بچوں کی اموات کا سبب غذائی قلت ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ مقامی اسپتالوں کا استعداد کار بڑھانے کے علاوہ تھرپارکر میں 22 طبی ٹیمیں تھرپارکر کے متاثرہ لوگوں کوتمام ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں ۔ صوبائی سیکریٹری خوراک نصیر احمد جمالی نے اجلاس کو بتایاکہ ضلع تھرپارکرکے ملحقہ اضلاع میں گندم کا مطلوبہ اسٹاک پہنچایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ضلع تھرپاکر میں 1,31,721 گندم کی بوریاں جبکہ ملحقہ اضلاع جن میں ضلع عمر کوٹ ، سانگھڑ اور خیرپور شامل ہیں وہاں 155599 بوریاں پہنچادی گئی ہیں ۔ اجلاس میں گندم کی تقسیم کے بابت شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی وزیر زکواۃ دوست محمد راہموں ، ایم پی اے مہیش کمار ملانی اور ایم این اے فقیر شیر محمد بلالانی نے اس طرح کی تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر گندم کی تقسیم کا جائزہ لیتے اور علاقوں کا دورہ کرتے ہیں، لوگوں کی طرف سے ابھی تک انھیں اس طرح کی کوئی بھی شکایت نہیں ملی ہے۔  دریں اثناسندھ اسمبلی میں خلاف ضابطہ قراردی جانے والی تحریک التوا ایم کیو ایم کے ارکان پنجو بھیل اور زبیر احمد خان نے پیش کی تھی۔ تحریک التوا میں کہا گیا کہ ضلع تھرپارکر میں قحط نے سنگین اثرات ڈالے ہیں، جس کی وجہ سے انسانوں اورمال مویشیوں میں بیماریاں پیدا ہوئیں ۔121سے زائد بچے جاں بحق جبکہ ہزاروں جانور بھی مر گئے ۔ قحط سے ضلع تھرپارکر کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ اس اہم معاملے پر حکومت کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انسانی جانوں اور مال مویشی کو بچایا جائے ۔ لہٰذااس ہنگامی اور عوامی اہمیت کے مسئلے پر بحث کے لیے اسمبلی کی دیگر کارروائی ملتوی کی جائے ۔ وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ حکومت تھر کی صورت حال پر بحث کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تحریک التوا حسب ضابطہ نہیں ہے ۔ لہٰذا میں اس کی مخالفت کرتا ہوں ۔ پنجو بھیل نے تحریک التوا کے حسب ضابطہ ہونے کے لیے دلائل دیے ۔ اپوزیشن لیڈر سید فیصل سبزواری نے کہا کہ اگر تھر میں قحط اور خشک سالی پر تحریک التوا کو تکنیکی بنیاد پر مسترد کیا گیا تو میڈیا اور عوام ہم منتخب نمائندوں کے رویے پر تنقید کریں گے ۔ سینئر وزیر نثار احمدکھوڑو ، وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن اور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔