کم عمری کی شادی کی روک تھام سمیت 5 بل قومی اسمبلی میں پیش

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 26 مارچ 2014
لورالائی میں ہائیکورٹ کے قیام، جسمانی سزا کیخلاف بل بھی شامل، مزیدغور کیلیے قائمہ کمیٹیوں کے سپرد۔
فوٹو: فائل

لورالائی میں ہائیکورٹ کے قیام، جسمانی سزا کیخلاف بل بھی شامل، مزیدغور کیلیے قائمہ کمیٹیوں کے سپرد۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں کم عمری کی شادی کی روک تھام ، بچوں  پرجسمانی سزاؤں پر احکام وضع کرنے اور معذورافراد کی بحالی سمیت 5 بلزپیش کردیے گئے جبکہ حکومت کی مخالفت کے باعث پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی ایاز سومرونے اسپیکراسمبلی کی سفارش پرسرکاری ملازمین کی تقرری اورملازمتوں کی تشکیل سے متعلق بل 2014واپس لے لیا۔

منگل کوقومی اسمبلی کے اجلاس میںجے یو آئی کی آسیہ ناصرنے اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوںکی تعداد10 سے بڑھاکر16 کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51میں مزیدترمیم سے متعلق ترمیمی بل 2014ء ،ن لیگ کی ماروی میمن نے بچوں کی جسمانی سزائوں کی ممانعت سے متعلق احکام واضح کرنے سے متعلق بل 2014،ن لیگ کی طاہرہ اورنگزیب نے معذورافرادکے روزگاربحالی سے متعلق ترمیمی بل 2014،جے یو آئی ف کے مولانا امیرالزمان نے لورالائی میں ہائیکورٹ بینچ کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل 198میں ترمیم کابل 2014جبکہ ماروی میمن نے لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2014 ایوان میں پیش کیا ۔ حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کیے جانے پراسپیکر سردار ایازصادق نے بل کومتعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپردکردیے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔