انتخابات الیکشن کمیشن کہنے پر کرائے، سیاستدان عدلیہ کو تنازعات میں نہ گھسیٹیں، لاہور ہائیکورٹ

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 26 مارچ 2014
الیکشن کمیشن اپنا انتظامی کردار ادا کرے، ایاز صادق کی انتخابی ریکارڈ کے معائنے کے خلاف پٹیشن پر وفاق کو معاونت کا حکم  فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن اپنا انتظامی کردار ادا کرے، ایاز صادق کی انتخابی ریکارڈ کے معائنے کے خلاف پٹیشن پر وفاق کو معاونت کا حکم فوٹو: فائل

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمر عطا بندیال نے این اے 122کے ریکارڈ کے معائنے کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سیاستدان عدلیہ کواپنے تنازعات میں نہ گھسیٹیں۔

عدلیہ نے عام انتخابات الیکشن کمیشن کی درخواست پر منعقد کرائے مگر دھاندلی کا سارا الزام عدلیہ پر لگا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے وفاق کوحکم دیا کہ وہ عدالت کی اس نکتے پر معاونت کرے کہ کیا ریٹرننگ آفیسر بعد ازانتخابات الیکشن کمیشن کے ماتحت ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ نے اپنے ادارے کا تحفظ بھی کرنا ہے۔کسی ایک جج کے خلاف دھاندلی کا ایک ثبوت لے کر آئیں ورنہ الزام تراشیاں بندکردیں۔ الیکشن کمیشن کا اپنا نظام خراب تھا مگر انگلیاں معزز جج صاحبان پراٹھائی گئیں۔

عدلیہ کا کام عوام کو انصاف مہیا کرنا ہے، اس لیے عدلیہ کو تنازعات سے دور رکھنا چاہیے۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پریذائیڈ نگ آفیسرز کا ملبہ عدلیہ پر ڈال دیا گیا، وقت آگیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا انتظامی کردار ادا کرے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی وکیل مقصومہ بخاری نے کہا کہ الیکشن کمیشن ریٹرننگ آفیسرکو ریکارڈ کے معائنے کا حکم نہیں دے سکتا، انتخابات کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا کردار ختم ہو جاتا ہے۔ عمران خان کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ریٹرننگ آفیسر کومعائنے کا حکم دے سکتا ہے کیونکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976کے تحت ریٹرننگ آفیسرز الیکشن کمیشن کے ماتحت ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل آفیسرزالیکشن کمیشن کے پابند نہیں ہیں۔ مزید سماعت 16اپریل کو ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔