کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ

سلیم اللہ شیخ  بدھ 26 مارچ 2014
بنگلا دیش نےاس پابندی کو ختم نہ کیا تو 25 مارچ 2014 کا دن کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے۔ فوٹو: فائل

بنگلا دیش نےاس پابندی کو ختم نہ کیا تو 25 مارچ 2014 کا دن کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے۔ فوٹو: فائل

بنگلا دیش میں جاری ورلڈ ٹی20 مقابلوں کے دوران بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے تعصب اور تنگ نظری کی انتہا کرتے ہوئے مقامی شائقین پر غیر ملکی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔کہا جاتا ہے کہ کھیل کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے کیونکہ کھیلوں کے ذریعے امن قائم کیا جاسکتا ہے ، جبکہ کھلاڑیوں کو بھی ملک کا سفیر کہا جاتا ہے لیکن شیخ حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت نے ان تمام باتوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کھیلوں کو بھی مکروہ سیاست کی نظر کردیا ہے۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے یہ سیاہ کارنامہ انجام دے کر کرکٹ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔کرکٹ جسے عام طور پر GAME OF GENTLLE MENS کہا جاتا تھا پہلے ہی سٹے بازی اور جوئے کے باعث بدنام ہوچکا تھا اب اس میں گندی سیاست بھی شامل ہوگئی ہے۔ اگر بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ نے اس پابندی کو ختم نہ کیا تو 25 مارچ2014کا دن کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے۔

اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر یہ پابندی بھارتی ایما ء پر لگائی گئی ہے۔ ایشیا کپ اور T20 ٹورنامنٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز میں جس جوش و خروش کے ساتھ بنگلا دیشی عوام نے پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کیا وہ بنگلا دیشی عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم بھارت اور بنگلا دیش کی حکومت کو پاکستانی ٹیم کی حمایت بری طرح کھل گئی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے یہ مقامی تماشائیوں پر غیر ملکی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنے اور غیر ملکی جھنڈا لہرانے پر پابندی عائد کردی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ T20مقابلوں میں سارے میچز صرف بنگلا دیش کے نہیں ہیں تو پھر بنگلا دیشی عوام اسٹیڈیم جاکر میچ کیوں دیکھیں؟ یہ فیصلہ تو خود بنگلا دیش کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوگااور اگر اس کو مثال بناتے ہوئے دیگر ممالک نے بھی ایسے ہی فیصلے صادر کرددیئے تو پھر کرکٹ کے کھیل کا بیڑا غرق ہوجائے گا۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اعلی حکام نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جلد بی سی بی حکام سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ اگرچہICCکو بی سی بی کے اس اقدام کے خلاف فوری طور پر کوئی کارروائی کرنی چاہیے لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی ICC کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کرسکے گا جس سے بھارت کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچے یا جس میں بھارت کی مرضی شامل نہ ہو۔ آخر کار بھارت بِگ تھری میں شامل ہے۔ بہر حال بنگلا دیش کرکٹ ٹیم نے کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ کرکے گیم آف جنٹل مین کی روح کو داغدار کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

سلیم اللہ شیخ

سلیم اللہ شیخ

لکھاری پیشے کے لحاظ سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔اور مختلف اخبارات اور ویب سائٹس کےلیےفری لانس مضامین لکھتے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔