ہرنئی ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری لائبریری کے قیام سے مشروط ہونی چاہیے ، محمد ہارون عثمانی

محمود الحسن  بدھ 26 مارچ 2014
 ڈپٹی چیف لائبریرین پنجاب یونیورسٹی اور محقق محمد ہارون عثمانی سے مکالمہ ۔ فوٹو  فائل

ڈپٹی چیف لائبریرین پنجاب یونیورسٹی اور محقق محمد ہارون عثمانی سے مکالمہ ۔ فوٹو فائل

کتاب سنِ شعورکو پہنچنے سے ہی ان کی زندگی کا محورچلی آرہی ہے۔

عمرِعزیزسے اب تک جوکچھ بھی بھرپائے ہیں، وہ کتاب کے وسیلے سے ہی ممکن ہوا۔ بھاگوان ایسے کہ شوق ہی کو پروفیشن بنالینے کاموقع مل گیا۔ کتابوں سے محبت کرنے والے کو لائبریری میں نوکری مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے۔لائبریری سائنس کے شعبے میں اپنی لیاقت کی بناپرممتازمقام حاصل کرلیا توکتاب سے اپنا ربط ضبط مزید مضبوط کرنے کے لیے بیشۂ تحقیق میں قدم رکھا۔محقق کی قسمت میں لائبریریوں کی خاک چھانناتو لکھا ہی ہوتاہے،اور اگروہ ادھرملازمت بھی کررہا ہوتو کیا ہی بات ہے۔اردومیں ایسے محققین رہے ہیں، جو لائبریری سے متعلق رہے، اس ضمن میں فوری طور پر امتیاز علی خان عرشی اور ڈاکٹرسید عبداللہ کا نام ذہن میں آتا ہے۔ یہ نام بہت بڑے ہیں،لیکن محمد ہارون عثمانی کو اس روایت کے تسلسل میں دیکھاجاسکتا ہے۔

تحقیق میں ان کی کوشش رہی کہ پامال موضوعات کے بجائے تھوڑے مختلف موضوعات کو چنا جائے۔مولانا امین احسن اصلاحی کی دینی خدمات پرخاصی تحقیق ہوچکی تھی، لیکن ان کی اردونثر کے بارے میں کسی نے قلم نہیں اٹھایاتھا۔ہارون عثمانی نے اس پہلوپرخاص توجہ دی، اور ایم فل کا مقالہ ’’مولانا امین احسن اصلاحی کی نثری خدمات‘‘کے موضوع پرلکھا، جو کتابی صورت میں چھپا،تو اسے علمی حلقوں میںقدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ان کے خیال میںنثر میں مولانا شبلی نعمانی کی روایت کو جن اصحاب نے آگے بڑھایا چڑھایاان میں امین احسن اصلاحی کا نام نمایاں ترہے۔مولانا کی چندنایاب تحریروں کاسامنے آنا بھی ان کی تحقیق کا ثمرہ ثابت ہوا۔اردو کے فراموش کردہ مزاح ٗنگارکنھیا لال کپورکی تحریروں کو تندہی سے مرتب کرکے چھپوانے کا چارہ کیا۔تحقیق کے ضمن میںان کا سب سے اہم کام بیسویں صدی کے ممتازادبی جریدے ’’مخزن‘‘ پرتحریر کردہ وہ مقالہ ہے، جس پرانھیں حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی ہے۔

30 اکتوبر1966ء کو لاہور میں محکمہ انہار میں ملازم محمد طاہر عثمانی کے گھرآنکھ کھولنے والے محمد ہارون عثمانی سے ہم نے پوچھا’’لائبریری سائنس کے بجائے اردو میں ڈاکٹریٹ کیوں کیا؟سوال کا جواب یوں رہا‘‘لائبریری سائنس میں ڈاکٹریٹ کا خیال تھا لیکن 2006ء میں جرمنی گیاتودیکھا کہ وہاں کے لائبریری سائنٹسٹ جو ہیں انھوں نے ماسٹرز کے بعدپی ایچ ڈی کسی دوسرے مضمون میں کیاہوا ہے۔اس سے میرے ذہن میں آیامیں لائبریری سائنس میں تخصص اسی صورت حاصل کرسکتا ہوں اگر میں اورینٹل لائبریری شپ کی طرف آؤں۔ایم فل جب میں نے کیا تو اس وقت لائبریری سائنس میں اس ڈگری کا اجرانہیں ہواتھا،اس لیے اردو کا انتخاب کرلیا۔ڈاکٹریٹ بھی پھراردو میں کرنے کا فیصلہ کیا، اردو ادب ایک تو میرا شوق ہے، دوسرے جس پروفیشن میں ہوں، اس کی سپورٹ بھی حاصل ہورہی تھی۔میں نے اگرڈاکٹریٹ کیا ہے تواس میں لائبریری سائنس کا بڑا کردار ہے۔‘‘

لائبریری سائنس کے شعبہ کا رخ کرنے کی وجہ ایک تو یہ رہی کہ بچپن سے لائبریریوں کے ماحول سے مانوس تھے، دوسرے ان کے عزیزپہلے سے اس شعبے میں موجود تھے، جن سے یہ متاثرتھے۔1990ء میں ایم اے کرنے ارادہ کیا تو بی اے میں فرسٹ ڈویژن کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملا۔اس پرمایوس ہونے کے بجائے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکا رخ کرلیا جہاں میرٹ لسٹ میں ان کا آخری نمبرتھا۔وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ شعبہ ابھر رہا تھا اور اس کے بارے میں ڈل مضمون ہونے کا تاثردم توڑ رہا تھا۔کہتے ہیں، اب بھی معاشرے میں اس مضمون کے بارے میںذہن صاف نہیں، اور زیادہ تر لوگ اسے کلرکانہ نوعیت کا کام سمجھتے ہیں۔تیرہ برس قائد اعظم لائبریری میں لائبریرین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ہارون عثمانی کا کہنا ہے کہ مغرب میں لائبریری سائنس کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔وہ مثال دیتے ہیں کہ لائبریری آف کانگریس کے سربراہ کا تقرر صدر امریکا کرتا ہے، اور وہ اسی کو جوابدہ ہوتاہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے ہاں بھی معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں، اور لائبریرین پہلے سے کہیں بہترتنخواہ پارہے ہیں۔گذشتہ چھ برس سے پنجاب یونیورسٹی میں ڈپٹی چیف لائبریرین کی حیثیت سے تعینات ان صاحب سے ہم نے جاننا چاہا کہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو کس خاص وجہ سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔اس بابت بتاتے ہیں۔’’ پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں بائیس ہزارمخطوطات ہیں۔ پاکستان میں کسی ایک جگہ اتنا بڑا ذخیرہ نہیں۔ نوہزارمخطوطے سنسکرت کے ہیں۔چارپانچ ہزارپام لیف پر ہیں۔یہ بہت بڑا خزانہ ہے، جس پرکام ہونا چاہیے۔‘‘

2006ء میں جرمنی لائبریری ایسوسی ایشن کی دعوت پرجرمنی گئے اور وہاں کے تین شہروں کی پندرہ لائبریریوں سے متعلق رپورٹ لکھی، جس کو جرمن زبان میں ترجمہ کرکے چھاپا گیا۔اپنے ہاں پبلک لائبریریوں کو زیادہ اہمیت نہ ملنے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے جرمنی کی مثال دی جہاں ہرعلاقے میں کمیونٹی لائبریری موجود ہے، جس میں عام طورپرسات آٹھ لاکھ کتب موجود ہوتی ہیں، جبکہ پنجاب یونیورسٹی جو پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری ہے، اس میں چھ لاکھ کے لگ بھگ کتب ہیں۔پنجاب میں پبلک لائبریریوں کے لیے ان کے خیال میں گورنر جیلانی کا دور سب سے اچھا رہا، جس میں لاہور میں قائد اعظم لائبریری، اور ماڈل ٹاؤن لائبریری بنی۔ساہی وال اور گڑھ مہاراجہ میں بھی پبلک لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔ صورت حال میں بہتری کے لیے ان کے خیال میں پبلک لائبریری لیجسلیشن ہونی چاہیے۔وہ تجویز کرتے ہیں کہ حکومت ہرنئی سکیم کی منظوری کو لائبریری کے لازمی قیام سے مشروط کردے۔ ان کے خیال میں اچھے لائبریرین کو تین خوبیوں سے متصف ہونا چاہیے۔اول:پروفیشنل ڈگری۔ دوم:managerial skills۔سوم:ادبی ذوق۔لائبریری کے حوالے سے ان کے خیال میں اچھا منتظم ہونے کا معنی یہ بھی ہے کہ آپ معلومات کی ترسیل کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں کیونکہ آج کے دور میں کتاب ہی نہیں لوگوں کو بعض اوقات صرف معلومات درکار ہوتی ہے۔ اس بات پردکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ثقافتی ورثے کے تحفظ کا احساس نہیں پایا جاتا۔مستقبل میں وہ فکر تونسوی کی تحریروں کو مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔