جادوئی گولی؛ دشمن کا دشمن دوست (دوسرا حصہ)

ڈاکٹر ابراہیم رشید شیرکوٹی  اتوار 6 نومبر 2022
فیلکس نے پہلی مرتبہ ایسے وائرس کو دریافت کیا تھا جو صرف جراثیم کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ (فوٹو: فائل)

فیلکس نے پہلی مرتبہ ایسے وائرس کو دریافت کیا تھا جو صرف جراثیم کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ (فوٹو: فائل)

’’1910 کا ذکر ہے، جب میں میکسیکو کی ریاست یوکاٹان میں تھا کہ وہاں ٹڈی دل کا حملہ ہوگیا۔ اسی دوران مقامی افراد نے مجھے اطلاع دی ایک جگہ بہت ساری ٹڈیاں مردہ حالت میں موجود ہیں۔ اس حیرت ناک خبر کی تصدیق کےلیے میں نے اس جگہ کا خود مشاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے وہاں ہزاروں کی تعداد میں یہ کیڑے مردہ اور نیم مردہ حالت میں ہر جگہ بکھرے پڑے نظر آئے۔ ان کے قریبی مشاہدے سے اندازہ ہوا کہ انہیں اسہال جیسی علامات والی بیماری لاحق تھی جو ان کے لشکروں کے لشکر کا زور توڑنے پر قادر تھی۔ میں نے کچھ بیمار زندہ ٹڈیاں تحقیق کی غرض سے جمع کیں اور اپنی تجربہ گاہ واپس آگیا۔

کچھ تجربات کے بعد ٹڈیوں کی بیماری کا باعث ایک کوکوبیسی لیس نامی جرثومہ ثابت ہوا۔ یہ جرثومہ میرے جمع کی گئی بیمار ٹڈیوں کے دستوں میں کثیر تعداد میں موجود تھا۔ جب اس جرثومہ کو صحت مند ٹڈیوں کی خوراک میں شامل کیا گیا تو وہ سب بھی نہ صرف بیمار ہوئے بلکہ ان کی ہلاکت کا باعث بھی یہی جرثومہ بنا۔ اس جرثومہ کی مدد سے ٹڈی دل کے حملوں کو باآسانی روکا جاسکتا تھا اور اس کےلیے محض اتنا کرنے کی ضرورت تھی کہ ٹڈیوں کی غذا یعنی فصلوں پر اس جرثومے کا اسپرے کردیا جائے۔ جیسے جیسے یہ اسپرے شدہ فصلوں کو کھانے کی کوشش کریں گے، ویسے ویسے کوکوبیسی لیس ان کو بیمار اور ہلاک کرتا جائے گا۔‘‘

یہ الفاظ ہیں ایک فرانسیسی کینیڈین محقق فیلکس ڈی ہرلی کے۔

تحریر کا پہلا حصہ یہاں سے پڑھیے: جادوئی گولی؛ جراثیم کش دواؤں کی ابتدا

فیلکس نے فرانس میں خورد حیاتیات کی تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دنیا بھر میں گھومتے پھرتے اور جراثیم پر تحقیق کرتے گزارا۔ میکسیکو میں ملازمت کے دوران فیلکس نے ٹڈی دل کے ہاتھوں پھیلنے والی تباہی کو روکنے کا طریقہ اتفاقیہ طور پر دریافت کیا جس کا احوال آپ خود فیلکس کے الفاظ میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن فیلکس کے سر صرف ٹڈی دل سے بچاؤ کا سہرا ہی نہیں بندھتا۔ آئیے واپس چلتے ہیں فیلکس کی تجربہ گاہ میں اور دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

’’آنے والے کئی سال میں نے ٹڈی دل کے حملے کے تدارک کےلیے مختلف ملکوں میں تجربات کرتے گزار دیے۔ ان برسوں میں کو کوبیسی لیس کی افزائش کے دوران مجھے ایک عجیب امر کا مشاہدہ ہوا۔ ایک صبح جب میں نے اپنے گزشتہ دن کے افزائش پر لگائے ہوئے کوکوبیسی لیس کو دیکھا تو مجھے ان کی سطح پر شفاف دائرے نظر آئے، بالکل ایسے کہ جراثیم کے بجائے پانی کے شفاف قطرے ہوں۔ یہ ہرگز کوئی نئی دریافت نہیں تھی کیونکہ مجھ سے پہلے بھی کئی محققین اس امر کا مشاہدہ کرچکے تھے۔‘‘

’’مجھے جراثیم کی افزائش کے دوران میڈیا کی سطح جسے مکمل طور پر جراثیم سے پُر ہونا چاہیے تھا، وہاں کچھ چھوٹے چھوٹے شفاف دائرے کی شکل کے دھبے نظر آئے۔ ایسا لگتا تھا کہ ان دائروں میں موجود جراثیم نے اپنا رنگ بالکل ہی ختم کردیا ہو۔ میں نے ان شفاف دائروں سے کچھ نمونے لیے اور ان کا خوردبینی جائزہ لینے کی کوشش کی لیکن کچھ نظر نہیں آسکا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہاں موجود جراثیم گویا غائب ہوگئے ہیں۔ کچھ مزید تجربات کے بعد میں نے ہی نتیجہ اخذ کیا کہ جو بھی چیز ان شفاف دائروں یا دھبوں کا باعث تھی وہ ان جراثیم کے مقابلے میں نہایت چھوٹی تھی کہ نہ تو خوردبین میں نظر آسکی اور نہ ہی جراثیم کو روکنے والا فلٹر انھیں روک سکا۔ ان دھبوں یا دائروں کا نمودار ہونا بالکل غیر یقینی امر تھا، کبھی کبھار تو ہفتوں تک ایک دھبہ بھی نظر نہ آتا اور کبھی ایک میڈیا پر کئی کئی دھبے موجود ہوتے۔ دوسرے الفاظ میں جب تک ان کی اصل وجہ کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو تب تک میں اپنی مرضی کے مطابق نہ تو ان پر کام کرسکتا تھا اور نہ ہی ان کی موجودگی کو مکمل طور پر ختم کرنے پر قادر تھا۔

(جراثیم کو افزائش کےلیے خوراک عمومی طور پر دو طریقوں سے فراہم کی جاتی ہے، ایک ٹھوس جیلی کی شکل میں جسے میڈیا کہا جاتا ہے جبکہ دوسری مائع یا محلول کی شکل میں جسے بروتھ کہتے ہیں۔ جراثیم کا اپنا رنگ عام طور پر سفیدی مائل زرد ہوتا ہے، اگرچہ کچھ جرثومے کافی رنگین مزاج ہوتے ہیں، میرا مطلب ہے کہ وہ مختلف رنگدار مادے بناتے ہیں جو کہ انھیں رنگین کردیتے ہیں۔ جیسے جیسے جراثیم کی تعداد بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے وہ میڈیا کی اوپری سطح پر پھیلتے جاتے ہیں اور پھر کچھ گھنٹوں بعد میڈیا کے بجائے صرف جراثیم کا سفید/ پیلا رنگ ہی نظر آتا ہے۔)

مارچ 1915 میں جبکہ پہلی جنگِ عظیم پوری شدت سے جاری تھی، میں اپنے کچھ تجربات کی غرض سے تیونس میں مقیم تھا کہ انھی ایام میں وہاں ٹڈی دل کا حملہ ہوا۔ جنگ کی وجہ سے زرعی اجناس کی اہمیت عام حالات کی نسبت ویسے ہی دوچند تھی، لہٰذا میرے گزشتہ تجربات کی روشنی میں مجھے فصلوں کو بچانے کی ذمے داری تفویض کی گئی، جسے میں نے بخوبی نبھایا اور زیادہ مزیدار بات تو یہ ہے کہ میرے فرانس جانے کے بعد اگلے برس جب پورے شمالی افریقہ میں ٹڈیوں کی یلغار جاری تھی، تیونس اس وقت بھی ان آفت کے پرکالوں سے محفوظ رہا۔

تیونس میں بھی ان شفاف دھبوں نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اور گاہے بگاہے افزائشی میڈیا پر نظر آتے رہے۔ ان دھبوں کے بارے میں، میں نے اپنے ایک سینئر چارلس نیکول سے مشورہ کیا۔ چارلس نے تجویز دی کہ عین ممکن ہے کہ کوکوبیسی لیس کے بجائے درحقیقت کوئی وائرس ٹڈیوں کو بیمار کرتا ہو اور یہ جرثومہ غلطی سے اضافی طور پر موجود ہو۔

اس مفروضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے ایک تجربہ کیا کہ جراثیمی افزائش والے میڈیا سے دو نمونے لیے، ایک شفاف دھبے سے اور دوسرا جراثیم والا، اور انھیں صحتمند ٹڈیوں کی غذا میں شامل کرکے ان کی بیماری کا انتظار کرنے لگا۔ چارلس کے مفروضے کے برعکس ان شفاف دھبوں والے نمونوں سے ایک کیڑا بھی بیمار نہیں ہوا۔‘‘

(بیسویں صدی کے آغاز سے ذرا پہلے ہی ایک روسی سائنس دان دیمیتری آئیوانوسکی پہلے وائرس کو دریافت کرچکے تھے اور ایک بیلجیئن سائنسدان مارٹینس بئی جرینک نے اپنے تجربات کے ذریعے یہ ثابت کردیا تھا کہ وائرس جراثیم سے مختلف بالکل نئی قسم کے طفیلیہ جاندار ہیں۔)

اگست 1915 میں میری فرانس واپسی کے بعد ڈاکٹر روکس نے مجھ سے فرانسیسی فوج کے گھڑسوار دستے میں پھیلی پیچش کی وبا پر تحقیق کےلیے مدد مانگی۔ اس دستے کے تمام سپاہی پیچش کا شکار ہوکر اسپتال میں داخل ہورہے تھے۔ ان سپاہیوں کی حالت دیکھ کر ایک دم مجھے خیال آیا کہ ان سپاہیوں اور ٹڈیوں کی بیماری کی علامات ایک جیسی ہیں تو شاید میرے پچھلے تجربات ان سپاہیوں کی بیماری کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکیں۔ اپنے اس خیال کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے تجربات شروع کردیے، اور بیمار سپاہیوں سے نمونے لے کر جراثیم کھوجنے لگا۔ یہاں بھی شفاف دھبوں نے میرا پیچھا نہ چھوڑا اور جراثیمی افزائش کے دوران نظر آتے رہے۔

چارلس نیکول کے مفروضے کو ایک بار پھر جانچنے کےلیے میں نے ان شفاف دھبوں کو خرگوشوں کی غذا میں ملا کر دیکھا لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات والا ہی نکلا کہ ان خرگوشوں میں بھی پیچش کی ایک بھی علامت پیدا نہ ہوسکی۔ ان دنوں پیرس میں قائم پاسچر انسٹیٹیوٹ (جہاں میں اپنے تجربات کررہا تھا) کے اسپتال میں پیچش کے کئی مریض داخل ہورہے تھے۔ اپنے تجربات کی روشنی میں ان مریضوں کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ کسی ایک مریض کو اسپتال میں داخلے سے لے کر مکمل صحتیاب ہونے تک میں اپنی نگرانی میں رکھوں اور اس سے حاصل ہونے والے نمونوں کا مستقل جائزہ لیتا رہوں۔ میرا مقصد اس بات کی جانکاری لینا تھا کہ مریض کی صحتیابی کے سفر کے دوران اس کی آنتوں میں موجود جرثومہ پر کوئی اثر پڑتا بھی ہے یا نہیں اور وہ شفاف دھبے کس وقت نمودار ہوتے ہیں۔

اپنے اس تجربے کےلیے سب سے پہلے میں نے اسپتال میں داخل ہونے والے ایک مریض کا نمونہ لیا اور اس میں سے پیچش پیدا کرنے والا جرثومہ شیگیلا آئیسولیٹ کیا، اور اس کو نہ صرف جیلی کی شکل والے میڈیا پر بلکہ ساتھ ساتھ بروتھ پر بھی افزائش کرنے پر لگا دیا۔‘‘

(جراثیم کی افزائش کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ میڈیا کی سطح پر تھوڑی سی مقدار میں جراثیم لگا دیے جاتے ہیں، جو کہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے ہوئے عموماً اگلے دن یعنی 24 گھنٹوں میں میڈیا کی پوری سطح کو ڈھانپ لیتے ہیں کہ میڈیا کے بجائے صرف جراثیم کا سفید/ پیلا رنگ ہی نظر آتا ہے۔ میڈیا کی طرح بروتھ میں بھی جراثیم کی معمولی سی تعداد شامل کی جاتی ہے اور 24 گھنٹوں بعد اس میں بھی افزائش کا اندازہ بروتھ کی رنگت دیکھ کر ہوجاتا ہے۔ جراثیم کے بغیر بروتھ بالکل ایسا ہی شفاف ہوتا ہے جیسے پانی میں گھلا ہوا روح افزا شربت، یعنی شربت کا اپنا سرخ رنگ تو ہے لیکن بالکل شفاف، اور جب بروتھ میں جراثیم مکمل طور پر افزائش کرچکے ہوں تو اس کی شکل پانی کے بجائے دودھ میں گھلے روح افزا جیسی ہوجاتی ہے، جو کہ اس قدر گدلہ ہوتا ہے کہ اس سے آرپار نہیں دیکھا جاسکتا۔)

’’جب ایک بار شیگیلا کامیابی سے آئیسولیٹ ہوگیا اور افزائش کے نتائج آنے لگے تو میں نے افزائش والے میڈیا میں اسی مریض کے دستوں کو فلٹر کرکے شامل کرنا شروع کردیا۔ دستوں کو فلٹر کرنے کا مقصد جراثیم کو علیحدہ کرکے صرف ان شفاف دھبوں کا مشاہدہ کرنا تھا۔ اب میرے تجربات کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ میرے پاس شیگیلا کا جرثومہ موجود تھا، اس کو میں میڈیا اور بروتھ دونوں میں بیک وقت افزائش کےلیے لگاتا اور ساتھ ہی ان دونوں میں مریض کے دستوں کا فلٹر شدہ نمونہ بھی شامل کردیتا، اور ان کو 37 ڈگری سینٹی گریڈ پر انکیوبیٹ ہونے کےلیے رکھ دیتا تاکہ اگلے دن افزائش کے نتائج آسکیں۔
یہی تجربہ میں روزانہ کی بنیاد پر کرنے لگا۔

پہلے دن میں نے جب جرثومہ کو فلٹر شدہ نمونوں کے ساتھ افزائش پر لگایا تو مجھے امید تھی کہ یہ دھبے ضرور نظر آئیں گے لیکن جب اس تجربے کا نتیجہ آیا تو مجھے بڑی مایوسی ہوئی کہ ایک بھی دھبہ موجود نہیں تھا۔ خیر میں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور تندہی کے ساتھ اپنے کام میں مگن رہا۔ اگلے دو دن بھی وہی نتیجہ ملا اور میری جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہونے لگا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور دوپہر میں تجربہ پھر سے شروع کیا اور اس دن کے نمونے فلٹر کرکے جراثیم کے ساتھ میڈیا اور بروتھ دونوں میں شامل کردیے اور باقی کے کام نمٹا کر گھر کی راہ لی۔

اگلے دن صبح کو نیم دلی کے ساتھ جب میں نے اپنی لیباریٹری میں موجود انکیوبیٹر کا دروازہ کھولا تو گویا میری تمام تر محنت، جھنجھلاہٹ اور تکالیف کا مداوا میری نظروں کے سامنے تھا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کے انتظار میں ہر محقق، ہر سائنسدان دن رات اپنے تجربات کی خاطر ہر طرح کی مشقتیں اور تکالیف برداشت کرتا ہے، جیسے ارشمیدس سب کچھ بھول بھال کر صرف ایک تولیہ لپیٹے ’یوریکا، یوریکا‘ کے نعرے مارتے سسلی کی گلیوں میں بھاگتا پایا گیا تھا۔ میری حالت بھی کچھ ایسی شادیٔ مرگ والی ہی تھی، کیونکہ میرے پچھلے روز کے نتائج (جوکہ بالکل گدلے تھے) کے مقابلے میں آج کا بروتھ بالکل شفاف تھا جیسے میرے جرثومے پانی میں چینی کی طرح حل ہوگئے ہوں۔ میں نے فوراً ہی میڈیا کو دیکھا تو وہاں بھی جراثیم کا نام و نشان نہیں تھا۔ مطلب آج کے نتائج میں شفاف دھبے بنانے والا عنصر موجود تھا۔ ان شفاف دھبوں کا عقدہ ایک لمحہ کے اندر میرے سامنے کھل گیا تھا۔ یہ دھبے ایک ایسے وائرس کی وجہ سے بن رہے تھے جو کہ صرف اور صرف جراثیم کو ہی نقصان پہنچا سکتا تھا۔

ابھی میں اس پہیلی کے سلجھنے کے سرور میں تھا کہ مجھے اپنے مریض کا خیال آیا۔ کل تک اس بیچارے کا بیماری کی شدت سے برا حال تھا، اب پتہ نہیں اس کی طبعیت کیسی ہوگی۔ اگر ان وائرسوں نے میرے تجربہ میں پیچش کے جرثومہ کا یہ حال کردیا ہے تو مریض کی آنتوں میں موجود جراثیم پر ان کا کیا اثر ہونا چاہیے اور مجموعی طور پر مریض کی حالت کیسی ہونی چاہیے۔ اسی سوچ میں غلطاں میں بھاگم بھاگ مریض کے وارڈ پہنچا۔ مریض کی حالت رات سے بہتر ہورہی تھی اور اس کی صحتیابی کا سفر شروع ہوچکا تھا۔‘‘

فیلکس نے پہلی مرتبہ ایسے وائرس کو دریافت کیا تھا جو کہ صرف اور صرف جراثیم کو نقصان پہنچا سکتا تھا، اگرچہ اس سے پہلے آئیوانوسکی سب سے پہلے وائرس کو دریافت کرچکے تھے لیکن وہ وائرس تمباکو کے پودے کو ہی انفیکٹ کرسکتا تھا۔

فیلکس کی اس دریافت نے بیماری پھیلانے والے جراثیم کے مقابلے میں ایک نیا ہتھیار فراہم کردیا تھا۔ وائرسوں کی اس قسم کو فلیکس نے ’بیکٹیریو فیج‘ یعنی ’جرثومہ خور‘ کا نام دیا۔ فیلکس کی یہ دریافت جراثیم کے خلاف جنگ میں سال ورسان 606 کے بعد دوسری اہم کامیابی ہے۔ اپنی اس دریافت کے بعد فیلکس نے اپنے تجربات کی روشنی میں کئی ممالک میں جرثومہ خور وائرسوں پر تحقیقی مراکز قائم کرنے میں مدد دی جن میں سرِفہرست سوویت یونین تھا۔
(جاری ہے)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد ابراہیم رشید شیرکوٹی

ڈاکٹر ابراہیم رشید شیرکوٹی

بلاگر مائیکرو بائیولوجی میں پی ایچ ڈی ہیں اور سائنس کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی پیش رفت، تاریخ اور روزمرہ کے واقعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔