قوانین کی خلاف ورزی اور ماس ٹرانزٹ نظام نہ ہونے سے ٹریفک حادثات بڑھ گئے

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 27 مارچ 2014
کورنگی روڈ پرگورا قبرستان کے سامنے واٹر بورڈ کا کارکن فراہمی آب کی لائن ویلڈنگ سے جوڑ رہا ہے ۔ فوٹو : عرفان علی/ ایکسپریس

کورنگی روڈ پرگورا قبرستان کے سامنے واٹر بورڈ کا کارکن فراہمی آب کی لائن ویلڈنگ سے جوڑ رہا ہے ۔ فوٹو : عرفان علی/ ایکسپریس

کراچی: سال2013 میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی،گاڑی چلانے کے دوران موبائل فون کے استعمال، ہیلمٹ نہ پہننے، ماس ٹرانزٹ سسٹم کے نہ ہونے اور شاہراہوں پر بے شمار بل بورڈ اور سائن بورڈ آویزاں ہونے سے ٹریفک حادثات میں 33000 افراد زخمی اور 1130افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ نظام کے موثر نہ ہونے کے باعث روز بروز ٹریفک حادثات میں بڑھتے اضافے سے کراچی خطرناک شہر بن گیا ہے جس میں شاہراہ فیصل اورکورنگی روڈ پر 400 سے زائد ٹراما کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے اور کورنگی صنعتی علاقے میں گزشتہ سال 50 سے زائد خطرناک ٹریفک حادثات ہوئے ہیں، شہر میں67 فیصد موٹر سائیکل سوارزخمی اور47 فیصد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں86 فیصد موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ نہ پہننے کے باعث زخمی ہوئے، 10فیصدکار چلانے والے ٹریفک حادثوں کا شکار ہوئے ،مختلف ٹریفک حادثات میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت 16سے 36 سال کے افراد کی تھی، ٹریفک حادثات میں 84 فیصد مرد جبکہ 16فیصد خواتین شامل تھیں اور68 فیصد افراد سر پر چوٹ لگنے سے ہلاک اور24 فیصد زخمی ہوچکے ہیں، 44فیصد ٹریفک حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے اور 22 فیصد حادثات ڈرائیوروں کی غفلت سے پیش آئے۔

سب سے زیادہ حادثات 56 فیصد جناح اسپتال، 22 فیصد عباسی شہید اسپتال اور20 فیصد سول اسپتال میں رپورٹ ہوئے، پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل اسد جہانگیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ شہر میں خطر ناک ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے موٹر وے پولیس کا ٹریفک نظام لانا ضروری ہے اور حکومت کو ٹریفک قوانین پر شہریوں کو سختی سے عملدرآمد کرانے کے علاوہ ٹوٹی سڑکوں کی مرمت، ٹریفک جام کی روک تھام سے متعلق اقدامات اور سگنل پر جدید ٹیکنالوجی بھی متعارف کرانے کی ضرورت ہے، روڈ ٹریفک انجریز ریسرچ اینڈ پریوینشن سینٹر کے سر براہ ڈاکٹر رشید جمعہ نے بتایا کہ شہری ادارے جس میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کنٹونمنٹ بورڈ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شامل ہیں، زمینوں کا تجارتی مفاد میں زیادہ استعمال کر رہے ہیں ہرطرف تشہیری مہم کے لیے بل بورڈ اور سائن بورڈ لگے ہوئے ہیںجس سے گاڑی چلانے والوں کا دیہان بٹ جاتا ہے اور ٹریفک حادثات زیادہ ہورہے ہیں اس کے علاوہ دوران سفرموبائل فون کے استعمال سے بھی ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔