احتجاج اور راستوں کی بندش

راجہ کامران  ہفتہ 5 نومبر 2022
احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کی مشکلات کا خیال رکھا جائے۔ (فوٹو: فائل)

احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کی مشکلات کا خیال رکھا جائے۔ (فوٹو: فائل)

نماز جمعہ میں خطیب صاحب نے خطبے کے بعد ایک اہم حدیث کی تعلیم فرمائی کہ مسلمان کو اذیت دینا حرام ہے۔ اس حدیث کے ساتھ ہی مولانا صاحب نے مقتدیوں کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ جب نماز کےلیے آئیں پارگنگ درست طور پر کریں تاکہ راستہ بلاک نہ ہو اور نہ ہی آپ سڑک پر مخالف سمت سے گاڑی چلائیں اور اس اصول کی پابندی اس وقت بھی کریں جب آپ کو نماز کی جماعت میں بھی تاخیر ہورہی ہو۔

خطیب صاحب کی بات سن کر مجھے گزشتہ روز عمران خان پر فائرنگ کے بعد شہر میں ہونے والے دھرنوں سے عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا اندازہ ہوا۔ گزشتہ روز تقریباً چھ بجے میں اپنے دفتر سے گھر کےلیے نکلا تو ڈیفنس کو کورنگی سے ملانے والی چورنگی کو احتجاج کے باعث بند پایا۔ اس وجہ سے مجھے قیوم آباد کی تنگ گلیوں کا رخ کرنا پڑا اور وہاں سے بھی میں جس بڑی سڑک پر نکلنے کی کوشش کرتا وہاں ٹریفک بلاک ملتا۔ جب میں بچتا بچاتا چورنگی کے قریب پہنچا تو چند افراد کو سڑک کے درمیان بیٹھا پایا۔ مگر اس احتجاج اور چورنگی کی بندش کی وجہ سے بلامبالغہ ہزاروں افراد ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے۔ جس وقت سڑک کو بلاک کیا گیا اس وقت کورنگی کے صنعتی علاقے سے چھٹی ہوئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں دن بھر محنت مشقت کرکے گھر جانے والے افراد راستے کی بندش کی وجہ سے گاڑیوں، بسوں، موٹرسائیکلوں پر بے یار مددگار بے بسی کی تصویر بنے گھنٹوں سے پھنسے ہوئے تھے۔

گلیوں سے ہوتے ہوئے جب آگے بڑھا تو شاہراہِ فیصل بھی شدید جام تھی۔ کچھوے کی رفتار سے ٹریفک چند انچ آگے بڑھتا اور پھر رک جاتا۔ اسی طرح رینگتے رینگتے شاہراہ فیصل پر نرسری کے مقام پر پہنچے تو احتجاجی دھرنا جاری تھا۔ کارکنوں نے ایک ٹرک پر اسٹیج بنا کر گانے لگائے ہوئے تھے اور ایئرپورٹ سے صدر جانے والی سڑک مکمل طور پر جبکہ صدر سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک جزوی طور پر بلاک کردی گئی تھی۔ یہاں سے نکلنے کے بعد یوں لگا کہ شاید پوری شاہراہ فیصل خالی پڑی ہے۔

ڈرگ روڈ پر آکر دوبارہ ٹریفک جام ملا اور پھر وہی کچھوے کی رفتار اور ہم۔ موٹر سائیکل پر بار بار کلچ دبانے سے کلائی میں شدید درد شروع ہوچکا تھا اور بھوک بھی عروج پر تھی۔ اس ٹریفک جام میں بہت سی لڑکیاں بھی تھیں جو دفاتر یا جامعات میں شام کی کلاسیں لے کر گھر جارہی تھیں۔ مگر سب سے بری حالت بچوں کی تھی جو اس ٹریفک جام میں پھنس چکے تھے۔ ایک گاڑی کے قریب میری بائیک کافی دیر سے رکی ہوئی تھی، جس میں ایک خاندان کافی دیر سے اس ٹریفک جام کو جھیل رہا تھا۔ اس میں بچوں کے مسلسل رونے کی وجہ سے ماں بھی پریشان تھی اور گھنٹوں سے گاڑی میں بیٹھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ موجود بزرگ کے چہرے پر بھی کرب کے اثرات نظر آرہے تھے۔ ڈرگ روڈ پر ٹریفک جام کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آئی کہ مسلسل کھڑے رہنے اور انجن چلانے کی وجہ سے گاڑیوں میں ایندھن ختم ہورہا تھا اور ان کے سوار گاڑیوں کو دھکا لگا کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کررہے تھے۔

آہستہ آہستہ جب اسٹار گیٹ پہنچے تو انکشاف ہوا کہ یہاں بھی دھرنا چل رہا ہے۔ کارکنوں نے ایئرپورٹ سے صدر جانے والے راستے کو بلاک کیا ہوا تھا۔ بہرحال چھ بجے دفتر سے نکلا تھا اور رات دس بجے کے بعد گھر پہنچا۔ ویسے عام طور پر یہ راستہ 30 سے 35 منٹ میں طے ہوجاتا تھا۔ گھر پہنچ کر اس قدر نڈھال ہوچکا تھا کہ موٹرسائیکل کو کھڑا کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔

گھر پہنچ کر خبروں تک رسائی ہوئی تو پتہ چلا کہ شہر میں 10 سے 12 مقامات پر دھرنوں کی وجہ سے ٹریفک جام ہے اور لوگ تاحال اپنی اپنی منزل پر نہیں پہنچے ہیں۔ کہیں کہیں پر مظاہرین نے ٹائر بھی جلائے، اس کے علاوہ مظاہرین اور راہ گیروں میں جھگڑوں کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں اور ملک بھر میں اسی طرح کی صورتحال ہے۔ سب سے زیادہ بری حالت پشاور میں احتجاج کی ہے۔

پاکستان میں یہ عجیب طریقہ کار ہے کہ اپنے احتجاج کےلیے چند لوگ سڑک بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور ہزاروں لوگ اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ پانی کی قلت ہو یا دیگر بلدیاتی خدمات، ہم جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کا راستہ اپناتے ہیں اور اس عمل سے نہ صرف مسلمان بھائی یا بہن کو اذیت دیتے ہیں بلکہ ان کی املاک کو نقصان پہنچا کر اس کو مالی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

عوام کے اس رویے کی ترویج ہمارے سیاسی کلچر میں نمو پانے والا رویہ ہے۔ اور جیسا کہ گزشتہ جمعرات کو سیاسی ورکروں کی وجہ سے کراچی سمیت پورے ملک کی سڑکوں کے بند ہونے سے کروڑوں لوگوں اذیت کا شکار رہے۔ مگر اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کو الزام دینا درست نہیں۔ کیونکہ اس سے قبل سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں نے بھی ایسے دھرنوں کی روایت قائم کی ہے کہ کئی کئی دنوں تک شہروں اور پورے ملک کو مفلوج کردیا گیا ہو۔ اس لیے کوشش کرنا چاہیے کہ راستوں کو کھلا رکھا جائے۔ یہاں میں نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث بیان کرنا چاہوں گا:

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستوں ميں بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولﷺ! ان مجلسوں کے بغیر تو چارہ نہیں کیوں کہ ہم انہی میں ہی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذا نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔

راستے کی بندش کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے بہت سخت احکامات بھی دیے ہیں۔

ایک مرتبہ جہاد کے ایک سفر میں لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں اور راستے بند کردیے۔ اس پر اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کسی کو بھیج کر لوگوں میں یہ اعلان کروایا: جس نے منزل تنگ کی یا راستہ بند کیا تو اس کا کوئی جہاد نہیں۔ (ابو داؤد)

اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر آپ جہاد پر بھی نکلے ہوئے ہوں تو بھی آپ کو عوامی حقوق کا خیال رکھنا ہوگا اور راستے کو بند کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

ہمیں سڑکوں ہی نہیں بلکہ وہ تمام گزرگاہیں جوکہ آمدورفت کےلیے کھلی رکھنی چاہئیں جیسا کہ فٹ پاتھ وغیرہ بھی، مگر یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان عوامی گزرگاہوں پر دکانیں لگا کر بھی راستہ بند کردیا جاتا ہے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آئین جہاں ہر پاکستانی کو احتجاج کا جمہوری حق دیتا ہے وہیں یہ آئین باقی تمام شہریوں کے حق آمدورفت کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے احتجاج کرتے وقت یا خوشی مناتے وقت دونوں صورتوں میں دیگر لوگوں کی مشکلات کا خیال رکھتے ہوئے اپنے حقوق کا استعمال کیا جائے، بصورت دیگر جہاں دیگر لوگوں کے حقوق سلب ہوں وہاں احتجاج کا حق بھی سلب ہوجاتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ کامران

راجہ کامران

بلاگر سینئر اکانومی جرنلسٹ ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہی۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @rajajournalist پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔