کراچی، گلستان جوہر کے فلیٹ میں گیس لیکج کے دھماکے سے ماں بیٹی جاں بحق

منور خان  ہفتہ 5 نومبر 2022
فوٹو اسکرین گریپ

فوٹو اسکرین گریپ

 کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں واقع فلیٹ میں گیس لیکج کے باعث ہونے والے دھماکے میں ماں اور بیٹی جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر بلاک 12 میں راڈو بیکری کے قریب رہائشی عمارت کی دوسری منزل پر واقع فلیٹ میں گیس لیکیج سے ہونے والے دھماکے میں بچوں اور خواتین سمیت مجموعی طور پر 15 افراد زخمی ہوئے جس میں جھلسنے والی ماں اور بیٹی سول اسپتال کے برنس وارڈ میں دوران علاج جاں بحق ہوگئیں۔

دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی جبکہ واقعے کے بعد مکین بھی خوف زدہ ہوگئے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، چھیپا اور ایدھی کے رضا کار موقع پر پہنچے اور مکینوں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، ریسکیو حکام نے زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریب میں قائم نجی اسپتال پہنچایا جس کے بعدزخمی ہونے والوں کو سول اسپتال برنس وارڈ منتقل کر دیا گیا۔

ایدھی حکام کے مطابق واقعہ میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جھلس کر شدید زخمی ہونے  40 سالہ ثنا  اور اس کی بیٹی 18 سالہ علیشبا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گئیں۔

زخمی ہونے والوں میں متوفیہ کا بیٹا حمزہ 26 سال اور 45 سالہ عمر بادشاہ سمیت 4 زخمی سول اسپتال برنس وارڈ میں زیر علاج ہیں جبکہ کچھ زخمی دیگر نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں 5 سالہ زاویان، 10 سالہ عبداللہ ، 25 سالہ رمشا ، 38 سالہ خاتون گل زیب ، 6 ماہ کا علیان نعمان ، 35 سالہ کامران ، 6 ماہ عبیحہٰ ، 20 سالہ عروج ، 45 سالہ ساجدہ اور 29 سالہ نورین کے ناموں سے کی گئی۔

مکینوں کے مطابق دھماکا گیس لیکیج کی وجہ سے ہوا، جس میں مجموعی طور پر 3 فلیٹس متاثر ہوئے اور دیواریں ، کھڑکیاں، دروازے اکھڑ گئے جبکہ دھماکے سے عمارت میں قائم دیگر فلیٹوں کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ کر چکنا چور ہوگئے اور متاثرہ فیلٹ کی بالکونی کا کچھ حصہ بھی نیچے جا گرا، جس سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بم ڈسپوزل یونٹ نے ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا کہ دھماکا فلیٹ نمبر 212 ، 213 اور 214 کا معائنہ کیا گیا جبکہ دھماکا گیس لیکیج کی وجہ سے پیش آیا۔ بی ڈی ایس نے جائے وقوعہ سے کچھ نمونے قبضے میں لیکر فارنسک کے لیے تحویل میں لے لیے ہیں جس کی رپورٹ آنے پر صورتحال مزید واضح ہو جائیگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔