طالبان سے مذاکرات: مثبت اشارے

ایڈیٹوریل  جمعرات 27 مارچ 2014
 جہاں کسی ریاست کا اقتدار اعلیٰ متاثر ہو جائے‘وہاں ریاستیں جھکا نہیں کرتیں۔  فوٹو:فائل

جہاں کسی ریاست کا اقتدار اعلیٰ متاثر ہو جائے‘وہاں ریاستیں جھکا نہیں کرتیں۔ فوٹو:فائل

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کمیٹی و شوریٰ کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع اور غیر عسکری قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ رابطوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جب کہ طالبان نے فوجی نقل و حرکت محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ آسانی سے نقل و حرکت کرسکیں۔ طالبان ،حکومتی کمیٹی اور طالبان کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار کے نتیجے میں دونوں جانب سے قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق طالبان اورحکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دونوں ادوار شمالی وزیرستان کے علاقے بلند خیل میں ہوئے۔ طالبان اور حکومتی کمیٹی کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ اہم پیش رفت ہے اور ان مذاکرات میں جو معاملات سامنے آئے ہیں اور ان پر اتفاق کی باتیں ہوئی ہیںوہ بھی خاصی اہم ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ طالبان کمیٹی نے پشاور میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ جلد ہی قوم کو بڑی خوش خبریاں ملیں گی کیونکہ دونوں جانب نے ایک دوسرے کو سننے کے بعد مستقبل میں اسی طرح رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طالبان نے واضح کردیاہے کہ انھیں امن کے حامی اور مخالفین کا پتا چل گیا ہے۔ اگر طالبان اور حکومت کسی آبرمندانہ سمجھوتے تک پہنچ جاتے ہیں اور پاکستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو یقینی طور پر ایسا کارنامہ ہے جو بظاہر نا ممکن نظر آتا ہے لیکن اب جو اشارے مل رہے ہیں‘ اس سے یہ امید بندھی ہے کہ شاید نا ممکن کو ممکن میں بدل جائے۔ اگر طالبان کمیٹی مذاکرات سے مطمئن اور پراعتماد ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ معاملات مثبت سمت آگے بڑھ رہے ہیں‘ یہ بات بھی سامنے آئی کہ امن کے حامی اور امن کے مخالفین کا پتہ چل گیا ہے تو یہ بڑی بات ہے‘ اس سے وہ گروپ سامنے آجائیں گے جو ملک میں فساد برپا کرنے کے ذمے دار ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو جائیں۔

حکومت نے جب سے طالبان سے جب سے مذاکرات شروع کیے ہیں ‘اس میں خاصے اتار چڑھائو آتے رہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد ان میں تعطل بھی آیا۔اس کے ساتھ ساتھ ملک میں خوں ریزی کے واقعات بھی ہوئے‘حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان میں محدود اسٹرائیکس بھی ہوئیں‘شمالی وزیرستان میں آپریشن کی باتیں بھی منظرعام پر آ ئیں۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مذاکرات ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گئے ہیں اور کسی بھی وقت آپریشن شروع ہو سکتا ہے۔ اس نازک اور سنگین موقع پر حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے ارکان نے مثبت کردار ادا کیا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ پھر طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان سامنے آ گیا۔ اس اعلان کے بعد صورت حال میں مثبت تبدیلی کا آغاز ہوا۔ ٹوٹے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ اس دوران بھی اسلام آباد کچہری کا واقعہ ہوا لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔

طالبان نے اس واقعے سے نہ صرف لاتعلقی کا اعلان کیا بلکہ اس کی مذمت بھی کی۔ یوں ماضی سے جڑی ہوئی ان چیزوں کو سامنے رکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالات کا رخ مثبت جانب ہے۔ اس سارے عمل کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کی ایک دو سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر سب نے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ اگلے روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی یہ کہا ہے کہ حکومت مذاکرات سے ملک میں امن دے سکتی ہے تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ تاہم انھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی میں سیاستدانوں کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس کمیٹی میں سارے بیور و کریٹس ہیں۔ ایم کیو ایم کو بھی مذاکرات کے عمل پر تحفظات ہیں۔ مولانا فضل الرحمن طالبان سے مذاکرات کے حامی تو ہیں تاہم اس عمل پر ان کے بھی کہیں نہ کہیں تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ بہر حال جب کوئی عمل شروع ہوتا ہے تو اس پر تنقید بھی ہوتی ہے اور تجاویز بھی سامنے آتی ہیں۔

حکومت اور طالبان دونوں کو اسے مثبت انداز میں لینا چاہیے کیونکہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یہ نہیں چاہتی کہ ملک میں قتل و غارت ہو ۔ہر سیاسی جماعت اور اس کے قائد کی اپنے وژن کے مطابق حکومت پر تنقید سامنے آئی ہے جو ایک جمہوری رنگ لیے ہوئے ہے۔ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ حکومت اور طالبان نے جو سلسلہ شروع کیا ہے اسے اچھے اور خوشگوار انجام سے دو چار کرنے کی کوشش کی جائے۔ طالبان کو چاہیے کہ اگر ان کی کوئی تجویز منظور نہیں ہوتی تو تب بھی مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے کیونکہ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جو فوری تو حل نہیں ہوتے لیکن ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی حل نکل آئے۔ ادھر حکومت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ طالبان کے ایسے مطالبات جو مانے جا سکتے ہیں ‘انھیں تسلیم کر لینا چاہیے تاہم اس سلسلے میں ریاست کے اقتدار اعلیٰ اور آئین کا تحفظ لازمی امر ہونا چاہیے کیونکہ ریاست کی پہچان اقتدار اعلیٰ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ جہاں کسی ریاست کا اقتدار اعلیٰ متاثر ہو جائے‘وہاں ریاستیں جھکا نہیں کرتیں۔

حکومت کو اس مذاکراتی عمل میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو بھی شریک کرنا چاہیے تاکہ انھیں بھی صورت حال کا پتہ چل سکے۔ انھیں پتہ ہو کہ حکومت کن شرائط پر مذاکرات کر رہی ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اس کی رائے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ امریکا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حکومت ڈیموکریٹک پارٹی کی ہوتی ہے لیکن وہ کسی مشن کا سربراہ ریپبلکن پارٹی میں سے بنا دیتی ہے۔ حکومت کو اس امر کا یقین ہونا چاہیے کہ جس طرح وہ خود کو محب وطن اور آئین کا محافظ سمجھتی ہے اسی طرح حزب اختلاف بھی محب وطن اور آئین کی محافظ ہوتی ہے۔ فرق صرف نقطہ نظر اور سیاسی فکر کا ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات ضرور کرے لیکن اپوزیشن کو بھی باقاعدہ بریفنگ دی جانی چاہیے۔ اس طریقے سے مذاکرات کا عمل زیادہ تیز رفتار ‘قابل اعتماد اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔