آزاد خیالی کی منطق (پہلا حصہ)

عمران شاہد بھنڈر  جمعـء 28 مارچ 2014
ibhinder@yahoo.co.uk

[email protected]

روشن خیالی اور آزاد خیالی کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق ہے۔ اگر ان کے درمیان بنیادی تضاد کی نوعیت سے آگاہی نہ ہو تو ان مختلف فلسفوں کے درمیان مماثلت کا تصور ابھر نے سے ان کوایک دوسرے کے متبادل کے طور پر پیش کیے جانے کا باطل امکان موجود رہتا ہے۔ اس عمل سے ان فلسفوں کی نظری و عملی جہات میں تشکیک و ابہام کا ابھرنا لازمی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو روشن خیالی افکار و نظریات کی مربوط و منظم ترتیب کہا جا سکتا ہے، جب کہ آزاد خیالی، خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ نظریات و افکار کو اگر تعقل، تاریخ اور سماج کی کسوٹی پر جانچنے ہی سے ان کے خصائص اور عیوب کی تفہیم ممکن ہوتی ہے۔ متحرک سماجی عمل کی نظریے تک تخفیف صرف قدامت پسند فلسفوں اور مابعدالطبیعات کا خاصہ ہے۔ فلسفے کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی تصور خواہ کتنا ہی تجریدی کیوں نہ ہو، اس کو اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے بعد از تجربہ حقائق سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

یعنی کوئی بھی تصور خارجی دنیا میں موجود کسی بھی معروض (Object) سے آزاد رہ کر نہیں اس کے ساتھ ہم آہنگی یا تطابق پیدا کرنے سے ہی اپنی سچائی کا کوئی جواز پیدا کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اسے محض ایک ’’آزاد خیالی‘‘ یا زیادہ موزوں اصطلاح یعنی خام خیالی کے طور پر ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ معروض سے منقطع کی گئی آزاد خیالی پر یقین رکھنے اور الٰہیات کے تجریدی اور متصور خیالات پر ایمان رکھنے میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔ ’سچائی‘ وہی ہوتی ہے جو تعقلی اور تاریخی حقائق سے پھوٹے اور تاریخ اور تعقل پر اثر پذیر رہ کر ان کی توسیع کا باعث بننے کے ساتھ اپنی بھی توسیع کرتی رہے۔ آزاد خیالوں کی اکثریت کی یہ دلیل کہ وہ کسی ایک نظریے پر کمر بستہ نہیں رہتے، بلکہ وہ مختلف نظریات سے افکار و خیالات مجتمع کرتے ہیں، قطعی طور پر ناقص اور غیر منطقی ہے۔ خیالات کہیں سے بھی اکٹھے کیے جائیں، ان کی ترتیب و تنظیم منطقی ہونے کی صورت میں ہی تعقلی کہلا سکتی ہے، ورنہ وہ اسی عدم تعقلی کا شکار ہو جاتی ہے کہ جس کا طعنہ آزاد خیال اپنے مخالفین کو دیتے ہیں۔

آزاد خیال یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ان کے خیالات ہر قسم کے تعصبات سے ماورا ہوتے ہیں، مگر ان کی اس سوچ کا تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جتنے گہرے تعصبات ملائوں نے آزاد خیالوں کے بارے میں تشکیل دے رکھے ہیں، اتنے ہی گہرے تعصبات اور متشدد رویے آزاد خیالوں نے مذہبی لوگوں کے بارے میں قائم کر رکھے ہوتے ہیں۔ آزاد خیال لوگوں کی اکثریت سامراجی جنگوں کی حمایتی ہے۔ یہ لوگ حکومتوں کو اکساتے ہیں کہ وہ مذہبی لوگوں پر تشدد اور جنگیں مسلط کریں۔ وہ مذہبی بنیاد پرستوں کی طرح اپنے مخالفین کی قتل و غارت کو جائز سمجھتے ہیں۔

دہشت گردی میں چند معصوموں کی ہلاکت کی تو مذمت کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ عمل ان کی مخالف آئیڈیالوجی کا نتیجہ ہے، قتل و غارت کی مذمت کرنا بہت قابلِ تعریف رجحان ہے، مگر ’’آزاد خیال‘‘ سامراجی جنگوں میں لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں کبھی مذمتی کلمات ادا نہیں کرتے۔ یہ بات حالیہ کئی ماہ کے دوران ان کے سامراجی افواج کی جارحیت کے بارے میں اختیار کیے گئے رویوں سے سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں آزاد خیال لوگوں کی اکثریت امریکی و مغربی سامراج کی مسلط کردہ جمہوریت کے حق میں ہے، مگر جمہوریت کے اس غیر انسانی کردار کو سامنے لانے سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ آزاد خیالوں کی اکثریت عوام کو درپیش بھیانک مسائل کا ذمے دار جمہوری طریقہ کار کے بجائے الٰہیاتی آئیڈیالوجی کو ٹھہراتی ہے۔

پاکستان، ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جمہوریت کے تحت لوگ جو زندگی بسر کر رہے ہیں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو کر رہ گئی ہے، مگر ا س کے باوجود اس طریقہ کار کو افضل و برتر تصور کیا جاتا ہے۔ اس بنیادی نکتے پر آزاد خیال اتنے ہی رجعت پسند ہو جاتے ہیں جتنا وہ اپنے مخالف ملائوں کو قرار دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں ایسے بے شمار مفکرین ہیں جو سرمایہ داری نظام کو ناقص گردانتے ہیں اور اسے دنیا میں ہونے والے ظلم و تشدد اور وحشت و بربریت کی حقیقی وجہ سمجھتے ہیں۔ اٹھاریں صدی میں جب صنعت کے ارتقا سے سرمایہ داری نظام کی تشکیل کا عمل جاری تھا تو اس وقت فرانسیسی فلسفی روسو نے اس نظام کے اندر وحشت و بربریت جیسے پہلوئوں کو دیکھ کر 1754ء میں ایک اہم ترین کتاب ’’عدم مساوات کے ماخذ پر ڈسکورس‘‘ تحریر کی۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کا اردو میں کہیں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

کارل مارکس سے پہلے ہی روسو ابھرتے ہوئے سرمایہ داری نظام اور اس کی بنیاد پر قائم کیے گئے ’’سول سوسائٹی‘‘ کے تصور کو ان سرمایہ داروں کی دھوکا دہی اور بددیانتی کا مظہر سمجھتا تھا جن کے ہاتھوں میں طاقت مرتکز ہے۔ ’’سول سوسائٹی‘‘ کا یہ تصور جو مغرب میں رائج ہے، انسان کی باطنی فطرت سے متصادم یعنی غیر انسانی ہے۔ روسو کی کتاب کا بنیادی مقدمہ یہی تھا کہ صنعت جس طریقے سے ارتقا پذیر ہے، اس سے انسان باطنی طور پر تقسیم ہو جائے گا اور عدم مساوات اس کا مقدر بن جائے گی۔ انسان کی اخلاقی تربیت اس کی باطنی فطرت کی وحدت کو برقرار رکھ کر ہی ہو سکتی ہے، جو اس نظام کے تحت زندگی بسر کرنے سے ممکن نہیں ہے۔ ’’بیگانگی‘‘ کا یہی تصور ہے جسے بعد ازاں جارج ہیگ ، کارل مارکس اور جارج لوکاش نے مختلف سطحوں پر تشکیل دیا اور اس غیر انسانی نظام سے نکلنے کا راستہ بتایا۔ پاکستان کے آزاد خیالوں کی اکثریت، مغربی دانشوروں کے برعکس، مغربی معاشروں کو ایک مثالی نمونے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ انھیں اس غیر انسانی نظام میں کہیں کوئی خامی دکھائی نہیں دیتی، جب کہ جن ممالک میں یہ تشکیل پا کر ارتقا کے مراحل طے کر چکا ہے، وہاں اس کے ہزاروں ناقدین ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔

تاریخی حوالوں سے دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ ’آزاد خیالی‘ کا مفہوم الٰہیات کی ضد کے طور پر ابھرا تھا اور آج بھی آزاد خیال الٰہیاتی پہلو ہی کو ہر قسم کے زوال کا سبب سمجھتے ہیں۔ بچپن میں ایسے لوگوں کی زبان سے سنتے تھے جنہوں نے الحاد کو فیشن کے طور پر اپنا رکھا تھا کہ ’’وہ کسی شے کو نہیں مانتے۔‘‘ ایسے لوگوں کا الحاد کسی مدلل نظریے کا مرہون منت نہیں ہوتا، نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی دلیل ہی ہوتی ہے کہ جس سے وہ اپنے الحاد کو سچ ثابت کر سکیں۔ وہ محض اپنی طبع کی تسکین کے لیے خود کو ’جدید‘ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں۔

مغرب میں فلسفیوں کا ایک ایسا طبقہ بہرحال موجود رہا ہے جو یہ سمجھتا تھا کہ چونکہ مذہب ہر لمحہ متغیر سماجی، سیاسی اور معاشی سچائیوں سے ہم آنگ نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے اصول و قواعد کو ازلی و ابدی سچائی کے طور پر تسلیم کرنا سماجی ارتقا کے راستے میں مزاحم ہونے کے مترادف ہے۔ اسی تصور کے تحت مختلف قسم کے فلسفے سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن ہر فلسفے نے ’خدا‘ کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ فلسفیوں نے تصورِ خدا کو فلسفیانہ بنیادیں فراہم کی ہیں، جس سے الٰہیات کے مفاہیم میں بھی توسیع ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ مذہب رسومات سے زیادہ قلبی تسکین کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اور سرمایہ داری نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی و ثقافتی بیگانگی سے مذہب کا یہ قلبی کردار تقویت اختیار کرتا جارہا ہے۔

فلسفیوں کی اکثریت چونکہ ماورائے عقل کسی سچائی کو تسلیم نہیں کرتی تھی، اس لیے انھوں نے ضروری سمجھا کہ الٰہیات کو عقلی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ان فلسفوں کے بنیاد گزاروں نے اپنے فلسفوں کو ’’روشن خیالی‘‘ کا نام دیا اور مخالفین کو رجعت پسند کہنے لگے۔ اہم بات یہ ہے کہ تعقل پسند روشن خیالی فلسفوں میں کوئی ایسی خصوصیت موجود نہیں تھی کہ جسے ’’آزاد خیالی‘‘ کہا جا سکے۔ یعنی ایسا خیال جو ہر معروضی حوالوں سے آزاد ہو۔ اگر کبھی کوئی ایسا خیال تشکیل پا گیا تو یہ ’’خیال پرستی‘‘ کی حتمی فتح ہوگی اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ الٰہیات کے ان مبلغوں کو ہو گا جن کی مخالفت میں آزاد خیالوں کا ’فرقہ‘ وجود میں آیا تھا۔ خیال کے کسی بھی معروض پر منعکس نہ ہونے کا خیال، باطلِ محض ہے، جب کہ خارجی دنیا سے ربط ’خیال‘ کی اس آزادی کی نفی ہے، جسے آزاد خیال صرف اپنے ذہن میں تصور کر لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔