ڈسکاؤنٹ سیل؛ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

محمد یاسر  بدھ 16 نومبر 2022
کمپنیاں اور دکاندار ڈسکاؤنٹ کے نام پر پورا سال کا نفع ایک ساتھ کما لیتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

کمپنیاں اور دکاندار ڈسکاؤنٹ کے نام پر پورا سال کا نفع ایک ساتھ کما لیتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جوتے، کپڑوں، گھریلو استعمال کی اشیا اور دیگر مصنوعات کی رعایت پر فروخت کا اعلان تواتر کے ساتھ کیا جاتا ہے اور مخصوص موسم یا تہوار کے قریب سیلز کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے۔ مدرز ڈے، فادرز ڈے، پاکستان ڈے، بیسٹ فرائیڈے، آزادی سیل اور پھر یہ گیارہ گیارہ وغیرہ۔

اگرچہ ہم یہ بات اخذ کرلی ہے کہ اس ڈسکاؤنٹ کا کسی صارف کو کوئی فائدہ نہیں لیکن ایک بات تو طے ہے ان چند دنوں کی سیل میں ان فرنچائز اور آؤٹ لیٹس پر لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے اور یہی ان کمپنیوں یا دکانداروں کا ہدف ہوتا ہے۔ چونکہ اب تو آن لائن شاپنگ بھی عروج پر ہوتی ہے، اسی لیے مشہور اور بڑے برانڈز کا یہ بھی ہدف ہوتا ہے کہ صارف ان کی ویب پر مصنوعات کو ایکپسلور کریں اور وہاں سے بھی مصنوعات کو فروخت کیا جاسکے۔

ایک ویب سائٹ کو دیکھنے کا موقع ملا اور حسنِ اتفاق کہ ایک مناسب قیمت میں جوتے کا جوڑا پسند آگیا اور پھر ہم نے اسے خرید بھی لیا، جبکہ ہمیں اس کی فی الوقت کوئی خاص ضرورت نہیں تھی لیکن ہم بھلا موقع ہاتھ سے جانے کیوں دیتے۔ یعنی ہمارا فائدہ تو ہوہی گیا دوسری طرف کمپنی کو بھی کمائی ہوگئی۔ اس ضمن میں کچھ قریبی دوستوں سے بات کرنے کا موقع ملا جو مشہور کمپنیوں کے ملازمین ہیں۔ ان کے مطابق سیل سیزن میں کمپنیاں اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے میں کم یا زیادہ بہرحال کامیاب ضرور رہتی ہیں۔ مثلاً کبھی کبھار کوئی جوتا یا لباس آپ کو مناسب قیمت میں پسند آجاتا ہے لیکن وہ آپ کے ناپ کا نہیں ملتا۔ بس وہ جوتا یا لباس کسی اور کا ناپ اور کسی اور کا نصیب ہوتا ہے۔ عموماً جوتے کے جوڑوں میں سب سے چھوٹا یا سب سے بڑا ناپ سیل والے حصے میں نظر آتا ہے جوکہ دیکھنے میں نیا بھی لگتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگ تحفے کا تبادلہ کرتے ہیں تو یہ سیل والی مصنوعات کام آتی ہیں۔

صارفین کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو ڈسکاؤنٹ سیل کے بہانے ان دکانوں کا رخ کرتی ہے مگر وہ خالی ہاتھ نہیں جاتی بلکہ اپنے خرچ کی مقررہ حد سے چند سو روپے مزید خرچ کرکے اپنی پسند کی مصنوعات خرید ہی لیتی ہے۔ ان میں ایسے صارفین بھی ہیں جو اپنے اور اپنے پیاروں پر خرچ کرنے کےلیے اپنی جیب نہیں دیکھتے، کسی کے پاس پیسہ زیادہ ہے تو کسی کے پاس کریڈٹ کارڈ کی سہولت۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے اور وہ ڈسکاؤنٹ پر موجود جوتے اور کپڑے خرید ہی لیتے ہیں اگرچہ ان مصنوعات کا معیار اچھا بھی نہیں ہوتا لیکن برانڈ تو برانڈ ہوتا ہے اور اس کا نشان یا انداز اس کی عکاسی کرتا ہے۔ کون جانے یہ رعایتی سیلز سے خریدا ہے یا پوری قیمت پر۔

یہ تو تھیں صارفین کی باتیں، کچھ برانڈز یا کمپنیوں کی ڈسکاؤنٹ سیل مصنوعی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس معاملے میں گزشتہ چند سال میں بہت شہرت حاصل کرچکی ہیں۔ ان چند کمپنیوں کی مصنوعات کی سیل میں خریداری کےلیے طویل قطاریں بھی لگتی ہیں، حتیٰ کہ دکاندار ان ڈسکاؤنٹ سیل کا فائدہ اٹھا کر تھوک میں خریداری کرتے ہیں اور پھر اپنی دکانوں پر کچھ منافع کے عوض دیگر صارفین کو بچ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کمپنیاں اپنی مخصوص سالانہ پالیسی کے تحت اپنے پرانے ڈیزائن کلیئرینس کے نام پر کم قیمتوں پر بیچ دیتی ہیں۔ اب یہ کمپنیاں اپنی کسی مصنوعات پر پانچ سو روپے کمائے یا پچاس روپے، ان کا تو ہر حال میں فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ہاں کچھ ایسے برانڈز بھی ہیں جو صرف اس لیے مصنوعی اشتہار بازی کا سہارا لیتے ہیں کہ ان کے مقابلے یا مسابقت کے برانڈز نے بھی ڈسکاؤنٹ آفر لگائی ہے اور وہ بھی اس سیزن میں شریک ہوکر تھوڑا نام اور پیسہ کمالیں۔

حال ہی میں سات آٹھ دکانوں کی خاک چھاننے کا تجریہ ہوا جہاں ڈسکاؤنٹ سیل لگی تھی، اس امید پر کہ شاید کسی لوٹ سیل میں کوئی معیاری چیز مثلاً جوتا، جینز یا شرٹ کسی اچھی برانڈ سے خریدی جائے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی، بس خود کا وقت برباد ہوا۔ جہاں جہاں ڈسکاؤنٹ سیل تھی وہاں خریداروں کی تعداد دوسری دکانوں کی نسبت زیادہ تھی۔ ہمارے دل میں بھی تمام لوگوں کی طرح خواہش تھی کہ آج کوئی اچھی اور سستی چیز مل ہی جائے گی اور وہ بھی برانڈڈ۔ ایک کپڑے کی دکان پر پچاس فیصد ڈسکاؤنٹ کا سن کر اس کی طرف گئے تو وہاں جاکر معلوم ہوا یہ پیشکش صرف ایک ٹیبل پر موجود پتلونوں اور شرٹس پر ہے، جہاں لوگوں کا ایسا رش تھا جیسے شہد کی مکھیوں کا چھتے پر۔ اور قریب گئے تو پتہ چلا کہ لوگ اپنی پسند کی کوئی مناسب چیز تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ سب لوگ ڈسکاؤنٹ والے کپڑے خریدنے میں کامیاب رہے بلکہ لوگوں کی اکثریت مناسب اور پسند کی چیز نہ ملنے پر ناکام لوٹ رہی تھی۔ اس لوٹ سیل کے موسم میں ہم جس دکان پر بھی پہنچے وہاں ہم نے لوگوں کے چہرے اترے ہوئے اور مایوس ہی دیکھے۔ ہمیں اندازہ ہورہا تھا کہ ان کی امیدوں کو بھی ہماری طرح ٹھیس لگی ہے جو اپنا وقت اور کرایہ خرچ کرکے بظاہر اس ڈسکاوئنٹ سیل سے دھوکا کھا کر ناکام لوٹنے پر مجبور تھے۔

ایک جوتے کی دکان پر لگی سیل صرف ایک مخصوص میز تک محدود تھی جس پر موجود جوتے ہمیں منہ چڑھا رہے تھے۔ ان میں سے اکثر جوتے تو نئے لگ بھی نہیں رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سالہاسال یہ جوتے کسی اسٹور میں پڑے ہوئے تھے جن پر کپڑا مار کر ٹیبل پر رکھ دیا گیا تھا۔ اگر ان جوتوں پر پالش ہی کردی گئی ہوتی تو بھی حالت بہتر ہوتگی۔

ایک دکان پر جوتوں کی ایک جوڑی خریدنے پر دوسری جوڑی بالکل مفت تھی۔ لیکن جب اس ایک جوڑی جوتے کی قیمت اور معیار دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بغیر ڈسکاؤنٹ کا جوتا خریدنا ہے بہتر ہے جس کا معیار اور ڈیزائن اس ڈسکاؤنٹ والے جوتوں سے قدرے بہتر ہوگا اور شاید وہ اس سے بھی کم قیمت میں مل جائے۔

میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اس قسم کی سیل سے کم ہی لوگ استفادہ کرتے ہیں اور جو فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں دراصل وہ بھی دھوکے میں ہی رہتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان فضول قسم کی ڈسکاؤنٹ سیل سے اصل فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جوتے اور کپڑے بنانے والی کمپنیاں ٹیگ پر تیس فیصد قیمتیں بڑھاتی ہیں اور پھر صارفین کو بے وقوف بنانے کےلیے اپنی مصنوعات پر تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کی سیل لگا دیتی ہیں۔ لوگوں کا یہ تاثر نہ صرف مشہور برانڈ کےلیے ہے بلکہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کےلیے بھی یہی رائے ہے۔ صارفین کی اکثریت اس لوٹ میلہ یا ڈسکاؤنٹ سیل کی اسکیموں کو دھوکا اور فریب سے تشبیہ دیتی ہے۔ اصل فائدہ تو ان کمپنیوں کا ہی ہوتا ہے جو ہر سال سیل کے لیے اشتہارات پر خرچہ کرتی ہیں اور سیل کے مخصوص دنوں میں ڈسکاؤنٹ کے نام پر پورا سال کا نفع ایک ساتھ کما لیتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔