مصرمیں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، خاتون صحافی سمیت 5 افراد ہلاک، 15زخمی

اے ایف پی  ہفتہ 29 مارچ 2014
اخوان المسلمون نے السیسی کو صدارتی امیدوار ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے مصر کی سیاست میں فوجی مداخلت قرار دیا ہے۔ فوٹو:رائٹرز/فائل

اخوان المسلمون نے السیسی کو صدارتی امیدوار ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے مصر کی سیاست میں فوجی مداخلت قرار دیا ہے۔ فوٹو:رائٹرز/فائل

قاہرہ: مصری فوج کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ عبد الفتح السیسی کی جانب سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک خاتون صحافی سمیت 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے سیکڑوں حامیوں نے قاہرہ، اسکندریہ، عین الشمس، دمیتیا اور دیگر شہروں میں صدارتی امیدوار جنرل عبدالفتح السیسی کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو مشتعل کرنے کے لئے ان پر لاٹھی چارج کیا اور پھر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک مقامی خاتون صحافی سمیت 5 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔ مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کے 80 سے زائد حامیوں کو امن عامہ کی صورت حال خراب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے چند روز قبل استعفی دے دیا تھا تاہم وہ اب بھی مصر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع ہیں۔ دوسری اخوان المسلمون نے السیسی کو صدارتی امیدوار ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے مصر کی سیاست میں فوجی مداخلت قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔