شہاب ثاقب کی بارش یا ڈالروں کی برسات؟

ع۔ر  اتوار 30 مارچ 2014
شمالی کوریا کے باشندے چٹانی ٹکڑوں کی تلاش میں دیوانے ہوگئے۔ فوٹو : فائل

شمالی کوریا کے باشندے چٹانی ٹکڑوں کی تلاش میں دیوانے ہوگئے۔ فوٹو : فائل

اگر ان دنوں شمالی کوریا کے قصبے جنجو میں جانے کا اتفاق ہو تو یہ قصبہ آپ کو خالی نظر آئے گا۔ گھروں میں سامان ضرور موجود ہوگا مگر دن میں کسی ذی روح سے آپ کا واسطہ نہیں پڑے گا۔

آپ حیران ہوکر سوچیں گے غالباً کسی وجہ سے قصبے کے لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل ان دنوں قصبے کے لوگ پَو پھٹتے ہی ’ دولت ‘ کی تلاش میں قرب و جوار میں نکل جاتے ہیں اور رات گئے تک لوٹتے ہیں ۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ چند روز قبل شمالی کوریا کے اس حصے میں شہاب ثاقب کی بارش ہوئی تھی، جس کے بعد ’’ کوریا پولر ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ کے ماہرین اس علاقے میں پہنچے تھے۔ انھیں اس علاقے میں نو اور چار کلو وزنی دو چٹانی پتھر ملے تھے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ دونوں چٹانی پتھر شہاب ثاقب یا شہابی چٹان کے ٹکڑے ہیں۔ انسٹیٹوٹ کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ایک شہاب ثاقب کرۂ ارض کی فضا میں داخل ہونے کے بعد ان گنت ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے، اس لیے قوی امکان ہے کہ اس کے مزید ٹکڑے بھی ارد گرد کے علاقے میں پڑے ہوئے ہوں۔ اس بیان کے بعد لوگوں نے دیوانوں کی طرح شہابی پتھروں کی تلاش شروع کردی۔

جنجو اور آس پاس کے قصبوں کے لوگ جی پی ایس اور میٹل ڈٹیکٹر جیسے آلات سے لیس ہوکرآئے اور دھان کے کھیتوں میں اور پہاڑیوں پر خلا سے گرنے والے چٹانی ٹکڑوں کی تلاش کرنے لگے۔ وجہ یہ ہے کہ شہابی پتھر انتہائی گراں قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ شہاب ثاقب کے فی گرام بین الاقوامی نرخ پانچ سے دس امریکی ڈالر ہیں۔ یعنی ایک کلوگرام وزنی شہابی پتھر کی قیمت پانچ سے دس ہزار ڈالر تک ہوتی ہے۔ شہاب ثاقب کے گرنے کی خبر عام ہونے کے بعد شہابی پتھروں کے امریکی بیوپاریوں نے بھی جنجو کا رخ کرلیا ہے۔ ان بیوپاریوں نے مقامی لوگوں کو پُرکشش نرخوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑے خریدنے کی پیش کش کردی ہے۔

شمالی کوریا کے محکمہ برائے ثقافتی ورثہ نے مقامی لوگوں کی جانب سے شہابی پتھروں کی تلاش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محکمے کے اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ یہ قیمتی پتھر ملک سے باہر جاسکتے ہیں، اس کے تدارک کے لیے حکومت شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کو آثار قدیمہ قرار دے سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔