فتح طاقت کی نہیں ہوتی

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 30 مارچ 2014

سقراط کہتا ہے یاد رکھو فتح طاقت کی نہیں بلکہ سچ کی ہوتی ہے سچائی کامیابی کا سبب اور جھوٹ رسوائی کا موجب ہے ۔ ہٹلر اپنی کتاب میری جدوجہد میں لکھتا ہے کہ ’’ مسلسل پروپیگنڈے کے ذریعے سے یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ جنت کو دوزخ اور دوزخ کو جنت سمجھنے لگیں اور جو پروپیگنڈہ سب سے زیادہ مو ثر ہونا چاہیے لازم ہے کہ اسے زیادہ عاقلانہ و دانش مندانہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے عوام کی جتنی زیادہ تعداد کو متاثر کرنا منظور ہے پروپیگنڈے کی ذہنی سطح اتنی ہی نیچی ہونی چاہیے چونکہ جھوٹ بہت بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ لوگوں کو قائل کرنے کا حامل بن جاتا ہے عوام حد درجہ سادہ لوح ہوتے ہیں  لہذا چھوٹے جھوٹ کے مقابلے میں بڑا جھوٹ ان کے لیے زیادہ موثر ہوتا ہے ۔چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو وہ خود جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن بڑا جھوٹ بولتے انھیں شرم آتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر بڑے جھوٹ کے متعلق شبہ کا خیال بھی دل میں نہیں لاسکتے۔

لہذا جھوٹ جتنا بڑا ہوگا عام لوگ اتنی ہی بے تکلفی سے اسے قبول کرلیں گے ۔وہ کہتا ہے کہ پروپیگنڈہ کا ایک اور بڑا اصول یہ ہے کہ معاملہ ایک دشمن تک محدود رکھا جائے عوام کے سامنے بیک وقت نفرت کے لیے دشمنوں کی زیادہ تعداد پیش نہ کرو صرف ایک دشمن کو ان کی نفرت کا ہدف بننے دو عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور عقل کم ۔ اس لیے پروپیگنڈہ صرف چند نکتوں تک محدود رہنا چاہیے اور خاص باتوں پر بار بار زور دینا چاہیے یہاںتک کہ عوام میں سے ہرفرد سمجھ لے کہ تم اسے کیا سمجھانا چاہتے ہو پروپیگنڈے کرانے والے کو نفسیاتی ہتھکنڈوں سے بھی کام لینا چاہیے۔‘‘ پرو پیگنڈے کے فن میں اپنی فہم و بصیرت کو درجہ کمال پر پہنچانے کی غرض سے ہٹلر نے متعدد نظاموں کا گہرا مطالعہ کیا ان میں کیتھولک کلیسا کی تنظیم اور اس کے طور طریقے اور پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کا پروپیگنڈہ شامل تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر ایک جھوٹ باربار دہرایا جائے تو وہ واقعی سچ معلوم ہونے لگتا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی سے یہ جھوٹ کہ یہ ملک قرون وسطیٰ کا اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔

بار بار اس طرح دہرایا جاتا رہا ہے کہ عام لوگوں کو بھی اس پر سچ کا گمان ہونے لگا ہے یہ پروپیگنڈہ ان مذہبی قوتوں کی جانب سے شروع کیاگیا تھا جو قیام پاکستان کی ہی مخالف تھیں اور جن کا جدوجہد پاکستان میں کوئی بھی کردار نہیں تھا اس نعرے کی آڑ میں وہ دراصل طاقت حاصل کرنا چاہتی تھیں انھیں اس بات کا اچھی طرح سے احساس تھا کہ وہ اس نعرے کے ذریعے سے ہی بالادستی طاقت اور اقتدار حاصل کر سکتی ہیں وہ پروپیگنڈے کی طاقت سے بھی اچھی طرح واقف تھے وہ یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاکستان کے عوام انتہائی سادہ لو ح اور مذہب سے گہرا لگائو رکھتے ہیں ۔ لہذا انھیں اس پروپیگنڈے سے بہکانا آسان ہوگا ۔مذہبی قوتوں نے اپنے کھیل کا آغاز قیام پاکستان کے چند ماہ بعد ہی کر دیا تھا جب قائد اعظم کی صحت نے جواب دے دیا تھا۔

لہذا حکومت میں شریک بااثر افراد اور ان کے اتحادی جاگیرداروں نے اسلام کے نعرے کو اپنی آمرانہ روش اور صوبوں کو ان کے جائز جمہوری حقوق سے محرومی کے لیے استعمال کرناشروع کردیا اور ملک اور عوام کو درپیش مسائل کو فراست ،تدبیر اور جمہوری طرز سیاست کے ذریعے حل کرنے کے بجائے لوگوں کے مذہبی جذبات اور قومی احساسات سے فائد ہ اٹھا کر کھوکھلے نعروں کا سہارا لینے کا آغاز کر دیا لیکن اس صورتحال کا سارا فائدہ مذہبی قوتوں کو حاصل ہوگیا اور وہ قرارداد مقاصد منظور کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ قرارداد مقاصد سے مذہبی قوتوں کو وہ ہتھیار ہاتھ میں آگیا جس کے ذریعے سے وہ ملک میں غلبہ حاصل کرتے چلے گئے ۔ اور جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ایک سیدھا سادہ سا سوال ہے کہ کیا قائداعظم قیام پاکستان کی روح سے نابلد تھے۔کیا انھیں نظریہ پاکستان اور اس کی نظریاتی سرحدوں کا علم نہیں تھا ، کیا علامہ اقبال نے پاکستان کے خدوخال کے متعلق سوچا نہیں تھا۔

قائداعظم نے واشگاف الفاظ میں 11اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی میں فرما دیا تھا کہ ’’ آج سے نہ ہندو ہندو ہیں نہ مسلمان مسلمان ہیں نہ عیسائی عیسائی ہیں نہ پارسی پارسی ہیں اور نہ سکھ سکھ ہیں بلکہ تمام پاکستانی ہیں جہاں تک حکومت اور کاروبار حکومت کا معاملہ ہے مذہب کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ہاں البتہ مذہب ایک نجی معاملہ ہوگا۔ اور عقائد کی مکمل آزادی ہوگی ‘‘ ۔ قائداعظم نے بالکل درست فرمایا تھا کیونکہ مذہب انسانوں کے ہوتے ہیں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،مذہب کا تعلق عقیدے سے ہوتا ہے عقیدہ انسان کو اللہ سے جوڑتا ہے ریاست کا تعلق شہریوں سے ہوتا ہے نہ ہر شہری کا مذہب ایک ہوتا ہے نہ عقیدہ ایک ہوتا ہے نہ زبان ایک ہوتی ہے ریاست کو چلانے کے لیے ایک غیر جانب دار غیر مذہبی قانون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہر شہری اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ زندگی گذار سکے پاکستان کو چھوڑ کر باقی پوری دنیا اسی فلسفے پر عمل پیرا ہے۔

ہم سے بدترین غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے ریاست کو بھی مذہبی بنا دیا جب آپ انسان کی طرح ریاست کو بھی مذہبی بنا دیں گے تو پھر ریاست اپنے شہریوں کو نہ تو یکساں طورپر دیکھ سکے گی اور نہ ہی انھیں یکساں حقوق مہیا کر سکے گی اور نہ ہی یکساں طور پر محبت کرسکے گی ۔ پھر ریاست کے اندر اتنی گھٹن اور حبس ہو جائے گا کہ سانس لینا بھی دوبھر ہو گا۔  یہ ہی کچھ ہمار ے ساتھ ہوا ہے ۔آج ہمارا معا شرہ دنیا کے دیگر معاشروں کے مقابل میں بدترین ہو چکا ہے ۔ ہمیں مذہبی نفرتوں میں جلتے ہوئے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہوئے 66سال بیت چکے ہیں جون ایلیا کہتے ہیں ’’ یہ کون لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو قتل کر ڈالتے ہیں اور یہ قتل کرنے والے ہمیشہ مذہب کے قبیلے سے کیوں اٹھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عقل اور فلسفے کے لوگ کبھی ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے افلا طون اور دیمقراطیس کے گروہ کبھی ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائے۔ فارابی کے مکتبہ خیال نے شیخ شہاب کی خانقاہ کے مفکروں پرکبھی حملہ نہیں کیا۔ ایتھنز کی ہیکل کے دروازے سے کبھی کوئی ہجوم نہیں نکلا جس نے انسانوں کی گردنیں اڑا دی ہوں اور شہروں کوآگ لگا دی ہو۔ فتنہ اور فساد کی آگ ہمیشہ مذہبی فرقوں کے درمیان ہی کیوں بھڑکتی ہے ۔‘‘

بدترین حالات کے باوجود ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا ہے ۔ کیونکہ بقول سقراط کے فتح طاقت کی نہیں بلکہ سچ کی ہوتی ہے ۔ اور سچ یہ ہے کہ ریاست اور مذہب کو الگ کیے بغیر ترقی ، خوشحالی ، امن ، مساوات، برداشت ، رواداری ناممکن ہے یہ بات جتنی جلدی ہماری سمجھ میں آجائے گی خود ہمارے لیے بہتر ہے ۔ ورنہ ہمارے موجود حالات میں بہتری نا ممکن ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔