نجی تحویل میں دیے گئے سرکاری اداروں کی لین دین تاحال مکمل نہ ہونے کا انکشاف

ارشاد انصاری  جمعرات 24 نومبر 2022
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے نجی تحویل میں دیے گئے سرکاری اداروں کی تاحال لین دین مکمل نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ، سید محمد صابر شاہ، مولوی فیض محمد، عمر فاروق، انور لال دین اور پلاننگ کمیشن کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ وزارت نجکاری کی طرف سے سرکاری ادارے جنکی پہلے ہی نجکاری کی جا چکی ہے اُن مکمل دستاویزات اور تفصیلات کے ساتھ ساتھ لین دین آج تک مکمل نہیں ہوسکی۔

سیکریٹری پلاننگ کمیشن کا کہنا تھا کہ جب بھی نجکاری کا عمل مکمل ہوتا ہے تو نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ نجکاری پالیسی کے تحت 1991 سے لے کر آج تک 178 ٹرانزیکشنز کی جا چکی ہیں جن کی کل مالیت 649,114 ملین روپے ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایات دیں کہ جتنی بھی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں ان تمام کے گزٹ نوٹیفکیشنز کمیٹی کو فراہم کیے جائیں۔ کنونشن سینٹر اسلام آباد  کی جانب سے نجکاری کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ کنونشن سینٹر کی نجکاری پر سی ڈی اے بورڈ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ کنونشن سینٹر کی نجکاری کیلیے سی ڈی اے رولز میں تبدیلی کرنی ہوگی، اسلام آباد ماسٹر پلان کے ساتھ ساتھ اس سے گرین بیلٹ پر بھی اثر پڑے گا۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اس نجکاری کے پیچھے کوئی رئیل اسٹیٹ مافیا کار فرما ہے اور ہمیں اس نجکاری کی مکمل مخالفت کرنی چاہیے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ تمام فنکشنز کیلیے کنونشن سینٹر سے خاطر خواہ آمدنی ملتی ہے۔ سرکاری یا نجی تمام اداروں سے ایک مخصوص  ریٹ کے مطابق رینٹ لیا جاتا ہے۔ اسلیے سی ڈی اے کنونشن سینٹر کی نجکاری کے حق میں نہیں ہے، تاہم اس حوالے سے فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔ کمیٹی ممبران نے کنونشن سینٹر کی نجکاری کو روکنے کیلیے اپنی سفارشات کابینہ اور وزیر اعظم کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاک چائنا فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ ہری پور کی نجکاری پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیر التوا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1992 میں نجکاری کے بعد 90 فیصد شیئرز شون گروپ کو ٹرانسفر کر دیے گئے تھے اور دس فیصد شیئرز ابھی بھی حکومت پاکستان کے پاس ہیں۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ چالیس فیصد ادائیگی پر تمام شیئرز کیسے شون گروپ کو ٹرانسفر کر دیے گئے، اس پر نئے سرے سے غور ہونا چاہیے اور زمین کی موجودہ قیمت کا بھی تخمینہ لگاتے ہوئے نجکاری کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو قوم کے سامنے لایا جائے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کا کہنا تھا کہ کیس کو عدالت میں نئی جہت کے ساتھ لڑنا چاہیے اور ریاست پاکستان کے مفادکی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔ سیکریٹری پلاننگ کمیشن نے اس کیس پر عدالتی کاروائی سے کمیٹی کو آگاہ رکھنے کا عزم دہرایا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔