ہم جمہوریت کے اہل نہیں؟

رئیس فاطمہ  جمعـء 25 نومبر 2022
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

ہم ہیں کیا ڈینگیں مارنے والی قوم؟ ہر معاملے میں ہمارا رویہ بڑھکیں مارنے والی قوم کا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھیے تو ہر کام میں صرف زبانی جمع خرچ ہے، عیسائیوں اور یہودیوں کو مسلسل برا بھلا کہنا قومی شعار میں شامل ہے، ہم جی بھر کے انھیں برا بھلا بھی کہتے ہیں اور ان کے آگے کشکول بھی پھیلاتے ہیں۔

حکمرانوں کو دیکھیے، ہر پارٹی کا لیڈر اقتدار ملتے ہی کشکول لے کر پہنچ جاتا ہے۔ کہاں کی خود داری اور کہاں کی عزت و غیرت۔ جگہ جگہ جھولی پھیلائے پھرتے ہیں۔

کسی نے خیرات دے دی ، کسی نے وعدے پہ ٹرخا دیا اور کسی نے دھتکار دیا، لیکن ہمارے لیڈر پھر بھی تھری پیس سوٹ پہن کر اور کشکول ہاتھ میں پکڑ کر بیرون ملک دوروں پر چلے جاتے ہیں۔

امریکا کو برا بھلا کہتے 75 سال گزر گئے، جو زیادہ لعن طعن کرتے تھے ان کے اسٹوڈنٹ لیڈر امریکا زیادہ جاتے تھے، آج بھی اگر ویزہ ملنے لگے تو ہمارے وہ نوجوان زیادہ قطار میں نظر آئیں گے۔

ہم بہت ایماندار ہیں، ہمیں اللہ نے ایمان عطا کیا ہے ، لیکن ہم کہاں اور کیسے اس ایمان کو استعمال کرتے ہیں؟ دودھ میں اراروٹ اور سنگھاڑے کا آٹا ملا کے، دھنیا مرچوں ہلدی میں ملاوٹ کرکے ماتھے پہ سجدے کے نشان کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے اور لوگوں کا حق مارتے ہوئے ذرا نہیں چوکتے۔ جعلی دوائیں بنا کر بیچتے ہیں، مال بناتے ہیں اور لوگوں کو قبر میں اتار دیتے ہیں۔

ایمان کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرتے ہیں، خود کو سدھارنے کے بجائے غیر مسلموں کو برا بھلا کہتے ہیں۔

خراب اور گھٹیا چیزیں دھوکے سے فروخت کرتے ہیں اور بھید کھلنے پر اگر کوئی سامان واپس کرنے آئے تو اسے دکان پہ لگا ہوا بورڈ اشارے سے دکھا دیا جاتا ہے ، جس پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا۔‘‘

اس کے برعکس آپ امریکا اورکینیڈا میں رہنے والے پاکستانیوں سے پوچھیے تو پتا چلے گا کہ ایکسپائری ڈیٹ میں خریدا ہوا مال واپس بھی کرلیا جاتا ہے اور تبدیل بھی۔ ایکسپائری ڈیٹ کی دوائیں وہاں نہیں بیچی جاتیں، ہمارے ہاں ایمان کی مالا جپنے والے لوگ ایکسپائری ڈیٹ پر سیاہ مارکر لگا دیتے ہیں اور نئی قیمت لکھ دیتے ہیں، اس حرکت سے ان کا ایمان تازہ ہوتا ہے۔

حکمرانوں کو دیکھ لیجیے ڈینگیں مارنا اور خود کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ جب اقتدار میں آتے ہیں تو سفید بے داغ کاغذ کی طرح کا امیج بنانے کے لیے اپنی پوری ٹیم کو کام پر لگا دیتے ہیں، آپ کو یاد ہوگا کہ یہاں جو میوزیکل چیئر گیم کھیلا جا رہا ہے۔

اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ماضی کے حریف بہترین دوست بن جانے کی ایکٹنگ کرتے نظر آتے ہیں، پرانا ریکارڈ دیکھ لیجیے زرداری آئے تو نواز شریف کے لیے غیر اخلاقی زبان استعمال کی، (ن) لیگ آئی تو اس نے پی پی کے لیڈروں کے لیے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی، پھر تحریک انصاف کی انٹری ہوئی انھوں نے بھی بڑے بڑے دعوے کیے اور دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو خوب برا بھلا کہا۔ تہذیب و شائستگی رخصت ہوئی بات گالم گلوچ تک پہنچ گئی۔

پی ٹی آئی کے وزرا ہوں یا (ن) لیگ اور پی پی کے کارکنان سب کی زبانیں زہر اگلتی ہیں۔ انھیں یہ بھی خیال نہیں کہ اس قسم کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے سے بیرون ملک کی خبروں میں ہمارا کیا امیج بنے گا۔ مذہبی جماعتوں ہی کو لے لیجیے وہ کیا کسی سے کم ہیں، ذرا آپ ان کے خلاف لکھ دیجیے پھر دیکھیے کیسی کیسی غلیظ زبان اور جملے آپ کو سننے کو ملیں گے۔

ایک بار عمران خان کے متعلق ایک کالم میں پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والی غنڈہ گردی کے خلاف چند سطریں کیا لکھ دیں، پورا دن فون کی گھنٹی بجتی رہی۔ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ زیادہ تر فون کالز لڑکیوں کی تھیں جو غیر شائستہ زبان استعمال کر رہی تھیں۔

امریکا کو سب للکارتے ہیں، برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں، عوام کے سامنے اور سوشل میڈیا پر آکر امریکا کو برا بھلا کہنا الگ بات ہے، بس یہ عوام کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور ان کو تسکین دیتے ہیں کہ ہم دوستی چاہتے ہیں۔

آقا اور غلام والا رشتہ نہیں۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ دوستی برابری کی بنیاد پر ہوتی ہے، انڈیا تو کہہ سکتا ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتا ہے کہ وہ بہت بڑا ملک ہے اور سب سے بڑی جمہوریت بھی ہے۔ اسی لیے امریکا اس کے ناز نخرے اٹھاتا ہے ، ہمارے ساتھ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو آئی ایم ایف ہمارا بجٹ بھی بناتا ہے اور قرضوں کی وصولی بھی وہی بتاتا ہے۔

ہمارے حکمرانوں کی تو اتنی بھی جرأت نہیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ گیس اور بجلی کے نرخ نہ بڑھاؤ بلکہ لگژری آئٹم پر ٹیکس لگاؤ، لیکن وہ ایسا کیوں کہیں گے؟ انھیں تو فرق پڑتا نہیں کوئی۔

جو آتا ہے وہ پچھلوں کو برا بھلا کہتا ہے، سارے کھاتے کھل جاتے ہیں، جیساکہ آج کل ہو رہا ہے۔ عمران خان کے اور ان کی اہلیہ کے کھاتے کھل رہے ہیں۔

قیمتی گھڑی، انگوٹھی اور کف لنکس کی کہانیاں پرنٹ اور سوشل میڈیا پر پڑی ہیں، گزشتہ حکمرانوں کی کہانیاں سب کو یاد ہیں، عوام کی یاد داشت اتنی کمزور نہیں کہ سرے محل، شوگر ملوں، اتفاق فاؤنڈری ، سب کچھ سب کو یاد ہے۔ امریکا کو برا کہہ کر ووٹ نہیں لیے جاسکتے کہ حکمرانوں کے گھر کے ملازم بھی امریکا کی مرضی سے رکھے جاتے ہیں، آقا اور مالک میں دوستی نہیں ہو سکتی۔

کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ مالک اور نوکر ایک ہی ٹیبل پر کھانا کھا رہے ہوں؟ ہمارے حکمران خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، بس جو جتنا چیخ پکار کرسکے وہی مقبول ہو جاتا ہے۔ صبح اٹھ کر جب آپ اخبار کی سرخیاں دیکھتے ہیں تو سر پیٹ لیتے ہیں اور آپ کہہ اٹھتے ہیں کہ ’’کبھی یہ سدھریں گے بھی یا نہیں؟‘‘

آج عمران خان بلاشبہ مقبول لیڈر ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اگلے الیکشن جیت جائیں، لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ وزیر اعظم بن کر ملک کو بحرانوں سے نکال پائیں گے؟ وہ جب اقتدار میں تھے تو مقبولیت کا گراف کافی نیچے آچکا تھا۔

ان کے وزیروں کے کرتوت بھی بے نقاب ہو رہے تھے۔ ان کے پاس پختہ تجربہ کار اور مخلص لوگوں کی کمی تھی، مقتدرہ انھیں لے تو آئی تھی لیکن انھوں نے جب پر پرزے نکالنے شروع کیے اور ’’یس سر‘‘ کی تکرار متروک کردی تو تاج ان کے سر سے اتار کر کسی اور کے سر پر رکھ دیا اور یہیں سے عمران خان کی قسمت چمک اٹھی۔ ان کی نااہلی سے یکلخت ان کی مقبولیت راتوں رات بڑھ گئی لیکن کیا وہ اپنی مقبولیت سنبھال پائیں گے؟ اگر وہ آیندہ اقتدار میں آئے تو ان کے پاس ایسی ٹیم ہوگی جو ان کے ساتھ مل کر کام کرسکے، ملک کو مہنگائی کے عذاب سے نکال سکے، روپے کی قدر کو بڑھا سکے؟

یہ سوچنا کہ اس ملک میں جمہوریت پنپ سکتی ہے یا نہیں؟ تو میرا کہنا یہ ہے کہ جس طرح شکر میں لپیٹ کر کڑوی گولی نگلنی پڑتی ہے یہی حال جمہوریت کی گولی کا ہے۔ اصل اقتدار کے مالک کڑوی گولی کو جمہوریت کی شکر چڑھا کر مسلسل کھلا رہے ہیں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میں بھی اس جمہوریت کے حق میں نہیں ہوں جو پاکستان میں زبردستی عائد کی جا رہی ہے۔ اقبال نے سچ کہا تھا:

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جمہوریت ان ملکوں میں پنپتی ہے جہاں تعلیم کا تناسب زیادہ ہو، لیکن ہمارے عوام کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ پہلے اوطاق اور چوپال بنے اسکولوں میں طلبا تو آنا شروع کریں، استاد جو گھر بیٹھے افسران کی ملی بھگت سے آدھی تنخواہ لے کر مزے کر رہے ہیں اور بچے جہالت کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

مقتدرہ کی حکومت ہمارا نصیب ہے اب جمہوریت کے عشق میں مبتلا ہونے کے زمانے یہاں کبھی آئے ہی نہیں ایک شخص تھا لیاقت علی خاں جس نے مقتدرہ کا کردار محدود کرنے کی بات کی تھی اور وہ کرائے کے قاتلوں کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا گیا۔

بھٹو صاحب نے تو اپنے حریفوں کی کمزوریوں کی فائلیں بنوائی ہوئی تھیں، آج کے سیاستدان بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔

(ن) لیگ نے عمران خان کی کمزوریوں کی، زرداری کی اور کچھ دوسرے لوگوں کی فائلیں بنوائی ہیں۔ دوسرے بھی یہی کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی پول کھول رہے ہیں اور چارے کے طور پر عوام کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے اس مصرعے کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم جمہوریت کے اہل نہیں :

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں ، سامنے آتے بھی نہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔