قانون سازی کے باوجود خواتین پر تشدد بڑھ گیا، ایکسپریس فورم

اجمل ستار ملک  جمعـء 25 نومبر 2022
ایکسپریس فورم میں رافعہ کمال اظہار خیال کر رہی ہیں، بشریٰ خالق، فاخرہ ارشاد بھی شریک ہیں  ۔ فوٹو : ایکسپریس

ایکسپریس فورم میں رافعہ کمال اظہار خیال کر رہی ہیں، بشریٰ خالق، فاخرہ ارشاد بھی شریک ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

 لاہور: بہترین قانون سازی کے باوجود خواتین پر تشدد کے واقعات میں بدترین اضافہ ہوا ہے۔

بدقسمتی سے شہروں میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں زیادہ اضافہ ہوا ہے جو معاشرے کی سوچ کی عکاسی کررہا ہے۔ خواتین پر تشدد کی روک تھام اور انھیں ریلیف دینے کیلیے حکومت کام کر رہی ہے، اس حوالے سے پنجاب اسمبلی سے منظوری ہوچکی ہے، اب تمام اضلاع میں موجود دارالامان کو ’وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹرز‘ میں بدل دیا جائے گا ، اس کیلیے اسٹاف کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔

پنجاب ویمن سیفٹی ایپ کامیابی سے چل رہی ہے، اب تک 2لاکھ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہوچکی ہیں، اس ایپ پر 2021ء میں ایک لاکھ 62 ہزار 378کیسز رپورٹ ہوئے۔ خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے’’خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیئے۔ چیئرپرسن پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وویمن رافعہ کمال نے کہا کہ خواتین پرتشدد کے خاتمے کا قانون 2016ء میں بنا جس میں سول سوسائٹی، این جی اوز و دیگر کا اہم کردار ہے،ملتان میں وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر بنایا گیا جہاں ایک ہی چھت تلے متاثرہ خاتون کو تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے،کیس کا اندراج، تفتیش، میڈیکولیگل سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ سینٹرز پنجاب کے تمام اضلاع میں بننے تھے مگر بجٹ و دیگر مسائل اور پھر کرونا وباء کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی، اب پنجاب اسمبلی سے ترمیم منظور ہوچکی ہے جس کے بعد تمام اضلاع میں موجود دارالامان کو ’وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹرز‘ میں بدل دیا جائے گا،نمائندہ سول سوسائٹی بشریٰ خالق نے کہا کہ تشدد کے معانی صرف جسمانی تشدد، مار پیٹ ، زخم وغیرہ کے طور پر لیے جاتے ہیں، مگر گزشتہ 3 دہائیوں سے نفسیات کے شعبے میں کافی کام ہوا ہے، اب تشدد کا مطلب صرف جسمانی تشدد نہیں ہے بلکہ جنسی، جذباتی اور نفسیاتی تشدد بھی ہے۔

ڈپٹی ایگزیکٹیو آفیسر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی فاخرہ ارشاد نے کہا کہ ہمارے ادارے میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے، ہمارا ماحول خواتین کیلیے محفوظ ہے، 24گھنٹے کام ہوتا ہے، اگر تمام اداروں میں خواتین کے لیے ساز گار ماحول ہو اور ہراسمنٹ ایکٹ پر صحیح معنوں میں عملدآمد ہو تو خواتین آگے بڑھ سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب وویمن پروٹیکشن ایپ کامیابی سے چل رہی ہے، اب تک 2 لاکھ سے زائد ڈاؤن لوڈز ہوچکی ہے، سال 21ء میں ڈومیسٹک وائلنس کے ایک لاکھ 62 ہزار 378کیسز بذریعہ ایپ رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔