لانگ مارچ اور اس کا انجام

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 28 نومبر 2022
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

جس لانگ مارچ کا بہت چرچا تھا اور جسے اس ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ قرار دیا جا رہا تھا وہ شروع بھی ہوا تو بڑے لیت و لعل اور انتظار کے بعد، آگے بھی بڑھا تو بڑی سست رفتاری کے ساتھ اور اختتام پذیر بھی ہوا تو بڑی مایوسی کے ساتھ۔ جس کی کامیابی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے بھی کیے جا رہے تھے اور جو وفاقی حکومت گرانے کے مقصد سے چلا تھا وہ اپنی ہی صوبائی حکومتوں کے گرانے کے اعلان پر منتج ہوگیا۔

2014 میں ایک کامیاب لانگ مارچ اور ڈی چوک پر 126 دنوں تک پڑاؤ ڈالنے کے پیچھے جن سہولت کاروں کا ہاتھ تھا وہ ہاتھ اس بار خان صاحب کی مدد کو موجود نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر علامہ طاہر القادری کے مدرسوں کے طلباء اور اُن کے خاندان والوں کی کمک بھی حاصل نہ تھی ، اسی لیے اس بار دھرنا ترتیب نہیں دیا جاسکا۔

خان صاحب اور اُن کی جماعت کے حمایتیوں میں بہت بڑی تعداد ہمیشہ سے مراعات یافتہ امیر اور کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگوں کی رہی ہے اور وہ یوں سڑکوں پر رات دن پڑاؤ ڈال کر خیموں میں نہیں رہ سکتی ہے۔

وہ تو خود خان صاحب کی طبیعت بھی ایسی تکالیف برداشت کے قابل نہیں ہے۔ اسی لیے پچھلے مہینے شروع کیا جانے والا لانگ مارچ بھی قسطوں میں چلتا اور آگے بڑھتا رہا۔ ہر روز چند ہزار لوگ کسی مقام پر جمع ہو جاتے اور وہ خان صاحب کی تقریر سن کر واپس اپنے گھروں کو جا کر آرام کی نیند سو جاتے۔

یہی طرز عمل خان صاحب اور اُن کے ساتھیوں کا بھی تھا۔ دنیا کی تاریخ میں ہونے والے لانگ مارچوں میں ایسی مثال ہمیں شاید ہی کوئی مل پائے جو دوچار کلومیٹر چل کر ازخود سمیٹ دیا جائے اور دوسرے دن پھر کسی دوسرے مقام سے دوبارہ شروع کر دیا جائے۔ ایسا منفرد لانگ مارچ واقعی خان صاحب ہی کا کارنامہ ہے۔

ان صاحب نے گزشتہ8ماہ سے احتجاجی مظاہروں اور اپنی تقریروں پر مشتمل پچاس سے زائد جلسوں کی ایک تاریخ ضرور رقم کی ہے۔

جس دن سے وہ اپنے اقتدار سے معزول ہوئے ہیں چین سے نہیں بیٹھے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو شاید غلط اور بے جا بھی نہ ہوگا کہ نہ صرف خود چین سے نہیں بیٹھے ہیں بلکہ حکومت کو بھی چین سے کام کرنے نہیں دے رہے۔ اُن کی کوشش اور جستجو یہی رہی ہے کہ کسی طرح یہ حکومت مستحکم نہ ہو پائے اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہ ہو پائے، کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو اُن کی ساری سیاست دھری کی دھری رہ جائے گی۔

وہ جب تک برسر اقتدار رہے کوئی بھی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے اور جب معزول کیے گئے تو جاتے جاتے معاشی استحکام کی راہ میں ایسی سرنگیں بچھا گئے کہ جن سے یہ حکومت ابھی تک اپنی جان چھڑا نہیں پائی ہے۔

عالمی کساد بازاری کا یہ حال ہے کہ بڑے سے بڑا امیر ملک بھی روس اور یو کرین کی لڑائی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پایا ہے۔ دنیا کے کئی چھوٹے ترقی پذیر ممالک سخت مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہیں دیوالیہ ہونے کی حدوں کو چھونے لگا ہے۔ ایسے میں سیاسی عدم استحکام مزید ابتری کا باعث بن رہا ہے۔

ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اگر خان صاحب کے مطالبہ پر قبل از وقت نئے الیکشن بھی کروا دیے جائیں تو کیا اس کی کوئی ضمانت دے سکتا ہے کہ ہم معاشی طور پر مستحکم ہوجائیں گے۔ الیکشن کے نتائج اگر خان صاحب کی مرضی اور توقعات کے مطابق نہ ہوئے تو کیا خان صاحب چین سے بیٹھ جائیں گے یا پھر وہ اگر جیت گئے تو اُن کی اپوزیشن وہ طرز عمل اختیار نہیں کرے گی جو خان صاحب آج اُن کے خلاف کر رہے ہیں۔ ہمیں تو دونوں صورتوں میں سیاسی استحکام دکھائی نہیں دے رہا۔

خان صاحب پر سیاست کا بھوت اور جنون اُن کے سر پر بھرپور طریقہ سے سوارہو چکا ہے اور وہ اب ایک خود کش سیاستدان بن چکے ہیں۔ وہ دوسروں کو بھسم کر دینے کی خواہش میں خود کو بھی جلا دینے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔

ایسے سیاستدان سے یہ توقع کرنا کہ وہ کوئی معقول اور مثبت سیاسی سمجھوتے پر راضی ہوجائے گا ایک فضول اور عبث بات ہی تصور کی جائے گی۔

ہمیں تو کم از کم یہ توقع اور اُمید ہرگز نہیں ہے بلکہ ہمیں تو پورا اور کامل یقین ہے کہ نئے انتخابات کے بعد بھی خان صاحب چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ اس ملک میں احتجاج کی ایسی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں جس میں اگر وہ کامیاب نہ ہوسکے تو کوئی دوسرا بھی کامیاب نہ ہو پائے۔ خواہ اس کوشش میں سارا ملک ہی داؤ پر لگ جائے۔

مجیب الرحمن کو اس ملک کے واحد صاف اور شفاف الیکشن میں 156 نشستوں پر بھرپور  کامیابی نصیب ہوئی تھی لیکن اُن کا طرز عمل بھی اس قدر اشتعال انگیز اور ٖغیر ذمے دارانہ نہ تھا۔ تین مہینوں تک جب انھیں اقتدار نہیں سونپا گیا تو پھر انھوں نے اپنی احتجاجی مہم شروع کی۔ اقتدار اُن کا آئینی اور جمہوری حق تھا جس سے انھیں محروم کر دیا گیا تھا ، لیکن ہمارے یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔

2018 میں جس طرح خان صاحب کو زبردستی جتوایا گیا اور درپردہ مکمل سپورٹ کے ساتھ چار سال تک چلایا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، لیکن اب اگر انھیں وہ سپورٹ حاصل نہ رہی تو اس پر اتنا مضطرب اور بے چین ہونا درست عمل نہیں ہے۔ سیاست میں ایسے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ کوئی دائمی مقبول نہیں رہ سکتا ہے۔

ملائیشیا کے مہاتیر محمد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کل کا اتنا مقبول رہنما آج الیکشن میں اپنی ضمانت بھی ضبط ہونے سے بچا نہیں سکا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ملائیشیا کو ایک مالدار ترقی یافتہ ملک بنانے والا شخص آج اس قدر غیر مقبول ہوجائے گا۔

دنیا میں عروج و زوال کی داستانیں بہت عام ہیں۔ کسی کو بھی نہ دائمی عروج حاصل ہوتا ہے اورنہ زوال۔ خان صاحب کو بھی اپنے طرز عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور ایک منجھے ہوئے بالغ نظر سیاستدان کی طرح سیاست کو سیاست کے طور پر کھیلنا ہوگا۔

ضد اور انا پرستی کی راہ سے ہٹ کر ملک وقوم کی بہتری کے لیے سوچنا ہوگا ، وہ 8 مہینوں میں تو اپنے مطالبات منوا نہیں پائے ہیں لہٰذا نئے الیکشن کے مقررہ وقت پر ہونے تک آرام و سکون سے بیٹھ جانا ہوگا۔

محاذ آرائی اور انتشار کی مسلسل سیاست سے ہوسکتا ہے وہ اپنی مقبولیت بھی گنوا بیٹھیں۔ آٹھ دس مہینے اور انتظار کر لیں اور ایک بھرپور طریقے سے نئے الیکشن کی تیاری کریں۔ اچھے اور قابل افراد کی ٹیم بناکے ملک کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔