کیڑوں سے علاج کے قدیم طریقے کی عہدِ جدید میں واپسی

ویب ڈیسک  پير 28 نومبر 2022
بایوموندے نامی کمپنی کا ایک کارکن لاروا تھراپی میں استعمال ہونے والے کیڑے دکھارہا ہے۔ فوٹو: دی ویک

بایوموندے نامی کمپنی کا ایک کارکن لاروا تھراپی میں استعمال ہونے والے کیڑے دکھارہا ہے۔ فوٹو: دی ویک

 لندن: برطانیہ میں باضابطہ طور پر زخم بھرنے کے لیے بھورے اور سفید کیڑوں (میگٹ اور لاروا) سے مدد لی جارہی ہے۔ برطانوی طبی انجمن ،این ایچ ایس نے باضابطہ طور پر اس کی مںظوری دیدی  ہے۔

اسے لاروا تھراپی کہتے ہیں جس کا ذکر ہزاروں سال قدیم لٹریچر میں بھی ملتا ہے اور دوسری عالمی جنگ میں بھی گہرے زخم بھرنے کے لیے لاروا تھراپی استعمال کی گئی تھی۔ اب یہ حال ہے کہ برطانیہ میں اس کا استعمال 50 فیصد تک بڑھ چکا ہے کیونکہ یہ اینٹی بایوٹک ادویہ کو ناکام بننے سے روکتی ہے جس میں ٹی بیگ سےبھرے کیڑے زخم پر لگائے جارہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ناسور اور گہرے زخم اینٹی بایوٹکس ادویہ کو ناکام بنارہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر اس عجیب و غریب علاج کو اپنارہے ہیں۔ سال 2004 میں نیشنل ہیلتھ سروس برطانیہ نے اس کی منظوری دی تھی کیونکہ یہ کم خرچ اور مؤثر علاج بھی ہے۔ اس ضمن میں بایوموندے نامی ایک کمپنی ہر سال کیڑوں سے بھرے 9000 بیگ مختلف ہسپتالوں کوفراہم کرتی ہے جنہیں بایو بیگ (حیاتیاتی تھیلے) کا نام دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات کیڑوں کو آخری علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ زخم ٹھیک نہیں ہوتا اور اینٹی بایوٹک ادویہ کو بے اثر کرتا رہتا ہے۔
بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ کراہیت بھرا علاج ہے لیکن اپنے زخم سے پریشان مریض لاروا تھراپی پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر اور نرس بھی اس کے حق میں نمایاں ہیں۔ بہت سے ماہرین نے کیڑوں سے علاج کو بہت مفید قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔