ماہی گیروں کے جال میں نایاب گھوڑا مچھلی پھنس گئی

آفتاب خان  بدھ 30 نومبر 2022
فوٹو ایکسپریس

فوٹو ایکسپریس

 کراچی: ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے جال میں نایاب مچھلی پھنسی جسے انہوں نے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔

ماہی گیروں نے دعوی کیا ہے کہ ان کے جال میں پھنسنے والی لگ بھگ مچھلی دس سے بارہ فٹ لمبی تھی، جس کا شمار نادر و نایاب نسل کی مچھلیوں میں ہوتا ہے۔

ماہی گیر محمد صدیق نے بتایا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ گڈانی میں گہرے سمندر گئے اور جال پھینکا تو اس میں گھوڑا مچھلی پھنسی، جس پر جال کو واپس کھینچ کر مچھلی کو نکالا اور اُسے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔

horse-fish-2

شکاریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی اتنی لمبی گھوڑا مچھلی نہیں دیکھی۔ ماہی گیروں نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ یہ مچھلی معدومیت سے دوچار ہے اور اس کو فروخت کرنے پر پابندی ہے۔

تیکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف معظم خان کے مطابق گھوڑا مچھلی معدومیت سے دوچار نہیں ہے، گھوڑا مچھلی پاکستانی سمندروں میں وافرمقدار میں ملتی ہے، پچھلے سال یہ مچھلی 2200 ٹن کے لگ بھگ شکار کی جاچکی ہے۔

horse-fish-1

 

انہوں نے بتایا کہ اس مچھلی کو انڈوپیسفیک سیل فش کے نام سے پکارا جاتا ہے، پاکستان میں اس مچھلی کا گوشت بہت زیادہ رغبت سے نہیں کھایا جاتا،اس مچھلی کے شکار کے بعد ایران اسمگل کردیا جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔