آلو کی افغانستان اسمگلنگ، مقامی سطح پر قلت کا خدشہ

بزنس رپورٹر  اتوار 30 مارچ 2014
موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہوگئے،کمی پوری کرنے کیلیے انڈیا سے منگوانا پڑیگا۔ فوٹو: فائل

موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہوگئے،کمی پوری کرنے کیلیے انڈیا سے منگوانا پڑیگا۔ فوٹو: فائل

کراچی: آلو کی پیداوار کم ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر زمینی راستے سے افغانستان اسمگلنگ کے سبب مقامی سطح پر آلو کی قلت کا خدشہ ہے۔

زمینداروں اور بیوپاریوں نے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے آلو اسٹاک کرنا شروع کردیا ہے۔ کراچی سبزی منڈی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آلو کی طلب پوری کرنے کے لیے بھارت سے آلو درآمد کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں سالانہ 45سے 50لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے تاہم رواں سیزن سخت موسم کہرے اور سردی کے سبب آلو کی فصل کو نقصان پہنچا ہے اور پیداوار 30فیصد سے کم ہے دوسری جانب کاشتکاروں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے سرحد پار آلو بھیجنے کی دوڑ نے بھی آلو کی فصل کو نقصان پہنچایا اور ایک سے دو ماہ قبل ہی پوری فصل کی تیاری کا انتظار کیے بغیر ہی آلو زمین سے نکال لیا گیا جس سے پیداوار میں مزید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان سے سالانہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیا جاتا ہے جبکہ زمینی راستے سے 4سے 5لاکھ ٹن آلو افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں کو بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان میں آلو کی فصل نومبر دسمبر میں آتی ہے تاہم اس سال اکتوبر میں ہی آلو کو نکالے جانے سے فصل کو نقصان پہنچا آلو کی پیداوار میں کمی سے مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور آلو کی فی من قیمت 1950روپے تک پہنچنے کے بعد 1500سے 1600روپے کے درمیان چل رہی ہے۔ تاجروں کے زمیندار اور بیوپاریوں نے بڑے پیمانے پر آلو اسٹاک کرنا شروع کردیا ہے جس سے خدشہ ہے کہ رمضان اور اس کے بعد آلو کی قیمت غیرمعمولی طور پر بڑھادی جائیگی۔ اس قلت سے نمٹنے کے لیے بھارت یا بنگلہ دیش سے آلو درآمد کرنا پڑے گا تاہم بھاری ڈیوٹی اور ٹیکسز کے سبب درآمدی آلو بھی مہنگا پڑے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔