شہباز شریف کی مفاہمت کی ایک اور جیت

مزمل سہروردی  جمعرات 1 دسمبر 2022
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

وزیر اعظم شہباز شریف کے نامزد کردہ آرمی چیف نے چارج سنبھال لیا۔ شہباز شریف کی جانب سے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے ملک میں ایک ہیجان تھا۔ ایک تنازعہ تھا۔ ایسا لگ رہاتھا کہ یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتوں کا ماحول تھا۔

عمران خان کہہ رہے تھے کہ لگانے نہیں دونگا۔ اتحادیوں کی بھی الگ سوچ سامنے آ رہی تھی۔ اسٹبلمشنٹ کی بھی الگ سوچ سامنے آرہی تھی۔

ایسے میں شہباز شریف کے پاس لندن کی بھی ہدایات تھیں۔ اس لیے ایسا لگ رہا تھا کہ شہباز شریف ایک بحرانی کیفیت میں پھنس گئے ہیں۔ عمران خان نے بھی ایک انٹرویو میں خوشی خوشی اعلان کیا کہ پنڈی اور اسلام آباد میں اختلافات ہو گئے ہیں۔

آرمی چیف کی سمری کی تاخیر نے بھی بحران کے شور میں اضافہ کیا۔سمری آئی ہے سمری نہیں آئی ہے‘ ملک بھر میں ایک شور مچ گیا۔ غرض کہ ہر طرف ایک نیا تجزیہ ایک نئی کہانی سننے کو مل رہی تھی۔

میں نے تب بھی کہا تھا کہ جو لوگ پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کی باتیں کر رہے ہیں، وہ شہباز شریف کو نہیں جانتے۔ شہباز شریف مفاہمت کے داعی ہیں۔

وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے سب سے بڑی وکیل ہیں۔ اس لیے ان کی وزارت عظمیٰ میں تناؤ اور کشیدگی ممکن نہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ پہلے عمران خان بھی پنڈی سے مفاہمت کے سب سے بڑی داعی تھے۔

پھر ان کا بھی تنازعہ ہو گیا۔ میں انھیں بہت کہتا تھا کہ شہباز شریف اور عمران خان میں فرق سمجھیں۔ وہ نواز شریف کی بھی مثالیں دیتے تھے ، میں انھیں کہتا تھا کہ آپ فرق سمجھیں، لیکن دوست نہیں مانتے تھے۔

عمران خان اور شہباز شریف کی مفاہمت میں بہت فرق ہے۔ عمران خان کی فوج سے مفاہمت اقتدار سے مشروط ہے۔ ماضی میں بھی عمران خان فوج کے خلاف گفتگو کرتے رہے ہیں‘ صرف جب اقتدار ملا تو حق میں گفتگو کی ہے۔

دوسری طرف شہباز شریف کی اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کسی اقتدار سے مشروط نہیں۔ عمران خان کے دور اقتدار میں جب وہ جیل میں تھے تب بھی وہ مفاہمت کی بات کر رہے تھے۔ جب ان پر مقدمات کی بھر مار تھی‘ ان کے سیاسی مستقبل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی وہ تب بھی مفاہمت کی بات ہی کر رہے تھے۔

جب لوگ شہباز شریف کو طعنے دے رہے تھے کہ مفاہمت نے انھیں کیا دیا ہے۔ اسٹبلشمنٹ انھیں کوئی گھاس نہیں ڈال رہی۔ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی ایک ماحول تھا کہ ان کی مفاہمت کی پالیسی کوئی نتائج نہیں دے رہی۔ لیکن وہ جیل کال کوٹھری سے بھی مفاہمت کی بات ہی کر تے رہتے تھے۔ اسی دوران میں نے بھی ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ آپ کی مفاہمت کی پالیسی کوئی اچھے نتائج نہیں دے رہی۔ آپ کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

ایسے میں کیا اس پالیسی کو خیر باد کہنے کا وقت نہیں آگیا۔ تو شہباز شریف نے ہنستے ہوئے مجھے کہا مفاہمت کی بات کسی مفاد کے لیے نہیں۔ یہی اس کا امتحان ہے۔

برے وقت میں مفاہمت کی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ میری مفاہمت کسی اقتدار سے مشروط نہیں ۔ میں دلی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا حامی ہوں۔ اس لیے جتنا برا وقت آئے گا میں اتنی زور سے مفاہمت کی بات کروں گا۔

اور پھر ہم نے دیکھا کہ جیل کی کال کوٹھری سے شہباز شریف کی مفاہمت کی گونج پر ان کی پوری جماعت متحد ہو گئی۔ ایک وقت تھا کہ جب وہ مسلم لیگ (ن )میں تنہا تھا۔ پھر پوری جماعت ان کے ساتھ آگئی۔ لوگ بتاتے ہیں کہ مزاحمت پر مفاہمت والے حاوی ہو گئے۔

اس لیے مزاحمت والوں کو سرنڈر کرنا پڑ گیا۔ اس لیے جس نے مفاہمت کے لیے اتنی قربانیاں دی ہوں وہ کیسے پنڈی سے کشیدگی کر سکتا ہے۔

اس لیے آپ دیکھیں پھر شہباز شریف کی مفاہمت ہی جیت گئی ۔ وہ جنرل باجوہ کو توسیع نہیں دینا چاہتے تھے۔ لیکن انھوں نے جنرل باجوہ کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ ان کے خلاف کوئی ماحول نہیں بنایا۔ شہباز شریف نے مفاہمت سے مشکل ہدف حاصل کرنے کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ اپنی بات منوانے کے لیے لڑنا ضروری نہیں ہے۔ خاموشی سے بھی کام کیا جا سکتا ہے۔

آپ دیکھیں اس پورے وقت کے دوران وہ خاموش رہے۔ انھوں نے عمران خان کی طرح کوئی روزانہ انٹرویو دینے اور ٹوئٹ کرنے کا سلسلہ شروع نہیں کیا۔ جب عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر بحران پیدا ہوا تھا۔تو میڈیا پر گفتگو نے بحران کو زیادہ خراب کیا تھا۔ شہباز شریف نے نہ صرف خود خاموشی رکھی بلکہ اپنی ٹیم کو بھی خاموش رہنے کا حکم دیا۔

اس خاموشی نے بھی ماحول کو ٹھنڈا رکھا۔ خاموشی نے بھی مفاہمت کو آگے بڑھایا۔ ویسے تو شہباز شریف کے کورونا نے بھی اس موقع پر کافی مدد کی۔ کہا جا سکتا ہے کہ کورونا سیاسی طور پر مفید ثابت ہوا۔

چند دن شہباز شریف کو سیاسی تنہائی درکار تھی اور کورونا نے انھیں وہ تنہائی دے دی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کورونا ایک سیاسی کورونا ثابت ہوا ہے۔ کہیں نہ کہیں آج کہا جا سکتا ہے کہ کورونا نے مفاہمت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔