ڈیڈ پچ کس نے بنوائی؟

سلیم خالق  ہفتہ 3 دسمبر 2022
میرٹ پر نئے لوگوں کو آگے لائیں اورپچز بنوانے کا کام لیں، اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد کریں۔ فوٹو: گیٹی امیجز

میرٹ پر نئے لوگوں کو آگے لائیں اورپچز بنوانے کا کام لیں، اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد کریں۔ فوٹو: گیٹی امیجز

’’میں چاہتا ہوں ناقدین مجھے ٹویٹر پر ٹیگ کریں تاکہ پھر اس کا جواب میرے چاہنے والے انھیں دیں‘‘

زیادہ پرانی بات نہیں ایک میڈیا کانفرنس میں رمیز راجہ نے خاصے پراعتماد انداز میں اسی قسم کی باتیں کہی تھیں، انھیں زعم تھا بلکہ ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود چاہنے والے ان کے خلاف کوئی بات سن ہی نہیں سکتے اور وہ مخالفین سے نمٹ لیں گے۔

البتہ اب اپنے نام کا ٹرینڈ چلتا دیکھ کر انھیں وضاحتیں دینے پر مجبور ہونا پڑا، اگر آپ کوئی فلمی ہیرو یا ہیروئن ہیں تو لوگ صورت سے محبت کرتے ہیں اور کسی بات سے غرض نہیں ہوتی لیکن کسی بڑی پوزیشن پر موجودگی کے بعد پسندیدگی کا معیار کارکردگی ہوتی ہے، اچھے کام کریں گے تو سراہا جائے گا جہاں کچھ غلط ہوا تنقید بھی سہنا پڑے گی، رمیز کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

وہ نئے نئے چیئرمین بنے تو لوگوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن اب جب معاملات درست انداز میں چلتے دکھائی نہیں دے رہے تو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب راولپنڈی کی پچ ہی کو دیکھ لیں، آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں بھی شکست کے ڈر سے ڈیڈ پچ بنائی گئی جس پر رنز کے ڈھیر لگے۔

آئی سی سی تک نے تنقید کی، اس وقت جب ارباب اختیار سے پوچھا گیا تو جواب ملا ’’ کیا تیز پچز بنوا کر اپنی ٹیم کو ہروا دیں‘‘جب آپ کی ایسی سوچ ہو گی تو کیسے جیتیں گے،آج چیئرمین صاحب نے فرمایا کہ ’’راولپنڈی کی پچ ہمارے لیے شرمناک ہے‘‘۔ جناب کس نے اسے بنوایا،کیا آپ یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ کوئی کیوریٹر بورڈ حکام سے پوچھے بغیر اپنی مرضی کی پچ بنا دے، ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا۔

کپتان اور کوچ سے بھی یقینا رائے لی گئی ہو گی، رمیز جب آئے تو ڈراپ ان پچز کی بات کہی،اس وقت ایک سابق کرکٹر نے قہقہہ لگا کر کہا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہوگا، اتنی بڑی پچ کیا قذافی اسٹیڈیم کا دروازہ توڑ کر اندر لائی جائے گی، باہر کے ممالک میں چونکہ کثیر المقاصد اسٹیڈیمز ہوتے ہیں اس لیے ڈراپ ان پچز استعمال کی جاتی ہیں، پاکستانی میدانوں میں کرکٹ کے سوا کون سا دوسرا کھیل ہوتا ہے۔

جہاز پر باہر سے پچ لانے پر ہی کروڑوں روپے لگ جائیں گے، بعد میں یہی ہوا خاموشی سے یہ آئیڈیا ڈراپ  کر دیا گیا،پھر آسٹریلین مٹی منگوانے کی باتیں ہوئیں، وہ مٹی بھی کہیں پڑی ہوئی ہے، کہیں مٹی کے پیسے مٹی میں ہی نہ مل جائیں،پہلے تو پاکستان سے مٹی بیرون ملک جاتی تھی اب ہم منگوا رہے ہیں، آج یہ بھی کہا گیا کہ اب ملک میں ہی ڈراپ ان پچز بنائی جائیں گی، ایسا لگتا ہے کہ شائقین کو ہی گھمایا جا رہا ہے۔

کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہا جاتا ہے، بزرگ آغا زاہد کو رمیز راجہ واپس لے کر آئے تب سے ملکی پچز کا یہ حال ہوا ہے،موجودہ چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے سے قبل گذشتہ سال فروری میں جنوبی افریقہ سے سیریز بھی پاکستانی پچز پر ہوئی تھی،اسی راولپنڈی میں پاکستان نے 95 رنز سے کامیابی حاصل کی اور پیسر حسن علی نے میچ میں 10 وکٹیں لی تھیں، پروٹیز پیسر نورکیا نے پہلی اور اسپنر جارج لینڈے نے دوسری اننگز میں 5،5 شکار کیے، محمد رضوان اورمارکرم نے دوسری اننگز میں سنچریاں بنائیں، پہلی میں بابر اعظم اور فہیم اشرف نے 70سے زائد رنز اسکور کیے تھے۔

مطلب وہ اتنی زبردست پچ تھی کہ وہاں پیسرز، اسپنرز اور بیٹرز سب نے صلاحیتوں کا بہترین اظہار کیا، اب وہاں کی پچ کو کیا ہواکہ آسٹریلیا اور اب انگلینڈ کیخلاف میچز میں تنقید کا طوفان آگیا،صاف ظاہر ہے کہ دانستہ طور پر ایسی پچ بنوائی جہاں ہارنے کا چانس کم ہو ،پروٹیز سے سیریز کا کراچی ٹیسٹ بھی فیصلہ کن رہا تھا جہاں فواد عالم نے سنچری بنائی اور اسپنر نعمان علی نے اننگز میں 5 شکار کیے جبکہ پیسرز کی کارکردگی بھی بہتر رہی،آسٹریلیا سے سیریز میں کراچی کی پچ بھی بے جان تھی، اب کیوں پچز ایسی ڈیڈ بن رہی ہیں؟اس کا جواب اپنے گریبان میں جھانک کر مل جائے گا۔

یہ پالیسی درست نہیں کہ کچھ اچھا ہو تو میں نے کیا مگر جہاں تنقید ہونے لگے وہاں دوسروں کو بس کے آگے پھینک دیا جائے،اگر آپ 40 سال کے جیمز اینڈرسن سے ڈر کر سپورٹ پچز نہیں بنوا رہے تو کرکٹ کھیلنا چھوڑ دینی چاہیے،کچھ عرصے پہلے تک ڈومیسٹک میچز میں بہتر پچز بن رہی تھیں جس پر فاسٹ بولرز بھی وکٹیں اڑاتے مگر پھرہدایت جاری کی گئی کہ بیٹنگ کیلیے سازگار پچز بنائی جائیں،اس کا نتیجہ آپ دیکھ لیں قائد اعظم ٹرافی میں کتنے میچز فیصلہ کن ثابت ہوئے؟ ڈراپ ان پچز کا پاکستان میں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، پہلے ہی آپ نے جونیئر لیگ کے نام پر اربوں روپے پھونک دیے۔

اب مزید کئی ارب کی پچز منگوا لیں تو پھر خزانہ خالی ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا،کہیں ایسی ڈیڈ پچز بنوا کر ڈراپ ان پچز منگوانے کی راہ تو ہموار نہیں کی جا رہی، اس کے بجائے اصل ماہرین کا تقرر کریں جو سائنسی بنیادوں پر یہ کام کریں، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آفیشل آیا تھا، بیچارے کو اتنا ستایا گیا کہ نفسیاتی مریض بن کر بورڈ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گیا، اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والے آج بھی پی سی بی میں عیش کر رہے ہیں، رمیز راجہ اگر واقعی اچھی پچز چاہتے ہیں تو آغا زاہد صاحب کو پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلنے دیں، اس عمر میں انھیں آرام کی ضرورت ہے۔

میرٹ پر نئے لوگوں کو آگے لائیں اورپچز بنوانے کا کام لیں، اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد کریں،اگر دوسری ٹیم ہمیں جلد آؤٹ کر دے گی تو ہمارے پاس بھی تو ایسے بولرز ہیں جو ایسا کر سکیں، پھر بابر اعظم جیسا بیٹر بھی موجود ہے،ہارنے سے دنیا ختم نہیں ہو جاتی، اچھا کھیل لوگوں کو یاد رہتا ہے،آسٹریلیا کے خلاف بھی تو ڈر کر ڈیڈ پچز بنوانا چاہیں مگر پھر بھی لاہور میں شکست کے بعد سیریز گنوا دی، نیت اچھی ہو تو نتائج بھی مثبت سامنے آتے ہیں، ویسے ہی لوگ ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہو رہے ہیں، پلیز اب انھیں اتنا دور نہ لے جائیں کہ واپس آنا ہی ممکن نہ ہو۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔