کسٹمز انٹیلی جنس اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ کے مابین معاہدہ طے

احتشام مفتی  ہفتہ 3 دسمبر 2022
خطے میں منشیات کی روک تھام کیلیے نئے ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے باہمی تعاون کیا جائیگا۔ فوٹو: اے پی پی

خطے میں منشیات کی روک تھام کیلیے نئے ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے باہمی تعاون کیا جائیگا۔ فوٹو: اے پی پی

کراچی: ڈائریکٹوریٹ جنرل کسٹمز انٹیلیجنس اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے درمیان پاکستان اور خطے میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے نئے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون طے پاگیا ہے۔

خطے میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے نئے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون امریکا کے محکمہ انصاف کے ماتحت ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ایک اعلی سطحی وفد کی جمعہ کو ڈی جی کسٹمز انٹیلیجنس فیض احمد کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کا گیا۔

وفد کی قیادت کنٹری اتاشی برائے پاکستان جعفری اے کونوالینکا کررہے تھے۔ دوران اجلاس ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلیجنس فیض احمد نے اپنے ادارے کی بنیادی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ تصادفی طور پر کام نہیں کرتا بلکہ قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر اپنا کام انجام دیتا ہے۔

ادارے کو معلومات کے حصول میں بہترین مہارت حاصل ہے اور انہی ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز میں کامیابی کی شرح 90فیصد سے زائد ہے تاہم امریکی حکومت کی ڈی ای اے کے تعاون سے پاکستان کی صلاحیت کو مزید بہتر ہوسکے گی۔

امریکا کے کنٹری اتاشی جعفری اے کونوالینکا نے بتایا کہ امریکی حکومت کی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن 1973 میں قائم ہوئی تھی جسکے 4ہزار سے زائد ملازمین ہیں۔

انھوں نے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن، ڈپارٹمنٹ آف جسٹس، یو ایس اے کی جانب سے فوری معلومات اکھٹی کرنے اور ضبطی کے بعد معیاری تحقیقات پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز انٹیلیجنس کی استعداد کار میں اضافے میں مدد کا یقین دہانی کرتے ہوئے دونوں ایجنسیوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے لیے وقف مواصلاتی چینل کھولنے پر بھی اتفاق کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔