یوکرین عالمی طاقتوں کے شکنجے میں

کاشف اعوان  پير 31 مارچ 2014
 یوکرین میں اچانک مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہونا کئی لحاظ سے قابل بحث ہے۔ فوٹو: رائٹرز

یوکرین میں اچانک مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہونا کئی لحاظ سے قابل بحث ہے۔ فوٹو: رائٹرز

یوکرینی ریاست کریمیا کے معاملے پر امریکا اور روس کے درمیان جاری چپقلش کے نتیجے میں یوکرین دو لخت ہوگیا ہے ، دونوں سپر پاورز ذاتی مفادات کے حصول کیلئے یوکرین کو لے کر آمنے سامنے آگئیں ہیں، امریکا ، جرمنی اور دیگر مغربی طاقتیں یوکرین کو مغربی بلاک کا حصہ بنانا چاہتی ہیں جبکہ یوکرین وہ خوش قسمت ملک ہے جس کا بارڈر کئی ممالک سے لگتا ہے لیکن یہ خوش قسمتی ہمیشہ اس ملک کیلئے پریشانی کا باعث ہی بنی۔

اگر یوکرین کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک نے 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد خودمختار ملک کی حیثیت اختیار کی لیکن اس کے باوجود روس ، امریکا اور مغربی ممالک کی نظریں اس پر لگی رہیں یہی نہیں یورپی یونین جرمنی کی سرپرستی مسلسل یوکرائن کو اپنے زیر اثر لانے کیلئے کام کرتی رہی ہے۔

آخریوکرین میں سیاسی بحران کی اصل وجہ کیا تھی، اس سوال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں سیاسی بحران نے اس وقت طول پکڑنا شروع کیا جب روسی نواز صدر وکٹر یانوکووچ نے حکومت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد دارالحکومت کیف میں مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا اور پرتشدد مظاہروں کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

 یوکرین میں اچانک مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہونا کئی لحاظ سے قابل بحث ہے کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے پورے ملک میں مظاہروں کے بجائے صرف دارالحکومت کیف میں ہی شدید اور پرتشدد مظاہرے کئے گئے جس کے تانے بانے امریکا اور دیگر ممالک تک جا ملتے ہیں، الغرض عوامی احتجاج کے سامنے صدر وکٹر یانوکووچ کو صدارتی محل چھوڑ کر روسی سرحد سے متصل ریاست کریمیا میں جا کر چھپنا پڑا جہاں روسی النسل آبادی آباد ہے۔

یوکرینی صدر کی معزولی کے بعد ہر لمحے بدلتی صورتحال، کریمیا کے عوام کا ریفرنڈم کے ذریعے روس کے ساتھ الحاق کرنا اور روس کی جانب سے اپنی فوجیں یوکرین کی سرحدوں پر لگانے سے لگتا ہے کہ امریکا اور روس اپنی ذاتی لڑائی کی آڑ میں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

یوکرین کے معاملے میں امریکا اور یورپ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور روس کے جارحانہ رویے سے لگتا ہے کہ سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے جس میں یوکرین کو استعمال کیا گیا، روس بھی نیٹو کے مقابلے میں سویت یونین کی بحالی چاہتا ہے جس کیلئے یوکرین کو اس نے استعمال کیا، اس سے قبل بھی روس عیسائی اقلیت کے تحفظ کے نام پرفن لینڈ ، پولینڈ اور جرمنی کے کئی سو کلو میٹر رقبے پر قبضہ کرچکا ہے۔ جبکہ 1917 میں لینن کے اشتراکی نظریے کے بعد تو روس نے مذہبی لبادہ اتار کر کمیونزم کی چادر اوڑھی اور کمیونسٹ نظام کے دفاع کیلئے پڑوسی ملکوں کو تاراج کرنے لگا، یہی نہیں 50 اور 60 کی دہائی میں روسی فوجیں ہنگری، پولینڈ اور یوگوسلاویا میں داخل کی گئیں اور 1979 میں افغانستان پر چڑھائی بھی کمیونزم کے دفاع کے نام پر کی گئی۔

1991 میں سویت بٹوارے کے بعد روس نے پڑوسی ملکوں پر چڑھائی کا نیا بہانہ تراشہ اور اب یہ کام دوست ملکوں کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے نام پر کیا جارہا ہے اسی طرح امریکا نے بھی امریکی عوام کے تحفظ کیلئے عراق، افغانستان پر چڑھائی کی اور انہیں تباہ کرکے رکھ دیا جبکہ یمن ، مصر اور لیبیا میں سیاسی کھیل کھیل کر وہاں کا نقشہ بھی بدل کررکھ دیا۔

اگر اس بار امریکا اور روس نے یوکرین میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے نام پر کوئی کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو یہ کسی ایک ملک کی لڑائی نہیں بلکہ تیسری عالمی جنگ کی جانب پیش قدمی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔