- تحریک انصاف پر پابندی کے اشارے مل رہے ہیں، زلمے خلیل زاد
- تحریک انصاف کی سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت
- عرب امارات: رمضان کی آمد پر 1 ہزار 25 قیدیوں کی رہائی کا حکم
- پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پرجلسے کی اجازت مل گئی
- جان لیوا پھپھوندی کا انفیکشن امریکا میں تیزی سے پھیلنے لگا
- سابق ٹینس چیمپئن مارٹینا ناوراتیلووا نے کینسر کو شکست دے دی
- جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں سے مقابلہ، آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر مصطفیٰ کمال برکی شہید
- جنوبی افریقا کی تیسرے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کو شکست، سیریز1-1سے برابر
- ملک کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلے میں 4 جاں بحق، سوات سب سے زیادہ متاثر
- بھارتی پنجاب میں خالصتان کے حامی سکھوں کیخلاف آپریشن سے خوف و ہراس
- قرآن نذرآتش کرنے والے سیاستدان کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی
- پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام چار بجے ہوگا
- 3 امریکیوں نے سعودی عرب کا اہم ایوارڈ اپنے نام کرلیا
- کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید، دوسرا زخمی
- روس نے یوکرین امن مذاکرات میں 4 ممالک کی شرکت مسترد کردی
- ای سی سی؛ گلگت بلتستان کیلئے 25 ہزار میٹرک ٹن گندم جاری کرنے کی منظوری
- سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا
- ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر حملہ، تین فوجی جوان شہید
- زمان پارک سے گرفتار دو افراد کا کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطے کا دعویٰ
- بلوچستان میں کم عمری کی شادی روکنے کے قانون کا مسودہ تیار
مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضوں کی امریکی مخالفت

—فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی آنے والی حکومت سے متعلق فیصلے شخصیات پسندی پر مبنی نہیں بلکہ اٹھائے جانے والے اقدامات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم انفرادی شخصیات کے بجائے حکومتی پالیسیوں سے اندازہ لگائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے “امید کے افق” کو برقرار رکھنے کے لیے “انتھک محنت” کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی بھی غیر واضح طور پر مخالفت کرتے رہیں گے جس میں آبادکاری کی توسیع، مغربی کنارے کے الحاق کی طرف بڑھنا، مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت میں خلل، مسماری اور بے دخلی سمیت تشدد پر اکسانا بھی شامل ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ ’بنیادی جمہوری اصولوں پر اصرار کرے گی، بشمول ہم جنس پرست لوگوں کے حقوق کا احترام‘۔
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔