کمرہ عدالت میں ’’گاؤن‘‘ پہننے کا تنازع؛ وکیل کو سزا سنانے پر معاملہ شدت اختیار کرگیا

محمد ہارون  پير 5 دسمبر 2022
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ کے جج شہزاد احمد خان نے کمرہ عدالت میں گاؤن پہننے پر وکیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے اور پولیس کو فوری طور پر وکیل کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا حکم سنا دیا۔

ایکسپریس نیوز کے  مطابق بار اور بنچ کے درمیان تنازعات کا کھڑا ہونا عدالتی تاریخ کا نیا انوکھا واقعہ نہیں ہے ماضی میں بھی بار بنچ کے درمیان تنازعات رہے ہیں جس کی وجہ سے سائلین کو پریشانی کا سامنا رہا ہے۔

رواں برس کے آخری ماہ کے شروع ہوتے ہی ممبر پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ کے سینیر ترین جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کے درمیان کمرہ عدالت میں گاؤن پہننے کے معاملے پر تلخ کلامی کا افسوسناک واقعہ رونما ہوا، جس پر لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ممبر پنجاب بار کونسل رانا آصف کو کمرہ عدالت میں گاؤن پہننے اور فاضل جج سے تلخ کلامی پر شوکاز نوٹس جاری کیا۔

فاضل جج نے ممبر پنجاب بار کونسل رانا آصف کو توہین آمیز رویے پر شوکاز نوٹس جاری کیا، جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ممبر پنجاب بار رانا آصف کمرہ عدالت میں گاؤن پہننے سے منع کیا تھا، عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گاؤن پہننے کی جگہ نہیں آپ باہر جائیں اور گاؤن پہن کر آئیں۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شوکاز نوٹس پر دو دسمبر کو ایک بجے سماعت کیلئے طلب کیا، اس دوران وکیل کےخلاف توہین عدالت کا معاملہ پر وکلاء جستس ملک شہزاد احمد خان کی عدالت کےباہر جمع ہوئے اور زبردست نعرے بازی کی۔

وکلاء کی جانب سےتوہین عدالت کی کاروائی مقررہ وقت پرشروع نہ کرنے پر نعرے بازی کی گئی، فاضل جج کی سکیورٹی کے پیش نظر کمرہ عدالت کےباہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی اور ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی سول لائنز بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے اور پولیس کی اضافی نفری بھی ہائیکورٹ طلب کرلی گئی۔

فاضل جج صاحب نے وکیل کےخلاف توہین عدالت کیس کی چیمبر میں سماعت کی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے چیمبر میں ہونے والی سماعت میں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کو مسترد کیا تاہم وکلاء رانا آصف ایڈووکیٹ کو کمرہ عدالت سے لے کر پنجاب بار کونسل چلے گئے، عدالت نے رانا آصف ایڈووکیٹ کو عدالتی تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا جو چار گھنٹے عدالتی تحویل میں رہنے کے بعد وکلاء رانا آصف ایڈووکیٹ کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے۔

بار کےعہدیدار، وکلاء اور رانا آصف ایڈووکیٹ پنجاب بار کونسل پہنچے، فاضل عدالت نے رانا آصف ایڈووکیٹ کو تین ماہ کی سزاء کا حکم سنایا، سزا کے خلاف ممبر پنجاب بار کونسل نے ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے اپیل دائر کی اپیل کنندہ رانا آصف ایڈووکیٹ کے وکیل شفقت محمود چوہان عدالت پیش ہوئے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد وحید خان پر مشتمل بینچ نے بارہ بجے سماعت کا حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے وکیل کے نامناسب رویے کی خلاف 4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ توہین عدالت پر وکیل کو 3 ماہ کی سزاء اور چھ ماہ تک لائسنس معطل کیا جاتا ہے۔ رانا آصف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جاتے ہیں، پولیس رانا آصف کو گرفتار کرکے جیل بھجوائے۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ رانا آصف اہڈووکیٹ نے عدالت میں گاون پہنا اور نامناسب رویہ اختیار کیا۔ وکیل کو تین ماہ قید کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کے لیے دورکنی بینچ کی تشکیل نو ہوئی اور جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد وحید خان پر مشتمل تشکیل دیا گیا۔

3 دسمبر کو پنجاب بار کونسل نے جنرل ہاوس کا اپنا اجلاس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت کےسامنے بلالیاوائس چیئرمین پنجاب بار کونسل سید جعفر طیار دیگر ممبران کےہمراہ چیف جسٹس بلاک پہنچے۔

دو رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو عدالت نے استفسار کیا کہ رانا آصف ایڈووکیٹ خود کیوں نہیں آئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کئے بغیر اپیل کیسے سن سکتے ہیں، توہین عدالت کا قانون خصوصی قانون ہے۔

اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کا فیصلہ موجود ہے کہ سرنڈر کئے بغیر بھی اپیل پر سماعت کی جاسکتی ہے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رجسٹرار آفس کے پانچ اعتراضات دور کرنا لازم ہے۔

اپیل کنندہ کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت اس معاملے کو ہمدردانہ طور پر دیکھے، فاضل عدالت کے ریمارکس تھے کہ عدالت اس صورت میں ہمدردانہ طور پر دیکھے گی جب وکیل عدالت کےسامنے سرنڈر کرے گا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اپیل کا نمبر لگ کر آئے گا تو دیکھیں گے ابھی تو اعتراضی فارم ہمارے سامنے ہے۔ وکیل کی استدعا تھی کہ عدالت اپنے حکم سے ابھی نمبر لگوالے، عدالت نے اپیل کنندہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وکیل رانا آصف کو عدالت کے سامنے پیش کرے تاہم اپیل کنندہ عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور پنجاب بار کونسل نے وکیل کے خلاف سزا پر صوبے بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی، جس کے باعث آج لاہور سمیت صوبے بھر کی ماتحت عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ رہا جب کہ لاہور ہائیکورٹ میں وکلا دن بھر احتجاج کرتے رہے۔

پنجاب بار کونسل کا اجلاس بھی ہوا، جس میں منگل کو بھی ہڑتال کی کال دی گئی جب کہ بدھ کے روز سے ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔