اجتماعی گناہ… انفرادی کفارے

عبدالقادر حسن  منگل 1 اپريل 2014
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

مسلمانوں کے ہاں گناہوں کا کفارہ دے کر ان سے توبہ کی جاتی ہے اور یہی سمجھا جاتا ہے کہ اب ہم اس گناہ کی نحوست سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں کفارے تو بے شمار ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال دو چار کی بات کرتے ہیں جو اجتماعی گناہ ہیں۔ آج ہم مانگ کر کھا رہے ہیں اور خیرات دینے والے دوستوں کی فراخدلی پر فخر کرتے ہیں جب کہ یہ کوئی فراخدلی نہیں ان کی غریب پروری اور ذرہ نوازی ہے۔ ہمارے میڈیا میں ابھی قومی غیرت کی رمق باقی ہے اور وہ قوم کو اس کی سرکاری نہیں اصل حالت سے آگاہ رکھتا ہے۔ نہایت مختصر الفاظ میں عرض کرتا ہوں اور اس توقع کے ساتھ کہ آپ مجھ پر اعتماد کریں گے وہ عرض یہ ہے کہ ہمارے ملک کی جتنی کچھ آمدنی سامنے آتی ہے وہ ہمارے بااختیار اور بااثر لوگ جنھیں ہم اشرافیہ کہتے ہیں کسی نہ کسی بہانے کھا جاتے ہیں اور اس ہنر میں وہ یکتا اور ماہر ہیں۔ میرے جیسا پرانے خیالات کا پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ اگر ہم سانس لے رہے ہیں تو اس کی وجہ وہ چند اچھے پاکستانی ہیں جو ملک کے لیے ایثار کر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ وہ لوگ ہیں جو کھا نہیں رہے بلکہ اپنے شعبوں اور محکموں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔ ایسے مہربان لوگوں کی تعداد کم نہیں لیکن صرف دو چار کا ذکر کرتا ہوں جو اس مختصر سے کالم میں سما سکے۔

عبدالستار ایدھی کا ذکر تو بے کار ہے کہ آفتاب کی چمک دمک کو الفاظ میں کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔ میں اس وقت پولیس کے ذوالفقار چیمہ کا ذکر کرتا ہوں۔ سیاستدانوں کے گناہوں کے کفارے کے لیے شہباز شریف کا ذکر کرتا ہوں، تعلیم یافتہ اور بیورو کریسی کے اخوت والے ڈاکٹر امجد ثاقب کا ذکر کرتا ہوں، ہر صوبے اور ہر شہر میں ایسے لوگ بحمد ﷲ موجود ہیں جن کا ذکر کرنے کی خواہش رکھتا ہوں اور موقع ملنے پر کرتا بھی رہوں گا۔ پوری قوم کا اتفاق ہے کہ پولیس اس ملک کا کرپٹ ترین محکمہ ہے اور میڈیا کے ذریعے ہر روز بلاناغہ اس محکمے کی کرپشن کی زندہ خبریں سامنے آتی ہیں جو خود پولیس والے بھی پڑھتے ہیں مگر انھیں اپنے سے دور پرے جھٹک دیتے ہیں اور پھر تازہ کرپشن میں شروع ہو جاتے ہیں۔ میں نے پولیس کے ایک افسر چیمہ صاحب کا ذکر کیا ہے لیکن اس محکمے میں شعیب سڈل جیسے اور کئی افسر بھی شامل ہیں جو اپنے محکمے کے کرپٹ لوگوں کے ساتھ سمجھوتے پر تیار نہیں ہیں۔

ذوالفقار چیمہ تو ایک تماشا ہے، وہ کسی بھی صوبے میں اعلیٰ ترین عہدے کے اہل ہے اور ہر صوبے کے بااختیار لوگ اسے تسلیم بھی کرتے ہیں مگر اس خطرناک پولیس افسر کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں لیکن اپنے صوبے میں بددیانتی اور بدانتظامی کو برداشت کرنے پر تیار ہیں، وہ اپنے صوبے کے بے گناہ عوام کو ان کرپٹ افسروں کے سپرد کرنے پر خوش ہیں لیکن چیمہ صاحب نے ایسے حکمرانوں اور اپنے محکمے سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور بار بار انکار کیا ہے۔ تعجب ہے اور شدید دکھ ہے کہ ہمارے سیاسی حکمران کسی دیانت دار افسر کو برداشت نہیں کر سکتے۔ صرف بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ دینے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ چیمہ صاحب گویا اس طرح اپنے محکمے کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور ان کی آرزو ہوگی کہ وہ اپنے محکمے میں کسی اونچے عہدے پر پہنچ جائیں مگر وہ اس اونچے عہدے تک پہنچ جانے کے باوجود اس پر فائز ہونے سے محروم ہیں کیونکہ وہ اس کے لیے حکمرانوں کی شرائط قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ایک سرکاری ملازم اس سے بڑی قربانی نہیں دے سکتا وہ سب کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے پر تیار ہے مگر خود گناہ کرنے پر تیار نہیں۔

میں نے ایک سیاستدان میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کا ذکر کیا ہے جو میرے خیال میں سیاستدانوں کے گوناگوں گناہوں کا کفارہ ادا کر رہا ہے۔ کسی سیاست دان کو بے لوث اور اونچے لوگوں میں شامل کرنا بڑی جرات کا کام ہے کہ ان کی کرپشن زبان زد عام رہتی ہے لیکن شہباز شریف اپنے موجودہ اقتدار میں خود بھی کرپشن سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو بھی ممکن حد تک روکتا ہے، کام بھی بہت کرتا ہے جن کی افادیت سے اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کی دن رات کی محنت سے اختلاف نہیں۔ دوسرے تینوں صوبوں سے یہ آواز آتی ہے کہ ہمیں بھی ایک شہباز شریف درکار ہے۔ ان کے موجودہ اقتدار کے دور میں ان سے ملاقات نہیں ہو سکی لیکن ان کی وزارت اعلیٰ سے ہر روز ملاقات جاری ہے۔ شہباز جیسے لوگوں کو جو غیر ضروری اور ممکن حد تک مال و دولت کے مالک ہیں اگر خدا ان کو خدمت خلق کا موقع دے دے تو انھیں اس موقع کو بڑھ کر دبوچ لینا چاہیے۔

تاریخ میں ہر نمونے کے حکمران ملتے ہیں جو اب تاریخ کے اوراق میں بند ہیں۔ چند ایک سلامت اور زیادہ تر دیمک زدہ۔ اور جو آج ہیں یہ بھی تاریخ کے ان اوراق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک بادشاہ نے محل بنوایا اور شہر کے صوفی کو دعا کے لیے بلوایا تو اس نے محل دیکھ کر کہا کہ اس محل کی اور تم دونوں کی عمر کتنی ہوگی میں کیا دعا کروں۔ بادشاہ شرمندہ ہو کر چپ ہو گیا۔ میاں شہباز کی قسمت میں اگر تاریخ نے اجلے اوراق مخصوص کر دیے ہیں تو ان کے پاس ان اوراق کو آراستہ کرنے کے تمام وسائل اور اسباب موجود ہیں۔ میاں صاحب کے آئیڈیل حکمران عمر بن عبدالعزیز کی طرح انھیں کوئی خزانچی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ مالک ہیں میں آپ کی درخواست کے مطابق آپ کو ایڈوانس میں تنخواہ تو دے دیتا ہوں لیکن آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آپ اس مہینے میں زندہ رہیں گے اور بیت المال کو اس کی یہ رقم واپس مل جائے گی۔ سابقہ حکمرانوں کے مقابلے میں میاں صاحب عوام کو غنیمت لگتے ہیں کیا وہ عوام کی امیدیں پوری کر سکیں گے اور کرتے رہیں گے اور اپنے سیاستدان گناہ گاروں کا کفارہ ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اور اب ذکر ہے اس سابقہ افسر ڈاکٹر امجد ثاقب کا جس نے بڑی نوکری سے استعفی دے کر خدمت خلق کا ایک ادارہ اخوت کے نام سے قائم کیا جو مستحق لوگوں کو کوئی ارب کے قریب یا زیادہ قرض دے چکا ہے اور لاتعداد پاکستانی اس قرض سے کاروبار کر کے باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خدمت کا ایک غیر معمولی ادارہ ہے جس کے دفتر مسجدوں میں ہیں جس کے کارکن رضا کار ہیں اور جس کے مقروض قریباً سو فی صد قرض واپس کرتے ہیں۔ میں کسی دن ڈاکٹر صاحب سے پوچھوں گا کہ انھیں فلاح کا یہ حقیقی راستہ کس نیک انسان نے دکھایا یا ان کے دل میں یہ خیال خود بخود پیدا ہوا کہ وہ سرکاری ملازمین کے بھاری گناہوں کا کفارہ ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس ملک میں ایسے کئی ادارے موجود ہیں کہ کسی زلزلے یا کسی دوسری آفت میں فوج پہنچی تو وہاں پہلے سے کچھ لوگ خدمت میں مصروف تھے۔ یہ جنت کے مسافر لوگ ہیں جو ہم گناہ گاروں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایسے افراد اور اداروں کا ذکر ضروری ہے جو انسانوں کی خدمت کر رہے ہیں خصوصاً پاکستان میں جہاں ہر کوئی عام آدمی کو لوٹنے کے لیے بے تاب ہے۔ یہ لٹیرا کوئی حکمران بھی ہو سکتا ہے یا کوئی وڈیرہ بھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔