محترم وزیر اعظم توجہ فرمائیں

شکیل فاروقی  منگل 6 دسمبر 2022
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

ادارے تو بہت سے ہیں اور ہر ادارے کی اپنی اہمیت اور حیثیت ہے لیکن کچھ ادارے ایسے ہیں جن کی نوعیت سب سے مختلف اور مخصوص ہے، ان میں سے ایک ریڈیو پاکستان بھی ہے۔

سچ پوچھیے تو اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ حالت ِ جنگ ہو یا ہنگامی حالات یہ ملک و قوم کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے اور ملک و قوم کا تحفظ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کا ماضی انتہائی قابلِ قدر اور تابناک ہے اور آج بھی یہ ادارہ ملک و قوم کا ترجمان اور پاسبان ہے۔ ریڈیو پاکستان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان کا مبارک اعلان اِسی ادارے نے کیا تھا،یہ وہ اعزاز ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

وہ وقت ہے اور آج کا وقت ہے کہ اِس ادارے کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ سچ پوچھیے تو اِس کی آواز پاکستان کی آواز ہے جس سے ملک کا کونہ کونہ گونجتا ہے۔اِس ادارے کی کارکردگی کے دائرہ کی کوئی حد نہیں۔ یہ ملک کے عوام کو حالت ِ حاضرہ سے باخبر رکھتا ہے اور اِس کے مختلف النوع پروگرام پوری قوم کی دینی اور دنیاوی خدمات انجام دیتے ہیں۔

اِس کے پروگراموں کا آغاز صبح سویرے قرآنِ حکیم کی تلاوت اور احادیث مبارکہ کی برکات سے ہوتا ہے اور اِس کا ایک چینل قرآنِ حکیم کی تلاوت اور ترجمہ کے لیے وقف ہے جس کا آغاز صبح سویرے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری و ساری رہتا ہے۔اِس کے علاوہ ریڈیو پاکستان سے بچوں، خواتین، فوجی بھائیوں، مزدوروں، کسانوں اور عام آدمیوں کے لیے مخصوص معلوماتی اور تفریحی پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں۔

طلباو طالبات کے لیے نشر کیے جانے والے تعلیمی پروگرام اِس کے علاوہ ہیں۔ ایک اور اہم شعبہ جو عوام کی نظروں سے اوجھل ہے وہ ہے ریڈیو پاکستان کی بیرونی نشریات کا شعبہ جو ایکسٹرنل سروسز کہلاتا ہے۔ اِس شعبہ سے مختلف بیرونی ممالک کی زبانوں میں مختلف دورانیہ کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جو خبروں، تبصروں اور پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے مقصد سے پیش کیے جاتے ہیں۔

اِس اعتبار سے ریڈیو پاکستان ملک کی سفارتی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔سب سے دلچسپ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آندھی ہو یا مینہ ریڈیو پاکستان کی نشریات مسلسل جاری رہتی ہیں لیکن یہ بات قابل افسوس ہے کہ ریڈیو پاکستان اُس توجہ سے محروم ہوگیا ہے جس کا یہ مستحق ہے۔

تاہم یہ امر لائق تحسین ہے کہ ایف ایم کی نشریات کی وجہ سے ریڈیو کی اہمیت نہ صرف قائم ہے بلکہ اِس میں مزید اضافہ ہورہا ہے، اگرچہ ٹیلی وژن کے آنے سے شروع میں ریڈیو کے سامعین کی تعداد پہلے کے مقابلہ میں کچھ کم ہوگئی تھی لیکن اب صورتحال پہلے سے بہتر ہوگئی ہے۔

اگرچہ باتصویر ہونے کے وجہ سے بظاہر ٹیلی وژن کو ریڈیو پر فوقیت حاصل ہے تاہم اِس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ ریڈیو کی پہنچ وہاں تک ہے جہاں تک ٹیلی وژن کی پہنچ ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے فوجی بھائی جو وطن عزیز کی سرحدوں پر دفاعی خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

مزید برآں ریڈیو کو آپ کہیں بھی سُن سکتے ہیں اور یہ آپ کے ساتھ ہر جگہ جا سکتا ہے جہاں ٹی وی کی رسائی ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ آپ اِس سے چلتے پھرتے اپنے کچن اور حتیٰ کہ ہرجگہ بھی باآسانی سُن سکتے ہیں۔دنیا کے کسی بھی ملک کو لے لیجیے ریڈیو کو اُس ملک کا ترجمان تسلیم کیا جاتا ہے اور ملک کا سربراہ ریڈیو کے ہی ذریعہ اپنے ملک و قوم سے خطاب کرتا ہے۔

برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں اُس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے ریڈیو پاکستان پر ہی قوم سے خطاب کیا تھا جس نے نہ صرف قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی ناقابلِ تسخیر دیوار بنادیا تھا بلکہ پاکستانی عوام کے حوصلہ بلند کردیے تھے۔

ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی خبروں اور تبصروں اور ملّی نغموں نے دشمن کے چھکے چھڑادیے تھے اور آج بھی اِن ملّی نغموں کو سن کر پاکستانی عوام میں وہی جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

محترم وزیر اعظم! ملک آج جس دوراہے پر کھڑا ہے اور اُسے جس اتحاد اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے اُس سے ریڈیو پاکستان کی اہمیت میں لاکھوں گُنا اضافہ ہوگیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اِس پر بھی زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔ یہ ادارہ روز بروز مالی مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔

محترم وزیرِ اعظم میری آپ سے نہایت مودبانہ درخواست ہے کہ اپنے قیمتی وقت اور مصروفیات میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر اِس نہایت اہم ادارے کی جانب فوری توجہ فرمائیں اور اصلاحِ احوال کے لیے فوری ایکشن کے احکامات صادر فرما کر اِس نہایت اہم ادارے کو بچائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔