بہت ضروری کام

خرم سہیل  منگل 1 اپريل 2014
khurram.sohail99@gmail.com

[email protected]

پاکستانی سیاست کے منظر نامے پر عوام کی حیثیت صرف ہندسوں جیسی ہے۔الیکشن کے دنوں میں انھیں ووٹوں کی شکل میں گنا جاتاہے۔ حکومت بنانے کے بعد پٹرول،ڈالر اور سونے کی قیمتوں سے تولاجاتاہے۔ غریب کے لیے دال روٹی کھانا بھی دوبھر کردی گئی ہے۔سیاستدانوں کے عوام سے کیے گئے سارے وعدے ایک ایک کرکے غفلت کی جھولی میں ڈال دیے جاتے ہیں۔کم ازکم پاکستان کے پینسٹھ برسوں میں یہ حالات معمولی تبدیلی کے ساتھ جوں کے توں چلے آرہے ہیں، ان حالات کو تبدیل کرنے کی باتیں کرنیوالوں نے صرف باتیں ہی کی ہیں۔ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی سنا کہ ان کے زمانے میں بھی ملک کے حالات خراب رہتے تھے اورآج ہم بھی یہی سن رہے ہیں کہ ہمیں انتہائی خراب حالات کا سامنا ہے۔

کیا جمہوریت اور کیا آمریت سب نے اپنے اپنے حصے کا ظلم کیا ہے۔ویسے بھی آلو کے کھیت میں گوبھی نہیں اُگائی جا سکتی لیکن اس کے باوجود عوام کو جمہوری منجن اور آمرانہ شربت فولاد پیش کیاجاتارہا۔ ایسے ماحول میں تھر جیساقحط جنم لیتا ہے مگر ہم اورہمار ے سیاستدان ایک قدر میں مشترک ہیں،کیسا ہی سانحہ کیوں نہ ہو،کچھ عرصے میں اسے بھلادیتے ہیںبلکہ یوں کہیں کہ ہم ازل کے بھولے ہوئے ہیں ،یونہی کبھی کبھی کسی سانحے پر جاگ اٹھتے ہیں کچھ دیر کے لیے اورپھر ہمیں غفلت آلیتی ہے۔

ایسے ماحول میں خواب دیکھنے والوں کا ہمیشہ نقصان ہوا مگر کچھ لوگ اسی ماحول میں اپنے خواب، ہتھیلیوں پر سجائے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوئے،انھوں نے زندگی کو جیت لیا اور دل فتح کیے۔انھیں ہم فنکار کہتے ہیں۔کوئی انھیں تخلیق کار کہتا ہے۔ مختلف نام اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے ہردور میں ایک ہی مشترکہ کام کیاوہ خوابوں کی آبیاری ہے۔

قیام پاکستان کے بعد فلمی صنعت کو دوبارہ سے آباد کیا گیا۔ لاہور کے ویران اور خاکستر اسٹوڈیوز میں دوبارہ زندگی متحرک ہوئی۔کہانیاں لکھی جانے لگیں اورگیتوں کے مکھڑے دھنوں پر سجائے جانے لگے۔ہجرت کے سفرسے تھکے ماندے لوگوں کو جب تلاش رزق اور مسائل سکونت سے فرصت ملی، تو انھوں نے اپنے آبائواجداد ک خزانوں کو کھولنا شروع کیا۔کسی کے گھر میں کتابوں سے بھری لائبریری بنی اور کسی نے کرداروں کو سینما کے پردے پر اتارنا شروع کیا۔سریلے فنکار حروف کو گانے لگے اورباذوق لوگوں نے ان کی مداح سرائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی،یوں ایک نئے پاکستان کے قدم مضبوط کرنے کے لیے اپنے اپنے ہنر کو استعمال میں لایاجانے لگا۔

ریڈیو پاکستان جیسی تربیت گاہ میسر آئی۔پاکستان ٹیلی ویژن جیسی تربیت گاہ کا قیام عمل میں آیا۔ادبی رسائل وجرائد نے بھی اپنا خوب رنگ جمایااور پاکستان کے قیام سے پہلے کے چند اخبارات نے اس نوزائیدہ ملک کی جڑوں میں اپنی خون پسینے کی ریاضت کو انڈیلا۔تھیٹر کے میڈیم سے بھی کم مگر کسی حد تک شناسائی ہوئی اورہمارے لوگوں کو خبر ہوئی کہ یہ کیا بلاہے۔

اس طرح اخبار،ریڈیو ،تھیٹر،ٹیلی ویژن اورسینما کے ذریعے پاکستان کے حصے میں بیشمار اچھے فنکار آئے جنہوں نے سیاستدانوں سے زیادہ اس ملک کی خدمت کی۔ یہ الگ بات ہے کہ جدید دور کے کمرشل ازم نے اس تربیتی رویے کا ستیاناس کردیا،اب یہ سارے میڈیم بھی پیسہ کمانے کی مشین بن کے رہ گئے ہیں۔پرانے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھتے تھے۔شعر سینہ بہ سینہ سفر کرتے تھے۔ کسی ایک کتاب پر برسوں بات ہوتی تھی۔علم کاحصول زندگی کی اولین ترجیح ہوتا تھا۔زندگی سادہ اورعلمی لطافت سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے پھر ملک کے حالات بگڑتے چلے گئے، اتنے کشیدہ ہوئے کہ انسان کی کوئی قیمت ہی نہ رہی۔فرقہ پرستی، لسانی تعصب، ذات پات اور دیگر فضول قسم کے جھگڑوں میں پڑ گئے۔ اب تو خیر یہ جنون اپنے زوروں پر ہے اور مذاکرات کا بھی دوردورہ ہے۔قانونی اورانتظامی ادارے خود پناہ گاہ کی تلاش میں مصروف ہیں۔ایسے میں عام آدمی کیا کرے کہاں جائے۔ظلم یہ ہے کہ اس کے عدم تحفظ کا کسی کو بھی احساس نہیں ،اگر میڈیا کبھی کسی سانحہ پر دہائی دیتا ہے تو اس کو لفاظی کے کاریگر سیاستدان مہمل بنا دیتے ہیں اورشاید ہم بھی مجموعی طور پر ایسے ہی ہوگئے ہیں۔ڈالر کی قیمت اوپر جائے اور پیڑول کے نرخ بڑھیں تو بغیر کسی حکومتی حکم کے سب چیزوںکی قیمت اوپرچلی جاتی ہے لیکن ڈالر نیچے آئے یا پیڑول کے نرخوں میں کمی ہو تو نہ حکومت قیمتیں کم کرواتی ہے اورنہ ہی ہم عوام اس پر کان دھرتے ہیں۔ہم باجماعت بے ایمان ہوچلے ہیں۔

اس کے باوجود ہردور میں کچھ اچھے لوگوں کے دم سے فن وفنکار زندہ اور محفوظ رہتے ہیں۔ایسے ہی چند لوگوں کا ذکر یہاں کر رہاہوں اور میری نہایت عاجزانہ درخواست ہے اس مختصرتحریر میں مکمل تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ،مجھے اس نوعیت کے کالموں کی اشاعت کے بعد یہ سننے کو ملتا ہے،آپ نے فلاں نام نہیں لکھا،یا فلاں شخص کی بات بھول گئے اور فلاں والی بات کا توذکر ہی نہیں ہوا۔ اس’’ فلاں‘‘کے خلا کو پُر کرنے کے لیے میں کتابیں لکھتا ہوں جن میں مکمل، جامع تحقیق شامل ہوتی ہے، لہٰذا جن احباب کو بہت طلب ہو وہ میری کتابوں کو دیکھ لیں، جن میں پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں قارئین کو سیراب کر سکوں ، کالم صرف خبر اورحوالہ دینے کا ذریعے ہوتاہے ،یا رائے کااظہار کرنے کی ایک جگہ ہوتی ہے۔

1959کو لاہور میں ’’کل پاکستان موسیقی کانفرنس‘‘تشکیل دی گئی جس نے کلاسیکی موسیقی کو پاکستان میں فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیامگر گزرتے وقت کے ساتھ اسے بھلا دیا گیا۔ 2003 میں کراچی سے جداگانہ حیثیت میں اسی نام سے ایک ثقافتی تنظیم کوتخلیق کیا گیا۔رواں برس اس کے قیام کو 11برس ہوگئے ،بناکسی تفریق کے عوام اس سے آج تک لطف اٹھارہے ہیں۔

لاہور میں قائم پاک ٹی ہائوس 1940میں ایک سکھ خاندان نے کھولاتھاجو تقسیم کے بعد پاکستان کے فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات کا مرکز بناجہاں عوام کی اپنے فنکاروں کے لیے چاہ کا اظہار اورچائے کا انتظام ہوا کرتا تھا۔اس کا افتتاح دوبارہ 2013میں کیاگیامگر جس طرح ماضی میں اس چائے خانے سے ثقافت کی خدمت ہوئی، وہ اب ناممکن ہے۔ کراچی، پشاوراورکوئٹہ میں ایرانی چائے خانے بھی اسی نوعیت کا کردار اداکرتے رہے ہیں۔یہ عوامی جگہیں بھی ہمارے فنون کی خدمت گار رہی ہیں،جن کو بھلایا نہیں جاسکے گا۔

2001 میں ’’کارا فلم فیسٹیول‘‘کی ابتدا ہوئی جس نے 7 برس تک شائقین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے پاکستان میں فنکاروں کی آمدورفت ممکن ہوئی۔کسی حد تک مختلف شہروں میں قائم آرٹس کونسلوں نے بھی ثقافت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالامگر یہاں معاملات سطح سے اٹھ نہیں سکے۔اس کے باجود کچھ اقدام قابل تحسین ہیں، جن میں کراچی آرٹس کونسل کی ’’عالمی اردو کانفرنس‘‘ الحمرا کے زیراہتمام ہونے والی کئی ادبی وثقافتی تقریبات شامل ہیں۔مختلف ادبی شخصیات نے اپنی ذاتی لائبریریوں کے ذریعے معاشرے کی جس طرح خدمت کی ،وہ بھی قابل تحسین ہے۔

گزشتہ دنوں لاہور میں معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کی 75ویں سالگرہ منائی،اس تقریب کا سن کر دل بہت خوش ہوا۔ہمیں اس رویے کی ضرورت ہے جس میں اپنے فنکاروں کی قدر ومنزلت ان کی زندگی میں کی جانی چاہیے۔اس تقریب میں بانو قدسیہ،عبداللہ حسین،سرمد کھوسٹ اوران کے ناشر افضال احمد سمیت دیگر لوگ شریک ہوئے۔ایسی تقریبات ادیب کو زندگی دیتی ہیں اورقوم کو بقاعطاکرتی ہیں۔ ایسی تہذیبی روایات ہی مہذب دنیا کی طرف ہماری ترقی کے راستے کھولیں گی۔

یہاں میں بھی ایک خبر میں پیشگی دے رہا ہوں۔ آج بروز منگل کراچی آرٹس کونسل کے گل رنگ کیفے میں بھی ایک ایسی ہی تقریب سجائی جا رہی ہے جس میں برطانیہ سے آئے ہوئے معروف صحافی، صداکار اور کئی کتابوں کے مصنف ’’رضا علی عابدی‘‘کی تقریب سپاس کا اہتمام کیاجا رہا ہے۔اس تقریب کے مقررین میں ان کے بچپن کے دوست اور معروف صحافی فرہاد زیدی اورنوجوان نسل کے نمایندہ ادیب آصف فرخی آرٹس کونسل کے صدر سید احمد شاہ شامل ہیں۔ اس تقریب میں رضاعلی عابدی کی خدمات کا اعتراف اور ان کی سوانح حیات’’قلم سے آواز تک‘‘کے تناظر میں ان کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر بات کی جائے گی۔

اس کالم کو لکھتے وقت مجھے خبر ملی کہ روزنامہ ایکسپریس کے اینکررضا رومی پر حملہ ہوا جس میں ان کا ڈرائیور جاںبحق ہو گیا،وہ خود اوران کا گارڈ زخمی ہیں۔اس سے پہلے متعدد بار ایکسپریس میڈیا گروپ اس دہشتگردی کا شکار ہو چکا ہے جہاں سے بات شروع ہوئی تھی،اب پھر اسی موڑ پر آگئی ہے۔ہم کب تک یہ سب نظرانداز کریں،کیا ہمارے حکمران صرف بیان دینے اورکمیٹیاں بنانے کی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ گزشتہ دنوں اصغر ندیم سید بھی ایسے ہی حملے کی زد میں آئے۔

اس سے پہلے بھی اگر ہم ماضی پر ایک نظر ڈالیں تو کتنے صحافی، شاعر،ادیب،مصور،گلوکار،اداکار اوردیگر شعبوں کے فنکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جو فنکار گولی سے بچ جائے اسے بھوک سے مار دیتے ہیں۔کیاکبھی ہمارے عوام اورفنکاروں کو تحفظ ملے گا یا ہم ایسے ہی مرتے رہیں گے۔مرتے ہوئے جسموں کی گنتی میں روح پر لگنے والے زخموں پر حاکموں کا دھیان نہیں اوریہی وہ بہت ضروری کام ہوتا ہے،جو اس زوال زدہ معاشرے میں کئی دہائیوں سے فنکار کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔