مختار مسعود اور ان کی مسحورکن تحریریں (آخری قسط)

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 7 دسمبر 2022
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

آواز دوست کے مصنّف مختار مسعود آگے چل کر لکھتے ہیں ’’ پہلے زمانے میں یونان اور روما کے قریہ قریہ میں نادرِ روزگار لوگ ملا کرتے تھے اور اب ایسا کال پڑا ہے کہ انھیں ملکوں ملکوں ڈھونڈئیے اور ناکام رہیے۔ پہلے زمانے میں آدمی اپنے کردار سے بڑا بنتا تھا، ہومر، پلوٹارک اور فردوسی اس کی عظمت کے محافظ بن جاتے تھے۔

اب ایسا اندھیرا ہو گیا ہے کہ آدمی عظمت کا گاہک بن کر تعلقات عامہ کے تجارتی اداروں سے شہرت خریدنے جاتا ہے۔ وہ مشاہیر تھے اور یہ مشتہر۔ اُن کی شہرت میں قوتِ بازو کو دخل تھا اور ان کی شہرت میں صرف قوتِ خرید کو‘‘۔

پھر لکھتے ہیں ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے آدمی انعام کے طور پر دیے اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں۔

ستر کی دھائی میں بڑے بڑے آدمی پیدا ہوئے۔ یورپ میں چرچل، ڈیگال اور اسٹالن پیدا ہوئے تو برّعظیم میں علامہ اقبال، محمدعلی جناح اور ظفر علی خان۔ اس کے بعد نہ جانے مسلمانوں پر کیا افتاد پڑی کہ نہ دیوانے پیدا ہوئے اور نہ فرزانے۔ آخر قدرت ایک سیاسی ناآشنا قوم کو بڑے آدمی کیوں عطا کرے، اسے اپنے عطیے کی رسوائی اور بے قدری ناگوار گزرتی ہے۔

عطا کا پہلا حق یہ ہے کہ انسان اس کا شکر ادا کرے ۔ شکر گذار ہمیشہ روشن دماغ ہوتا ہے، نا شکر گذار بے ضمیر اور بد دماغ ہوجاتا ہے‘‘۔ مختار مسعود نے قحط الرجال میں جن عظیم شخصیات کا ذکر کیا ہے اور جن کے دستخط ان کی آٹوگراف البم پر ثبت ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نام تحریک پاکستان کے عظیم لیڈر بہادر یار جنگ کا ہے، لکھتے ہیں ’’محمد بہادر خان کی ساری زندگی صرف ایک محور کے گرد گھومتی رہی جسے عشقِ رسولؐ کہتے ہیں، ان کی زندگی سن و سال کے حساب سے قلیل تھی مگر اسے فکر کے لحاظ سے وقیع اور عمل کے لحاظ سے طویل کہہ سکتے ہیں، بہادر یار جنگ کی نصابی تعلیم بہت جلد ختم ہو گئی مگر وہ عمر بھر تفسیرقرآن، سیرتِ نبویؐ اور کلامِ اقبالؒ کے طالب علم رہے۔

ان موضوعات پر ان کا مطالعہ بڑا وسیع تھا اور قدرت کی دریا دلی سے انھیں زبان و بیان کی طاقت بھی ان کے علم کی وسعت کے حساب سے عطا ہوئی تھی۔ حضور ؐ کی سیرت نے انھیں سیاسی بصیرت اور حضورؐ کے ذکر نے انھیں اعجازِ بیان عطا کیا‘‘۔

پھر کہتے ہیں ’’بہادر یار جنگ کی سیاسی بصیرت کا یہ حال تھا کہ جس رائے کا برملا اظہار کیا وہ صحیح نکلی اور جس خطرے کی علی لاعلان نشاندہی کی وہ درست ثابت ہوا۔ قائد اعظمؒ کے سامنے جس جرأت سے حق گوئی کا مظاہرہ بہادر یار جنگ کیا کرتے تھے کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔

ایک مرتبہ جناح صاحب کے سامنے کہا ’’پاکستان کا حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا پاکستان کو پاکستان بنانا مشکل ہوگا‘‘ اُن سے آٹوگراف لینے کا احوال لکھتے ہیں کہ سیرت نبیؐ کے جلسے میں علی گڑھ یونیورسٹی کے عالمانہ، شاعرانہ اور غریبانہ ماحول میں دولت آصفیہ کے ایک یار جنگ کو تقریر کی دعوت دینا میری سمجھ سے باہر تھا۔

مگر وہ خطاب یافتہ جاگیردار تقریر کے لیے کھڑا ہوا تو پہلے اپنے دونوں انگوٹھے اچکن کی جیبوں میں اٹکائے، تقریر ہوئی تو اہلِ درد کو اس جاگیردار نے لوٹ لیا۔ اس روز تقریر ختم ہوئی تو میں نے اپنی اچکن کی جیب سے آٹوگراف البم نکال کر بہادر یار جنگ کے سامنے رکھ دی‘‘۔

پھر لکھتے ہیں ’’بہادر یار جنگ کو جب ایک بار عہدے کی پیشکش ہوئی تو کہا،مجھے کرسی وزارت پر بیٹھ کر امور مملکت پر غور کرنے کے لیے نہیں بلکہ قلوب کی دنیا میں طوفان برپا کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘‘ مصنّف کا کہنا ہے ’’بہادر یار جنگ نے یہ طوفان اپنی تقریروں میں اٹھایا تھا اور اتنے سال گزرنے کے باوجود اس طوفان کی ایک لہر آج بھی میرے دل میں موجزن ہے۔ میں نے انھیں کئی بار سنا تھا۔

ان کی تقریر کبھی آتش فشاں ہوتی اور کبھی آبشار۔ وہ تقریریں جس میں براعظم کی آزادی اور پاکستان کا مطالبہ ہوتا وہ تو آتش فشاں کی مانند ہوتیں، اور وہ تقریریں جو اسوۂ رسولؐ، مسلمانوں کی نامسلمانی اور راہ حق سے انحراف کے بارے میں ہوتیں وہ ایسے آبشار کی طرح تھیں جو بلندیوں سے اتر کر کشتِ ویراں کو سیراب کر رہا ہو‘‘۔

مصنّف بہادر یار جنگ کی آتش بیانی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک بار دو قومی نظریئے کی حمایت کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ’’اگر پاکستان بہ التجا نہیں مل رہا تو ہم بزور حاصل کریں گے‘‘اور پھر دوسرے حصے میں مسلم لیگ پلاننگ کمیٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی تجاویز مرتب کرے جو پاکستان میں اسلامی دستورِ حیات، اسلامی نظامِ تعلیم اور اسلامی معاشی نظام کے رائج کرنے میں مدد گار ہوں اور پھر قائداعظم کو بڑی جرأت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’میرے قائد! میں نے پاکستان کو اسی طرح سمجھا ہے اور آپ کا پاکستان یہ نہیں ہے تو ہم ایسا نہیں چاہتے‘‘۔

مختار مسعود صاحب لکھتے ہیں کہ’’برصغیر میں تقریر اور خطابت کی تمام تر خصوصیات دو افراد میں یکجا ہوگئی تھیں، ان میں سے ایک مسلمانوں کے محبوب یار جنگ تھے اور دوسری بلبل ہند سروجنی نائیڈو‘‘۔ آزادی کے فوراً بعد ہونے والے فسادات کے پس منظر میں لکھتے ہیں ’’اس خون خرابے میں مسلم یونیورسٹی بالکل محفوظ رہی، اس کی حفاظت کے سامان پیدا ہوگئے اور صنم خانے سے پاسبان میسر آگئے، ان پاسبانوں میں سرفہرست سروجنی نائیڈو تھیں۔ پھر لکھتے ہیں ’’وہ سحر بیاں بھی تھیں اور عظیم الشان بھی۔ اس کا مرتبہ اونچا اور شہرہ بلند تھا اس کی آواز ملک کے ہر گوشے میں اور اس کا آوازہ دور دور تک پہنچ چکا تھا‘‘۔

آزادی کے بعد وہ یو پی کی گورنر تعینات ہوئیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سروجنی نائیڈو کی آمد اور خطاب کے با رے میں لکھتے ہیں’’بلبلِ ہند کے لیے استقبالیہ پروفیسر ہادی کو پیش کرنا تھا جو خاص طور پر اس تقریر کے لیے منتخب کیے گئے تھے کیونکہ وہ اساتذہ میں انگریزی زبان کے سب سے اچھے مقرر تھے۔

اسٹریچی ہال میں پروفیسر ہادی کی تقریر بہت اچھی ہونے کے باوجود توقّع سے کم تر نکلی۔ ممکن ہے ہادی حسن پر سروجنی کا جادو چل گیا ہو۔

سروجنی تقریر کے لیے کھڑی ہوئیں تو ان پر گلپاشی کی گئی۔ خالدہ ادیب خانم پر جب گل پاشی ہوئی تو وہ حیران ہوکر بار بار اوپر دیکھنے کی کوشش کرتیں کہ یہ پھول کہاں سے آرہے ہیں، وہ متاثر ہوئیں اور اس رسم کا ذکر اپنی کتاب میں بھی کیا جو برّعظیم کے سفر کے بعد لکھی تھی۔

آج گلپاشی سروجنی پر ہوئی۔ دیکھنے والوں نے گل و بلبل کا یہ نیا رشتہ بھی دیکھا گل تھا کہ آج نثار ہورہا تھا، بلبل کی باری آئی تو اس نے کہا ’’میں آج طویل مدّت کے بعد یونین ہال آئی ہوں پھولوں کی لڑیاں اور جوشیلے نوجوانوں کے جذبات کی کڑیاں اس مُدّت کے دونوں سروں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ ہم نے پھول برسائے تھے جواب میں سروجنی نے موتی لٹا دیے‘‘۔

’’میں نے سروجنی کی کئی تقریریں سنی ہیں، نصف صدی میں نہ ان کا پیغام بدلا، نہ پیغامبری کا انداز۔ پیغام میں وہی تازگی اور پیغامبری میں وہی دلبری شامل تھی۔ پچاس برس بعد بھی ان کی سحر بیانی میں عالی خیالی بدستور تھی اور رومانی رنگینی برقرار تھی، ان کی تقریر ایک خوبصورت غزل کی طرح دلکش ہوتی تھی۔

سروجنی کے ہاتھوں میں جو ساز تھا وہ اس پر ساری عمر مسلمانوں کا ترانہ بجاتی رہیں‘‘۔ قائداعظم کی وفات پر جو پیغام گورنر یوپی کی حیثیت سے سروجنی نائیڈو نے مس فاطمہ جناح کو بھیجا اس میں لکھا تھا ’’ہزاروں ماتم کناں اپنے عظیم قائد کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں لیکن میں شدّتِ غم کی گہرائیوں سے،محبت آمیز یادوں کا لازوال پھول بھیج رہی ہوں جسے تم میرے مرحوم دوست کی قبر پر رکھ دینا‘‘۔

آخر میں بلبل ھند کے بارے میں لکھتے ہیں ’’تیرہ سو برس کے بعد اسلام کے نظریات کی تازگی اور روح اسلام کی توانائی نے سروجنی کو بہت متاثر کیا۔ مساوات کے خواب کی تعبیر بھی اسے اسلام میںنظر آئی اور اس کے عملی نمونے کو دیکھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسلام ایسا واحد مذہب ہے جو مساوات کوفلسفیانہ بحث سے نکال کر نماز کی صفوں میں لاکھڑا کرتا ہے اور پھر اسے احرام کی چادریں پہنا کر عالمگیر بنا دیتا ہے۔

دل کا حال تو خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر سروجنی کی زبان پر کلمہ حق جاری تھا، ایک دن مسلمانوں سے خطاب کیا تو کہا ’’اگرچہ میں تمہارے دوش بدوش کھڑے ہونے کے باوجود تمہاری نظروں میں ایک کافرہ ہوں مگر میں تمہارے سارے خوابوں میں تمہاری شریک ہوں اور تمہارے خوابوں اور بلند خیالوں میں تمہارے دوش بدوش ہوں کیونکہ اسلام کے نظریات بنیادی اور حتمی طور پر اتنے ترقی پسند نظریات ہیں کہ کوئی انسان جو ترقی سے محبت کرتا ہو ان پر ایمان لانے سے انکار نہیں کرسکتا‘‘۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔