نفرت نہیں محبت

عثمان دموہی  جمعـء 9 دسمبر 2022
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی سندھ سمیت پورے پاکستان میں 4 دسمبر کو سندھی ثقافت کا دن منایا گیا۔ کراچی میں اس دن بڑی بہار تھی۔ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں اور تقریبات منعقد کی گئیں۔

ان ریلیوں اور تقریبات میں تمام ہی صوبوں کے لوگوں نے حصہ لیا اس طرح یہ ایک قومی یکجہتی کا دن بن گیا ہے۔ مہاجروں نے اس دن کو اپنے سندھی بھائیوں کے ساتھ سندھی ٹوپی اور اجرک پہن کر یکجہتی کے گیت گا کر منایا۔ شہر میں سب سے بڑی تقریب پریس کلب میں منعقد ہوئی جہاں بچوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر گورنر ہاؤس میں بھی خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ موقع کی مناسبت سے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ سندھ کا یوم ثقافت وفاق کی اکائی کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کا دن ہے یہ دن ہمیں پیار، محبت اور باہمی عزت و احترام سے مل جل کر ساتھ رہنے کا درس دیتا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی سندھیوں اور مہاجروں کو مل جل کر رہنے اور سندھ کی ترقی کے لیے بھرپور کام کرنے کے لیے کہا۔ سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس دن سندھیوں اور مہاجروں نے انصار اور مہاجرین کی سنت کو زندہ کردیا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سندھی بھائیوں نے تو مہاجرین کے ساتھ اپنی یکجہتی اور محبت کا ثبوت قیام پاکستان سے قبل ہی دے دیا تھا۔ جب صوبہ بہار میں آر ایس ایس اور مہاسبھا کے غنڈے بار بار وہاں کے مسلمانوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے تھے یہ سندھی بھائی تھے۔

جنھوں نے بہار کے مظلوم مسلمانوں کو سندھ آ کر کراچی میں آباد ہونے کی دعوت دی تھی اور اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے مسلمان گھرانے سندھ آ کر کراچی میں آباد ہوگئے تھے۔ کراچی کی بہارکالونی اسی زمانے کی یادگار ہے جو اب تک آباد ہے۔

پھر یہ سندھ ہی تھا جس کی اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان کے قیام کی قرارداد پاس کی تھی پھر یہ سندھی بھائیوں کی محبت کا ہی کمال تھا کہ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی اکثریت ہندوستان سے ہجرت کرکے صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں آباد ہوگئی تھی۔

ایک عرصے تک سندھیوں اور مہاجروں میں یکجہتی قائم رہی بعد میں ملازمتوں کے معاملے میں دونوں کے درمیان کچھ تلخیاں پیدا ہوئیں جنھیں مزید تحریک دی گئی۔ مہاجروں کی پاسبان بن کر مہاجر قومی موومنٹ منظر عام پر آئی۔ ابتدا میں یہ مصالحت پسند رہی مگر بعد میں جب مہاجروں کے لیے چیلنجز پیداہوئے تو ایم کیو ایم نے بھی سخت پالیسی اختیار کرلی۔

بعد میں مہاجروں کے بعض مسائل کے حل کے سلسلے میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر آگئی۔ اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت مول لینے کی وجہ سے اس کے خلاف کئی آپریشن ہوئے۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے قائد کراچی سے لندن منتقل ہوگئے۔

ان کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ،وفاق دشمن اور عصبیت زدہ پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’را‘‘ نے انھیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ کراچی میں پھر جو بھی قتل و غارت گری اور بربادی ہوئی اس کے فرنٹ پر ایم کیو ایم اور پس پشت ’’را‘‘ تھی۔ بانی لندن میں بیٹھ کر کراچی کو کبھی میدان جنگ اور کبھی ہڑتالوں کی بھینٹ چڑھاتے رہے اور پھر ایک دن انھوں نے پاکستان مردہ باد نعرہ بلند کردیا جس نے مہاجروں کے دلوں کو پاش پاش کردیا۔

پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے کے بعد اب وہ مسلسل پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں مگر کچھ فائدہ نہیں ہو رہا۔ اپنے ملک کو دوسرے پر ترجیح دینا، دشمن کی ’’را‘‘ کو نجات دہندہ قرار دینا کیا یہ حب الوطنی کے زمرے میں آتا ہے؟ اب ثابت ہو گیا ہے کہ دشمن کے اشارے پر کراچی جیسے امن پسند شہر کو دہشت گردی کی دلدل میں پھنسا دیا گیا۔

ہزاروں لوگوں کو بلاوجہ مار دیا گیا۔ بھتے کے چکر میں درجنوں فیکٹریوں کو بند کرا دیا گیا۔ بے روزگاری عروج پر پہنچا دی گئی۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ پکڑا کر انھیں اپنے پرایوں کا خون بہانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔

ہر دوسرے دن ہڑتالیں کرا کے اس سونے کی چڑیا کہے جانے والے شہر کو کنگال اور عوام کو مفلسی میں دھکیل دیا گیا۔ کاروبار کی تباہی نے شہر کے تاجروں اور صنعتکاروں کو دوسرے ممالک جانے کی ترغیب دی۔

حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے ہر حکم کو خوب بجا لایا گیا مگر اس سے کچھ ہاتھ نہ آسکا۔ مودی سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر درخواست کی کہ انھیں بھارت بلا لیا جائے مگر اس نے مڑ کر تک نہ دیکھا۔ تب موصوف پر کیا گزری ہوگی بس تڑپ کر ہی رہ گئے ہوں گے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وطن میں جیسے بھی حالات ہوں مگر وطن کے خلاف کسی بھی صورت نہیں جانا چاہیے ورنہ زمین کے رہیں گے نہ آسمان کے یہ ملک بہت مشکل سے بنا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی ہمت اور بصارت سے یہ مشکل جنگ جیتی ہے اب ہمارا فرض ہے کہ اس کی سلامتی کے لیے ہم کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور اسے بام ترقی پر پہنچا کر دم لیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔