سقراط کا فلسفہ…

مظہر منہاس  بدھ 2 اپريل 2014

سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یونان کے روایتی شہریوں کی طرح خوبصورت اور پر کشش نہ تھا بلکہ وہ جسمانی لحاظ سے بھدا اور بدصورت تھا۔ اس لیے بچپن میں اس کے اسکول کے ساتھی اسے مینڈک کہا کرتے تھے۔ اس کے قریبی دوست کرائیٹو نے اس کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی سے بے فکرہ اور لاپرواہ تھا۔ اس کے چھوٹے قد پر بے ترتیب شکنوں سے پُر لباس ہوتا۔ اس کے ہونٹ موٹے اور کھردرے تھے۔ اس کی گردن کندھوں میں دھنسی ہوئی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور حلقوں سے ابھری ہوئی تھیں۔ اس کی ناک چپٹی اور پیشانی چھوٹی تھی۔ اس کی داڑھی بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی۔ اس کا لبادہ عموماً اس کے جسم سے ڈھلکا ہوا رہتا۔وہ اپنے بارے میں کہتا کہ یہ دیوتاؤں کی مرضی ہے کہ میں ایسا ہوں کیونکہ ہر مخلوق کو خلق کرنے والا خود بہتر سمجھتا ہے کہ مخلوق کو کیسا ہونا چاہیے۔

لیکن اس بھدے اور بے ڈول جسم کے اندر بہت ہی خوبصورت‘ نیک‘ سچائی اور بصیرت سے بھرپور روح تھی۔ لوگ کہتے تھے انھوں نے اپنی زندگی میں اتنا نیک‘ شریف‘ تحمل مزاج اور عالم شخص نہیں دیکھا اس نے کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچائی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مہربان اور وہ معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں۔اس کی قوت ارادی بھی بہت طاقتور تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اگرچہ سقراط کے دور کا معاشرہ انتشار اور بدنظمی کا شکار تھا لیکن ایسے حالات میں اس کی اخلاقی خوبیوں کی بدولت اس کی ہر جگہ عزت کی جاتی تھی۔ وہ انتہائی خدا داد ذہانت کا مالک تھا۔ وہ جہالت کو برائی قرار دیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا خالق نے مخلوق کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے پیدا کیا ہے۔اس کے قابل ترین شاگرد افلاطون کا کہنا ہے کہ سقراط ایک بہت بڑا محب الوطن بھی تھا۔

وہ کبھی بھی اپنے شہر سے باہر نہ گیا۔ اسے اپنے شہر اور ملک سے انتہائی محبت تھی۔ وہ ایک دفعہ اپنے دوست زینوفن کی دعوت میں گیا تو اس دعوت میں بہت سے امراء اور خوبصورت نوجوان بھی تھے جب کسی نے اس کی بدصورتی کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا کہ میں اندر سے خوبصورت ہوں میرے ساتھ حسد نہ کرو دراصل یہ اس کا مزاحیہ انداز تھا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سقراط کی ذات میں مزاح کا پہلو بھی نمایاں تھا۔زینوفن کا کہنا ہے کہ سقراط علوم سائنس کا آقا ہے ہر کوئی جانتا تھا کہ اس کا قول اور عمل غیر مقدس نہیں ہے۔ سقراط خدا کی موجودگی کے بارے کہتا ہے کہ کائنات میں بکھری ہوئی فطرت میں وہ موجود ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ خدا انسان کی روح میں رہتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں عقیدے کی بجائے علم پر یقین رکھتا ہوں۔ نیک عمل میں خدا کی ذات موجود ہوتی ہے۔

سقراط کے لڑکپن کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک واقعہ سقراط کے بچپن کے دوست اور ہم مکتب کرائیٹو نے بیان کیا ہے: کہ میں اور سقراط ایک دن کمہار کے چاک کے پاس سے گزر رہے تھے۔ کمہار نے نرم نرم ملائم مٹی کا ایک لوندا چاک پر رکھا‘ چاک کو تیزی سے گھمایا اور مٹی کے لوندے میں اپنے دونوں ہاتھوں کوکچھ اس طرح سے حرکت دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت مرتبان مٹی کے لوندے کی جگہ پر نمودار ہو گیا۔ سقراط نے کہا ابھی تو چاک پر مٹی کا لوندا تھا یہ خوبصورت مرتبان آخر کہاں سے آ گیا پھر خودہی کہنے لگا ہاں یہ مرتبان کمہار کے ذہن میں تھا اور پھر ہاتھوں کے ہنر سے منتقل ہو کر اس چاک پر آ گیا۔سقراط نے نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی بھی مادی چیز جیسے مکان‘ کرسی یا کوئی مجسمہ یا تصویر پہلے انسان کے ذہن میں آتی ہے‘ پھر انسان اپنے ذہن کے اس نقشے کو مادی شکل میں ڈھالتا ہے۔یہ ایک زبردست اور غیر معمولی دریافت تھی۔ سقراط نے ہنر‘ فن اور تخلیق کے بارے میں جان لیا تھا۔ سقراط خیال کرتا تھا کہ یہ الہامی نشان دیوتاؤں کی جانب سے اس کی رہنمائی کرتا ہے کیونکہ دیوتاؤں کو تمام چیزوں کا علم ہے۔

سقراط جب جوانی میں داخل ہوا‘ تو پھر وہ الہامی نشان کی کیفیت کو سمجھنے لگا‘ اسے یقین ہونے لگا کہ اس کے ضمیر میں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے کوئی خاص بات ہے۔ دراصل الہامی نشان کو ضمیر کی آواز کہنا زیادہ مناسب ہے جو کہ اسے غیر ضروری کام کرنے سے روکتا تھا اور اچھے اور نیک کام کرنے کا مشورہ دیتا تھا۔پھر آہستہ آہستہ سقراط کی اس کیفیت کا چرچا ہونے گا۔ ایتھنز کے لوگ اس کے متعلق بحث کرنے لگے لیکن سقراط نے کبھی بھی اپنی اس کیفیت کے حوالے سے نہ کوئی بات کی نہ ہی کسی کو اس کیفیت کی تفصیل بتائی۔ ایتھنز کے رواج کے مطابق سقراط نے جوانی میں مرٹو (Myrot) نامی خاتون کے ساتھ شادی کی جو طاعون کی وبا میں مر گئی۔ سقراط نے دوسری شادی پینتالیس سال کی عمر میں زینتھی پی (Xanthippe) نامی خاتون سے کی۔

یہ خاتون سقراط سے عمر میں تقریبا بیس سال چھوٹی تھی لیکن خاصی بدزبان تھی۔ بیوی کی بدکلامی سے سقراط کے تحمل کو مزید تقویت ملی۔ اور وہ اپنی بیوی کی بدکلامی کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتا۔ سقراط کی دوسری شادی سے تین بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔ سقراط کی بیوی زینتھی پی سقراط کے ساتھ ہی بدکلامی نہ کرتی بلکہ سقراط کے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بھی بدکلامی کرتی تھی۔ وہ اپنی بدکلامی کی وجہ سے پورے ایتھنز میں مشہور تھی۔ اس لیے لوگ اس کی بدکلامی سے زیادہ ناراض نہ ہوتے۔سقراط کی عمر پچاس سال ہو چکی تھی۔ کسی معاشرے میں اتنا وقت گزارنے کے بعد اس شخص کے کردار‘ شخصیت اور معاملات کے بارے میں لوگ اسے مکمل طور پر جان جاتے ہیں۔ سقراط بھی ایسا ہی شخص تھا جس کی عادات و کردار کے بارے میں اس معاشرے کے لوگ اس کے بارے میں متفق رائے رکھتے تھے کہ سقراط کردار‘ گفتار‘ عقل و خرد اور اخلاقی حوالے سے بہترین انسان ہے۔

وہ لوگوں کو انصاف اور سچ بولنے کی تعلیم دیتا تھا۔ اس کے ساتھ جو بھی گفتگو کرتا وہ خوشی اور لطف محسوس کرتا تھا۔ اس کی روح کی بالیدگی اور ذوق جمالیات نے اس کے گفتار و کردار میں ایک خاص جاذبیت اور حلاوت پیدا کر دی تھی۔

(ملک اشفاق کی تالیف ’’سقراط‘‘ سے اقتباس)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔