جامعہ کراچی کے مالی بحران نے مزید شدت اختیار کر لی

عائشہ خان انصاری  بدھ 14 دسمبر 2022
ہفتے کو 2 ملازمین کاآپریشن ملتوی کردیا گیا، ایک ملازم کے اہل خانہ نے طلائی زیورات بیچ کرآپریشن کروالیا—فائل فوٹو

ہفتے کو 2 ملازمین کاآپریشن ملتوی کردیا گیا، ایک ملازم کے اہل خانہ نے طلائی زیورات بیچ کرآپریشن کروالیا—فائل فوٹو

 کراچی: جامعہ کراچی کے مالی بحران نے مزید شدت اختیار کرلی۔

جامعہ کراچی کے پینل پر موجود چند اسپتالوں نے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے علاج بند کردیا، پینل اسپتالوں کی بندش کے باعث جامعہ کراچی کے سیکڑوں ملازمین مشکلات کا شکار ہیں۔

ملازمین کے مطابق جامعہ کراچی کے پینل پر موجود چند اسپتالوں نے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جامعہ کراچی کے ملازمین کا علاج بند کردیا ہے۔ جامعہ کے مالی بحران کی وجہ سے یہ امر تقریبا ہر ماہ ہی کیا جارہا ہے اور ہر ماہ ملازمین علاج کے غرض سے پریشان ہوتے ہیں چونکہ کئی ملازمین ایسے ہیں جن کو دل کی سنگین بیماریاں لاحق ہیں کچھ کینسر جیسی مہلک بیماری میں اوراکثر ملازمین کئی ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کے علاج کے لیے ان کو ہر ہفتہ اسپتال جانا پڑتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بروز ہفتہ دو (2) ملازمین کاآپریشن لیاقت نیشنل اسپتال میں ہونا تھا جو پینل کی بندش کی وجہ سے ملتوی کردیا گیاجن میں سے ایک ملازم کے اہلخانہ نے آپریشن طلائی زیورات بیچ کرکروالیاکیوں کہ انکے تقریبا 5لاکھ روپے کے بل بھی اکاؤنٹس سیکیشن میں موجود ہیں جو کے طویل عرصے سے رکھے ہوئے ہیں اور وہ لوگ تا حال ادائیگی کے منتظر ہیں۔

علاوہ ازیں جامعہ کراچی کے پینل پر کراچی شہر کے مختلف اسپتال موجود ہیں جن میں جا کر ملازمینِ جامعہ کراچی اپنا اور اپنے اہل خانہ کا علاج کرواتے ہیں۔

اس ضمن میں جامعہ کراچی کے ایمپلائزایسوسی ایشن کے صدر نے دیگر ملازمین کے ہمراہ باظابطہ طور پر علاج کی سہولیات کی بحالی کے لیے شیخ الجامعہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو درخواست فراہم کردی ہے جس میں ان سے گزارش کی گئی ہے کہ ملازمین کے علاج معالجے میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے اور معاملات کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔