سمندری پانی سے ہائیڈروجن اورلیتھیئم الگ کرنے والا انقلابی سسٹم تیار

ویب ڈیسک  پير 19 دسمبر 2022
چینی ماہرین کا تیار کردہ الیکٹرولائزر جسے مسلسل 31 روز تک چلا کر آزمایا گیا ہے۔ فوٹو: نینجیانگ ٹیکنکل یونیورسٹی

چینی ماہرین کا تیار کردہ الیکٹرولائزر جسے مسلسل 31 روز تک چلا کر آزمایا گیا ہے۔ فوٹو: نینجیانگ ٹیکنکل یونیورسٹی

بیجنگ: چینی ماہرین نے سمندری پانی سے ہائیڈروجن اور لیتھیئم الگ کرنے والا ایک جدید نظام بنایا ہے جس کی کامیاب آزمائش کی گئ ہے۔

نینجیانگ ٹیک یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک جدید الیکٹرولائزر بنایا ہے جو میٹھے پانی کی بجائے کھارے پانی سے ہائیڈروجن اور لیتھیئم الگ کرسکتا ہے۔ اس سےقبل میٹھا پانی ہی اس کام کے لیے درکار تھا اور بہت توانائی صرف ہوتی تھی۔

ہفت روزہ نیچر میں شائع ایک رپورٹ کےمطابق میں جو برقیرے (الیکٹرولائٹ) استعمال ہوئے ہیں وہ مرتکز پوٹاشیئم ہائیڈروآکسائیڈ پرمشتمل ہیں۔ جنریٹر جیسے اس نظام میں کھارے پانی اور خود الیکٹرولائٹ والے حصے میں بخارات کے دباؤ میں فرق آتا ہے اور یوں سمندری پانی گیس میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔

سوٹ کیس کے برابر الیکٹرولائزر کا اہم کردار ایک جھلی ہے جسے پولی ٹیٹرا فلوروایتھائیلین (پی ٹی ایف ای) کہا جاتا ہے۔ جب سمندری پانی کے بخارات اس جھلی سے گزرتےہیں تو وہاں جذب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے11 الیکٹرولائزر شینزن کے ساحل پر نصب کئےگئے اور مسلسل 133 روز تک اسے چلایا گیا۔ اس دوران 386 لیٹر ہائیڈروجن پیدا ہوئی لیکن اس کی مقدار بہت ہی کم ہے جو مشکل سے 31 گرام بنتی ہے۔ اگراسے ہائیڈروجن والی گاڑی میں ڈالا جائے تو مشکل سے سواتین کلومیٹر تک ہی چل سکتی ہے۔

ایک الیکٹرولائزر پانچ کلوواٹ آور کے بقدر توانائی خرچ کرتا ہے اور 71 فیصد کفایت (ایفیشنسی) سے کام کرتا ہے۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں اسے مسلسل چلایا گیا اور کھارے پانی سے زنگ نہیں لگا اور نہ ہی سسٹم میں کوئی خرابی سامنے آئی۔

دوسری اہم بات یہ  ہے کہ سمندر میں کچھ مقدار میں لیتھیئم موجود ہوتی ہے جو لیتھیئم فاسفیٹ کی صورت میں موجود ہوسکتی ہے واضح رہے کہ لیتھیئم بیٹری سازی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔