سب سے آگے پاکستان

ثناء غوری  جمعرات 3 اپريل 2014
sana_ghori@live.com

[email protected]

تعلیم، خوش حالی، امن اور ترقی سمیت حقیقی معنوں میں کوئی قابل فخر شعبہ ایسا نہیں جس میں ہمارا ملک نمبر ایک نہیں تو ٹاپ ٹین ہی میں شمار کیا جائے، اسی المیے کو طربیے میں بدلنے کی خاطر ہم نے حال ہی میں سر سے ناریل توڑنے اور زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں تھامے پرچم لہرا نے جیسے کئی ریکارڈ بنائے، لیکن گنِیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے صفحات پر جگمگاتے یہ ریکارڈ ان اندھیروں میں ذرا بھی روشنی نہ کر سکے جن میں ہم گھرے ہوئے ہیں۔ ہمارا بنایا ہوا ایک اور ریکارڈ نشان دہی کر رہا ہے کہ یہ اندھیرے کتنے مہیب اور کس قدر دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

بچوں کے تحفظ اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عالمی سطح پر کام کرنے والی تنظیم   charity Save the Children نے گزشتہ دنوں شیرخوار بچوں کی اموات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ شیرخوار بچوں کی اموات جس ملک میں ہوتی ہیں وہ پاکستان ہے۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ بتاتی ہے کہ نو خیز بچوں کی موت اور مردہ بچوں کے پیدائش کی شرح پاکستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ایک ہزار زچگیوں میں 40.7 فی صد ہے۔ ہم اس معاملے میں جنگ، بدامنی اور شدید ترین غربت کا شکار ممالک جیسے نائجیریا (32.7 فی صد)، سرے لیون (30.8 فی صد)، افلاس اور قحط کی مثال صومالیہ (29.7 فی صد)،  Guinea-Bissau(29.4) اور اپنے ہم سائے افغانستان (29.0 فی صد) سے بھی کہیں آگے ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں زچگی کے عمل سے گزرنے والی عورتوں میں سے نصف سے بھی کم کو تربیت یافتہ اور ماہر طبی عملہ میسر آتا ہے، جس کی وجہ انھیں تنخواہوں کا بروقت نہ ملنا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں متعلقہ دواؤں کی عدم دست یابی اور متعلقہ آلات کا دست یاب نہ ہونا یا ان کا غیر فعال ہونا بچوں کی اموات کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔

charity Save the Childrenنے، جو دنیا کے 120ممالک میں سرگرم عمل ہے، اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کے حکمرانوں، انسان دوستوں اور پرائیویٹ سیکٹر سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی اموات روکنے کے سلسلے میں اقدامات کریں۔

باقی دنیا کا تو پتہ نہیں، مگر ہمارے ملک میں اس رپورٹ پر حکومت سمیت شاید ہی کوئی توجہ دے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ہولناک رپورٹ میڈیا میں نمایاں خبر کے طور پر سامنے آتی، ٹاک شوز میں اس پر بات کی جاتی اور ملک کے منتخب ایوانوں میں اس حوالے سے بحث ہوتی، مگر ہر طرف خاموشی چھائی رہی، کیوں کہ بن کھلے یا کھلتے ہی مرجھا جانے والے یہ پھول مزدوروں، کسانوں اور ناداروں کے آنگن میں اپنی مہک چھوڑ کر خزاں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ننھی منی قبروں سے بھرے قبرستانوں والے اس ملک میں پولیو کے قطرے پلانے والی ورکرز کے جسموں میں بارود اتارا جا رہا ہے، تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ہم صورت حال کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھیانک غربت اور ناخواندگی ہے جس کے باعث پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے (مذکورہ رپورٹ کے مطابق) اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے ہی موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ بچوں کی اموات میں غذا کی قلت اہم ترین سبب ہے۔ نوخیز بچوں کے یا تو صحت بخش غذا سِرے سے ملتی ہی نہیں یا اتنی کم مقدار میں نصیب ہوتی ہے کہ ان کے نرم و نازک جسم اس مدافعت اور توانائی سے محروم رہتے ہیں جو بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔ ظاہر ہے غذا کی یہ کمی اور محرومی افلاس کا لازمی نتیجہ ہے۔ اشیاء ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب ماں باپ کو اس قابل ہیں نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے بچوں کو پھل اور دودھ سمیت ان کے لیے مناسب مقدار میں غذا فراہم کر سکیں۔

غربت کے علاوہ مختلف رپورٹیں پاکستان میں بچوں کی زیادہ شرح اموات کی جو وجوہات بتاتی ہیں ان میں سینیٹری اور حفظان صحت کا ناقص نظام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ یہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایک ہی گھرانے میں پانچ سال سے کم عمر کے دو اور اس سے زیادہ بچوں کا ہونا بھی اس صورت حال کا سبب ہے، کیوں کہ ایسے میں سارے بچے مناسب غذا سے محروم رہتے ہیں۔ اور ایک کنبے میں پانچ سال سے کم عمر کئی بچوں کا ہونا خاندانی منصوبہ بندی نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ رپورٹس بچوں کی اموات کے جو دیگر اسباب بتاتی ہیں ان میں ماؤں کا ناخواندہ ہونا اور معاشرے میں رائج توہمات اور ٹیبوز سرفہرست ہیں۔

charity Save the Childrenکی یہ دِل دُکھاتی رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تھر کے صحرا میں بچے بھوک اور بیماریوں کے ہاتھوں جان دے رہے ہیں۔ یہ حالات صحت اور تعلیم کے بارے میں ہماری حکومتوں کے رویے کا شاخسانہ ہیں۔ صحت اور تعلیم کی مدوں میں جو جیسا تیسا بجٹ رکھا جاتا ہے وہ بھی مناسب طریقے سے استعمال نہیں ہوتا اور اس کا بہت بڑا حصہ بدعنوانی اور بدنظمی کی نظر ہو جاتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ جس میں جنم لینے والے ہر ہزار بچوں میں سے چالیس فی صد سے زیادہ پیدا ہوتے ہی اجل کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہوں، وہاں اس صورت حال کے تدارک کے لیے سوچنا تو کجا اس پر بات بھی نہیں ہو رہی۔ ہمارے حکمراں بچوں کی زندگی بچانے کے لیے غربت مٹانے اور تعلیم عام کرنے کی خاطر اقدامات کرنے کے بجائے فیسٹول منانے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج جیسی تفریحات میں مشغول ہیں اور عوام کو بھی انھی مشاغل میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کی اموات کا نوحہ سناتی یہ رپورٹ کیا ملک میں دہشت گردی کے المیے سے چھوٹا سانحہ ہے جس پر حکومت تو کیا میڈیا نے بھی توجہ نہیں دی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ مقتدر حلقے ہوں، منتخب نمایندے، سماجی کارکن یا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، کسی نے اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں، حالانکہ یہ رپورٹ پاکستان میں غربت اور تعلیم کی کمی کی دل دہلا دینے والی صورت حال سامنے لائی ہے۔ اگر ہماری حکومت کی ترجیحات میں غربت کا خاتمہ، تعلیم کا فروغ، صحت کے لیے اقدامات اور مرتے ہوئے بچوں کی جان بچانے جیسے امور شامل نہیں تو صحت سے متعلق نجی تنظیموں، اداروں، بڑے بڑے اسپتالوں اور سماجی حلقوں کو کیا ہوا ہے جو وہ حالات کو بدلنے کے لیے آگے نہیں آتے۔

کتنا بڑا المیہ ہے، کیسا دل کو چیر کر رکھ دینے والا سانحہ ہے کہ غربت کے باعث لوگ اپنے بچوں کو تعلیم، آرام دہ زندگی اور تفریح تو کجا زندگی بھی نہیں دے پا رہے، مگر ہمارے یہاں اس سانحے پر بات بھی نہیں کی جا رہی، جو اس سانحے سے بھی بڑا المیہ ہے۔

لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

حادثے سے بڑا حادثہ یہ ہوا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔