جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا

وسعت اللہ خان  منگل 20 دسمبر 2022

پاکستان اس وقت دو طرفہ بقائی حملے کی زد میں ہے۔پہلا حملہ معیشت نے کر رکھا ہے۔ریاستی خزانے میں اس وقت اتنا زرِمبادلہ ( چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر ) موجود ہے جس سے صرف چار ہفتے کی درآمدات کی ادائیگی ہو سکے۔

مگر یہ ادائیگی بھی یوں مشکل تر ہوتی جا رہی ہے کہ لگ بھگ دو سو چالیس روپے فی ڈالر قیمت کے باوجود اوپن مارکیٹ میں ڈالر دستیاب نہیں۔چنانچہ درآمد کنندگان ایل سی کھولنے کے باوجود غیر ملکی وینڈرز کو بروقت ادائیگی نہیں کر پا رہے۔ جو درآمدی اشیا پاکستانی بندرگاہوں اور ایرپورٹس پر آ چکی ہیں وہ بھی گوداموں سے کلئیر نہیں ہو پا رہی ہیں۔

ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا گیا زرِ مبادلہ سمجھا جاتا ہے۔مگر ڈالر کے سرکاری نرخ اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں پندرہ تا پچیس روپے فرق کے سبب باضابطہ بینکنگ چینلز سے زرِ مبادلہ آنے کی شرح روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے اور فیٹف سے کیے گئے وعدے کے برعکس ہنڈی کا کام ایک بار پھر عروج پر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زرِمبادلہ کی یقینی اور مسلسل ترسیل برآمدات میں اضافے سے مشروط ہے۔مگر پچھلے دو ماہ سے کلیدی مقامی صنعتی مصنوعات کی پیداوار مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔پچھلے چھ ماہ میں اس پیداوار میں لگ بھگ تین فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

روپے کی قدر میں گراوٹ کے سبب درآمدی صنعتی خام مال کی قیمتیں بھی لگاتار مد و جزر کے تھپیڑے کھا رہی ہیں۔چنانچہ مقامی سطح پر مصنوعات کی پیداواری لاگت بقول شخصے صنعت کاروں کو وارا نہیں کھا رہی ہے۔

بجلی و گیس کی فراہمی میں بے قاعدگی کا سب سے زیادہ منفی اثر سب سے بڑی برآمدی صنعت یعنی ٹیکسٹائل پر پڑ رہا ہے۔اس کی پیداوار میں پچھلے دو ماہ  کے دوران لگ بھگ پچیس فیصد کمی ہوئی ہے۔

یعنی نہ درآمدی ضروریات کے لیے کافی زرِمبادلہ ہے ، نہ برآمدات میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلِ زر حوصلہ افزا ہے۔جب کہ سیاسی بے یقینی اور عالمی مالیاتی اداروں کے عدم اطمینان کے سبب غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے یا نئِی سرمایہ کار کی ممکنہ آمد کو تو مستقبلِ قریب میں بھول ہی جانا چاہیے۔

دوسرا بڑا بقائی خطرہ پاکستان کی مغربی سرحد کی جانب سے درپیش ہے۔طالبان کو اب کابل میں برسرِ اقتدار آئے سولہ ماہ ہو چلے ہیں۔اس عرصے میں پاکستان کے سرحدی اضلاع میں دھشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ دور کے مقابلے میں کمی تو خیر کیا ہوتی الٹا پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہو گیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت ماہرین کے ایک پینل کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ جس غیر ملکی مسلح گروہ کو ہوا ہے وہ کالعدم ٹی ٹی پی ہے۔اس عرصے میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی سیکیورٹی اہل کار شہید ہو چکے ہیں۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ سرحدی علاقوں سے بڑھا کے خیبر پختون خوا کے اندرونی اضلاع تک پھیلا دیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے ثالثی کے پردے میں ٹی ٹی پی نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بات چیت میں الجھائے رکھا اور بظاہر جنگ بندی کا تاثر دیتے ہوئے اپنے نیٹ ورک کو مزید منظم انداز میں پھیلا دیا۔

اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن میں مقامی لوگوں کی مزاحمت کے سبب ٹی ٹی پی کو پہلے کی طرح قدم جمانے کا موقع نہ مل سکا۔مگر انھوں نے شمالی و جنوبی وزیرستان سے متصل بنوں اور لکی مروت جیسے بندوبستی اضلاع میں اپنا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھایا۔اب شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا جاتا ہو جب ان اضلاع میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار شبخون کا نشانہ نہ بنتے ہوں۔بنوں میں پچھلے دو ہفتے میں دو سیکیورٹی اہل کاروں کے سر قلم کر دیے گئے۔

ایک پولیس تھانے پر گزشتہ ہفتے جتھے کی شکل میں حملہ کر کے چار پولیس والوں کو شہید کر دیا گیا۔

( تادمِ تحریر بنوں چھاؤنی میں قائم پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کے ایک پوچھ گچھ مرکز میں زیرِ حراست ٹی ٹی پی کے انتہائی تربیت یافتہ ملزموں نے تفتیشی عملے کو ہی یرغمال بنا لیا۔جب تک یہ سطریں آپ تک پہنچیں گی ہو سکتا ہے کہ یہ ڈرامہ انجام کو پہنچ چکا ہو )۔ مگر داد دینی پڑتی ہے صوبائی حکومت کے ترجمان کو۔جسے میڈیا کو بتانے کے لیے صرف ایک ہی جملہ یاد ہے کہ ’’ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔حالات قابو میں ہیں‘‘۔مگر کس کے قابو میں ہیں ؟ ریاست کے یا ٹی ٹی پی کے ؟

اس دوران خود افغان طالبان انتظامیہ نے پاکستانی سیکیورٹی اہل کاروں کی توجہ بٹانے کے لیے چمن کی سرحدی گذرگاہ چن رکھی ہے۔وہاں سرحد پار سے پچھلے پندرہ دن میں دو بار بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا اور آٹھ پاکستانی شہری شہید اور چالیس کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

افغان طالبان انتظامیہ کسی صورت سرحدی باڑھ کی تعمیر مکمل نہیں ہونے دینا چاہتی۔وہ پانچ سرحدی گذرگاہوں پر آنے جانے والے شہریوں کی سختی سے دستاویزی جانچ پڑتال اور بائیومیٹرک سسٹم کی بھی مزاحمت کر رہی ہے۔

اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ عام افغان شہریوں کے بھیس میں مسلح یا تربیت یافتہ عناصر کی آمد و رفت میں کوئی خلل نہ پڑے۔

اگرچہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اندورنِ خانہ اپنی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس نئے حقیقت پسندانہ خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہے مگر افغانستان کے ساتھ ایک خاص حد سے زیادہ کشیدگی میں اضافہ بھی مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ دو طرفہ تعلقات کو دوٹوک سطح پر ڈیل کرنے کی راہ میں کئی تاریخی ، نسلی ، جغرافیائی ، نظریاتی اور تزویراتی نزاکتیں بارودی سرنگوں کی طرح بکھری پڑی ہیں۔

ان حساس رکاوٹوں سے بہ احسن و خوبی نمٹنے کے لیے ہر متعلقہ ریاستی سطح پر جس غیر معمولی فراست و تدبر ، صبر ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ تعاون کی ضرورت ہے اس کا سنگین فقدان نظر آ رہا ہے اور یہی لاچارگی ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ایک زرخیز موقع بن رہی ہے۔

آفرین ہے ریاستی و سیاسی قیادت پر جو اس وقت سیلابی خنجر سے شدید زخمی معیشت و طالبان کے دو طرفہ حملے سے نپٹنے پر پورا دھیان مرکوز کرنے کے بجائے اپنے تئیں نفسِ مطمئنہ کی چسکیاں لے رہی ہے۔میڈیا اور ’’ میڈیاکروں ‘‘ کی پوری توجہ لاہور اور گردو نواح کے سیاسی موسم کو قابو کرنے پر مرکوز ہے۔

اگلے چھ ماہ میں کیا ہونے والا ہے۔ٹھیلے والا بھی دیکھ رہا ہے۔اسحاق ڈار کے بجائے تنخواہ دار کی نیند اڑ چکی ہیں۔قیادتی عناصر دھنیے کا شربت گھوٹ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں۔جب کہ دوسرا فریق ’’ سب سے پہلے انتخابات ورنہ کچھ بھی نہیں ‘‘ کی گردان میں مکمل مست ہے۔

اب یہ سب کردار اپنے منہ سے تو اعتراف کرنے سے رہے کہ ’’ جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا ‘‘۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔