خزانے پر بوجھ اداروں کی نجکاری کردی جائے، زبیر موتی والا

بزنس رپورٹر  جمعرات 3 اپريل 2014
وزیر تجارت کے دورے کے موقع پر ادریس میمن، جاوید بلوانی اور ہارون فاروقی کا بھی خطاب۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

وزیر تجارت کے دورے کے موقع پر ادریس میمن، جاوید بلوانی اور ہارون فاروقی کا بھی خطاب۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی: ایف بی آرکے آئے دن کی اصلاحات کے آڑ میں ٹیکسوں میں اضافے کے بجائے اگرقومی خزانے پر بوجھ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل اور ریلوے سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری کردی جائے تو معیشت درست سمت پر گامزن ہوجائے گی۔

یہ بات بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین زبیر موتی والا نے بدھ کو کراچی چیمبر میں وزیرتجارت کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں حالیہ کمی اگرچہ خوش آئند ہے لیکن اس سے برآمدکنندگان کا کیش فلو بری طرح متاثر ہوا ہے، امکان ہے کہ رواں سال کے 28 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول میں مشکلات پیدا ہوں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گیس ڈسٹری بیوشن میں فرٹیلائزر ودیگر شعبوں کی نسبت صرف صنعت بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ترجیحات کی فہرست میں اول نمبر پر لانے کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے مطلوبہ فوائد کے حصول اور نقصانات سے بچائو کے لیے حکومت کسٹمز کی سطح پر ٹھوس اصلاحات متعارف کرائے۔

کراچی چیمبر کے قائم مقام صدر ادریس میمن نے کہا کہ حکومت درآمدی بل میں کمی کے لیے زرعی اجناس کی ویلیوایڈیشن کے فروغ کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرے تاکہ ایک سرفہرست زرعی ملک ہونے کے ناطے مقامی ضرورت کے لیے کسی بھی اجناس یا ڈیری پروڈکٹس کی امپورٹ کی ضرورت باقی نہ رہے۔ انھوں نے وزیرتجارت سے مطالبہ کیا کہ وہ جہازراں کمپنیوں کی من مانیوں پر قابو پانے کے لیے ایک خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی کی تشکیل کریں جبکہ گوادر بندرگاہ کے استعمال کو بڑھانے کیلیے کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہوں سے گواردر کیلیے چھوٹی کارگو فیری سروس شروع کی جائے۔

کراچی چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر جاوید بلوانی نے کہا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو ڈالر کی قدر میںکمی سے سب سے زیادہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ برآمدی شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام سرکاری اداروں کو7 دن اور24 گھنٹے خدمات فراہم کرنے کا پابند بنائے جبکہ نئے کمرشل قونصلرز کی تقرریوں کو تجارتی اہداف کے ساتھ مشروط کیا جائے، اس موقع پر بی ایم جی کے وائس چیئرمین ہارون فاروقی نے بھی خطاب کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔