’’وہ آج مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں‘‘

 جمعـء 4 اپريل 2014
’’الوداع پاپا!‘‘ میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں اور میری ممی سلاخوں میں سے ان کو چھولیتی ہیں۔ فوٹو: فائل

’’الوداع پاپا!‘‘ میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں اور میری ممی سلاخوں میں سے ان کو چھولیتی ہیں۔ فوٹو: فائل

4اپریل 1979 کو صبح صادق سے بھی بہت پہلے راولپنڈی سینٹرل جیل میں انھوں نے میرے والد کو قتل کردیا۔

چند میل دور سہالہ کے ایک ویران پولیس ٹریننگ کیمپ میں اپنی والدہ کے ساتھ مقید، میں نے اپنے والد کی موت کے اس لمحے کو محسوس کیا۔ اعصاب کی مسکن گولیوں کے باوجود جو میری والدہ نے مجھے وہ کرب انگیز شب گزارنے کے لیے دی تھیں میں اپنے بستر سے گھبراہٹ کے عالم میں اٹھ بیٹھی۔ ’’نہیں پاپا نہیں‘‘ میرے رندھے ہوئے گلے سے چیخ نکل گئی۔ میں سرد ہوتی گئی اور موسم گرما کی حدت کے باوجود میرا جسم کپکپانے لگا، مجھے سانس لینا دو بھر ہوگیا اور میں سانس لینا بھی نہیں چاہتی تھی۔ میری والدہ اور میرے پاس ایک دوسرے کی تسلی کے لیے الفاظ بھی میسر نہیں تھے۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور ہم بے سرو سامان پولیس کوارٹروں میں سمٹی ہوئی بیٹھی رہیں۔ ہم دونوں صبح سویرے میرے والد کی میت کے ہمراہ جانے کے لیے تیار ہوگئیں۔

کسی نے ان متعدد عالمی راہ نمائوں کو بھی اطلاع نہیں دی جنھوں نے فوجی حکومت سے سرکاری طور پر ان کی جاں بخشی کی اپیل کی تھی، ان میں نہ صرف جمی کارٹر، مار گریٹ تھیچر، لیونڈ بریزنف، پوپ جان پال دوم، چیئرمین ہواکوفنگ اور اندراگاندھی شامل تھیں، بلکہ تمام عالم اسلام یعنی سعودی عرب، ایران، ترکی، سوڈان، قطر، مصر، کویت لیبیا، فلسطین، متحدہ عرب امارات، شام وغیرہ کے سربراہان بھی شامل تھے۔ ضیاء حکومت کے بزدل حواریوں میں سے کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ علی الاعلان ملک میں میرے والد کی پھانسی کی تاریخ کا اعلان کرتے۔ وہ یقیناً وزیراعظم بھٹو کی موت پر عوامی رد عمل سے خوفزدہ تھے۔ صرف مجھے اور میری والدہ کو اس بات کا علم ہوا … وہ بھی حادثتاً اور واقعات کے تجزیے کے بعد۔

میں 2 اپریل کی صبح فوج کی طرف سے فراہم کردہ چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی جب میری والدہ اچانک کمرے میں داخل ہوئیں۔ انھوں نے میرے گھریلو نام سے پکارا ’’پنکی‘‘ یہ ایسا لہجہ تھا کہ میرا تمام جسم اکڑ گیا۔ ’’باہر فوجی افسران کا کہنا ہے کہ ہم دونوں آج تمہارے والد سے ملاقات کرلیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘

مجھے مکمل فہم تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ اسی طرح میری والدہ بھی جانتی تھیں۔ لیکن ہم دونوں اس بات کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ یہ دن عمومی طور پر میری والدہ کے ملاقات کا دن تھا، انھیں ہفتے میں ایک بار ملنے کی اجازت تھی۔ میری ملاقات ہفتے کے آخر میں متعین تھی۔ اب وہ ہم دونوں کو اکٹھے ملاقات کے لیے جانے کو کہہ رہے تھے، اس کا مطلب تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔ ضیاء نے میرے والد کے قتل کا فیصلہ کرلیا تھا۔

جیل کی میٹرن نے میری والدہ اور میری تلاشی لی، ایک مرتبہ جب ہم سہالہ کے قید خانے سے روانہ ہوئیں اور دوسری مرتبہ جب ہم راولپنڈی سینٹرل جیل پہنچیں۔

’’آج تم دونوں اکٹھی یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘ میرے والد نے اپنی کال کوٹھڑی کی دوزخ سے آواز دی۔

میری والدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

’’کیا یہ آخری ملاقات ہے؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔

میری والدہ جواب دینے کا یارا نہیں رکھتی تھیں۔

’’میرا خیال ہے ایسا ہی ہے‘‘ میں نے جواب دیا۔

وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پاس ہی کھڑا ہے (یہ لوگ ہمیں پاپا کے ساتھ تنہا چھوڑنے پر کبھی تیار نہیں ہوئے)

’’کیا یہ آخری ملاقات ہے؟‘‘ میرے والد اسے پوچھتے ہیں۔

’’ہاں‘‘ جواب میں جیلر کہتا ہے جیل سپرنٹنڈنٹ حکومت کا یہ پیغام دیتے ہوئے شرمسار محسوس ہوتا ہے۔

’’کیا تاریخ کا تعین ہوگیا ہے؟‘‘

’’کل صبح‘‘ جیل سپرنٹنڈنٹ کا جواب ہے۔

’’کتنے بجے؟‘‘

’’جیل قواعد کے مطابق صبح پانچ بجے‘‘

’’یہ اطلاع تمھیں کب ملی؟‘‘

’’کل رات‘‘ اس نے رکتے رکتے جواب دیا۔

میرے والد اسے نظر بھر کے دیکھتے ہیں۔

’’اپنے اہل و عیال سے ملاقات کا کتنا وقت دیا گیا ہے۔‘‘

’’نصف گھنٹہ‘‘

’’جیل قواعد کے مطابق ہمیں ایک گھنٹہ ملاقات کا حق ہے‘‘ وہ کہتے ہیں۔

’’صرف نصف گھنٹہ‘‘ سپرنٹنڈنٹ دہراتا ہے۔ ’’یہ میرے احکامات ہیں۔‘‘

’’غسل اور شیو کرنے کے لیے انتظامات کرو‘‘ میرے والد اسے کہتے ہیں۔ ’’دنیا خوبصورت ہے اسے میں اسی حالت میں الوداع کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’صرف نصف گھنٹہ‘‘ اس شخص سے ملاقات کے لیے … صرف نصف گھنٹہ جو مجھے زندگی کی ہر شے سے زیادہ عزیز ہے سینے میں درد سے گھٹن محسوس ہوتی ہے مجھے رونا نہیں چاہیے۔ مجھے اپنے ہوش بھی نہیں کھونے چاہییں، کیوں کہ اس طرح میرے والد کی اذیت بڑھ جائے گی۔

وہ فرش پڑے گدے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی کوٹھڑی میں اب صرف یہی فرنیچر باقی رہ گیا ہے جیل حکام کرسی اور میز لے جاچکے ہیں، چارپائی بھی وہاں سے اٹھائی جاچکی ہے۔ میگزین اور کتابیں جو میں پاپا کے لیے لاتی رہی تھی وہ میرے حوالے کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’انھیں لے جائو میں نہیں چاہتا یہ لوگ میری کسی چیز کو ہاتھ لگائیں۔‘‘

وہ چند سگار جوان کے وکلاء وہاں چھوڑ گئے تھے میرے حوالے کرتے ہیں … میں آج شب کے لیے صرف ایک رکھ لیتا ہوں۔ شالیمار کولون کی شیشی بھی رکھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی انگوٹھی بھی مجھے دینا چاہتے ہیں لیکن میری والدہ انھیں کہتی ہیں،’’اسے پہنے رکھیں‘‘ وہ کہتے ہیں ’’اچھا ابھی میں رکھ لیتا ہوں لیکن بعد میں بینظیر کے حوالے کردی جائے۔‘‘

’’میں نے ایک پیغام باہر کی دنیا تک پہنچادیا ہے‘‘ میں نے بہت آہستہ سے انھیں بتایا (جیل کے حکام میری آواز سننے کی کوشش کرتے ہیں)

میں تفصیلات بتاتی ہوں، وہ اطمینان محسوس کرتے ہیں،’’یہ سیاست کے اسرار و رموز میں ماہر ہوچکی ہے۔‘‘ ان کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہوتا ہے۔ موت کی کوٹھڑی میں روشنی مدھم سی ہے۔ میں انھیں صاف طور پر نہیں دیکھ سکتی۔ اس سے قبل ہر ملاقات کوٹھڑی میں ان کے پاس بیٹھ کر ہوتی رہی لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ کوٹھڑی کے باہر دروازے کی سلاخوں کے ساتھ میں اور میری والدہ سکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ باتیں کھسر پھسر کے انداز میں کرتے ہیں۔ ’’دوسرے بچوں کو میرا پیار دینا‘‘ وہ میری ممی سے کہتے ہیں۔ ’’میر، سنی اور شاہ کو بتانا میں نے ہمیشہ ایک اچھا باپ بننے کی کوشش کی اور میری خواہش ہے کہ کاش انھیں بھی الوداع کہہ سکتا۔‘‘ میری والدہ سر ہلاتی ہیں، منہ سے کچھ نہیں بول سکتیں۔

’’تم دونوں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں‘‘ وہ کہتے ہیں ’’وہ آج مجھے قتل کرنے جارہے ہیں۔ میں تمھیں تمھاری مرضی پر چھوڑتا ہوں۔ اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلے جائو جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لا نافذ ہے اگر تمھیں ذہنی سکون چاہیے اور زندگی نئے سرے سے گزارنا چاہتی ہو تو یورپ چلی جائو میری طرف سے اجازت ہے۔‘‘

(ہمارے دل ٹوٹ رہے ہیں) ’’نہیں، نہیں‘‘ ممی کہتی ہیں ۔ ’’ہم نہیں جاسکتے‘‘ ہم کبھی نہیں جائیں گے۔ جرنیلوں کو کبھی یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ضیاء نے انتخابات کا دوبارہ پروگرام بنایا ہے۔ اگرچہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ ایسا کرنے کی جرأت بھی کرے گا یا نہیں، ہم باہر چلی جائیں تو پارٹی کی راہ نمائی کے لیے کوئی نہیں ہوگا اور یہ وہ پارٹی ہے جس کی آپ نے بنیاد رکھی اور پروان چڑھایا۔

’’اور تم پنکی!‘‘ میرے والد پوچھتے ہیں۔

’’میں بھی کبھی نہیں جاسکتی‘‘ میرا جواب ہے۔

وہ مسکراتے ہیں۔ ’’میں بہت خوش ہوں … تم نہیں جانتیں مجھے تم سے کتنا پیار ہے۔‘‘

’’تم میری لعل ہو اور ہمیشہ ہی رہی ہو۔‘‘

’’وقت ختم ہوچکا‘‘ سپرنٹنڈنٹ پکارتا ہے۔ ’’وقت ختم ہوچکا‘‘

میں سلاخوں کو پکڑلیتی ہوں۔

’’برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دو میں اسے کہتی ہوں میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں۔‘‘

سپرنٹنڈنٹ انکار کردیتا ہے۔

میں دوبارہ التجا کرتی ہوں، ’’میرے والد پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ میں ان کی بیٹی ہوں یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ مجھے ان سے مل لینے دو۔‘‘

سپرنٹنڈنٹ انکار کردیتا ہے۔

سلاخوں کے درمیان سے میں اپنے والد کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتی ہوں۔ وہ نحیف و ناتواں ہوچکے ہیں، لیکن سیدھا اٹھ بیٹھتے ہیں اور میرے ہاتھ کو چھولیتے ہیں۔

’’آج شب علائم دنیا سے آزاد ہوجائوں گا‘‘ چہرے پر ایک چمکتی روشنی لیے کہتے ہیں۔ ’’میں اپنی والدہ اور اپنے والد کے پاس چلاجائوںگا‘‘،’’میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف واپس جارہا ہوں، تاکہ اس سرزمین کا، اس کی خوشبو اور اس کی فضاء کا حصہ بن جائوں۔‘‘

’’خلق خدا میرے بارے میں گیت گائے گی، میں اس کی کہانیوں کا جاوداں حصہ بن جائوں گا‘‘

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،’’لیکن لاڑکانہ میں آج کل بہت گرمی ہے۔‘‘

’’میں وہاں ایک سائبان تعمیر کردوں گی۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی۔ جیل حکام آگے بڑھتے ہیں۔

’’الوداع پاپا!‘‘ میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں اور میری ممی سلاخوں میں سے ان کو چھولیتی ہیں۔ ہم گرد آلود صحن میں سے گزرتے ہیں۔ میں مڑ کے پیچھے دیکھنا چاہتی، لیکن حوصلہ نہیں ہوتا۔ مجھے معلوم ہے میں ضبط نہیں کرسکوں گی۔ ’’ہم جب پھر ملیں گے اس وقت تک خدا حافظ‘‘ مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔

(بے نظیر بھٹو کی تصنیف ’’دُخترِ مشرق‘‘ کے باب ’’میرے والد کا قتل‘‘ سے اقتباسات)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔