پی اے سی کا بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم کے فرانزک آڈٹ کا حکم

آئی این پی  جمعرات 29 دسمبر 2022
پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو ڈیم فنڈ کے اکاؤنٹ سے متعلق معلومات دینے کی ہدایت کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ (فوٹو: فائل)

پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو ڈیم فنڈ کے اکاؤنٹ سے متعلق معلومات دینے کی ہدایت کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ (فوٹو: فائل)

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھاشاڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، نیلم جہلم منصوبے اور کے فور کراچی کے منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔

گزشتہ روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی صدارت میں ہواجس میں وزارت آبی وسائل سے متعلق سال 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا، چیئرمین نے کمیٹی اسٹاف کو ہدایات دیں کہ تمام منسٹریز کو خط لکھیں کہ ویری فیکیشن کے حوالے سے جو بھی آڈٹ آفیسر آپ سے لیفٹ رائٹ مانگناچاہتا ہے وہ پی اے سی اور وفاقی سیکرٹریز کو بتا دیں،ہم ایکشن لیں گے.

اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے میں کنٹریکٹرز کو کام شروع ہونے سے پہلے ایڈوانس رقم دیئے جانے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو معاملے سے متعلق بریفنگ دی۔رکن کمیٹی وجیہہ قمر نے کہا کہ ابھی تعمیر شروع نہیں ہوئی زمین نہیں ہے اورپیسے ایڈوانس میں دے دیئے، ٹھیکیدار کون تھا کس کو نوازا گیا؟

سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ ابھی تک زمین لی جارہی ہے رکن کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ یہ ساڑھے چار ارب روپے کی پیمنٹ ہوئی، ایک روپیہ تو نہیں ہے، متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ92فیصد زمین حاصل کر لی گئی ہے، زمین کے حصول کے لئے18ارب ادا کر چکے ہیں.

چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ انکوائری کریں اور ذمہ داروں کا تعین کریں۔ نور عالم خان نے واپڈا کے مختلف منصوبوں میں خلاف ضابطہ طور پر بھرتی ہونے والے افراد کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ 114لوگ ہیں، ان کو کس قانون کے تحت ہائیر کیا گیا، اس میں بے ضابطگیاں ہیں، ایک ٹیلی ویژن آرٹس بھی دو لاکھ روپے لے رہی ہیں، ان لوگوں کوفارغ کریں.

اجلاس میں نئی گاج ڈیم منصوبے کے لئے کنٹریکٹر کی جانب سے جعلی بینک گارنٹی دیئے جانے سے متعلق معاملہ تحقیقات کے لئے نیب کے سپرد کردیا گیا۔

دوسری جانب سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں1973کے آئین کے آرٹیکل 27میں فراہم کردہ ملازمت کے کوٹہ پر غور کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔