غالبؔ، اقبالؔ اور فیضؔ کے بارے میں

نصرت جاوید  جمعرات 3 اپريل 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

مشرف۔مشرف کی تکرار سے اُکتا کر میں ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ والے موڈ میں چلا گیا ہوں۔ ویسے بھی اسلام آباد میں گرمی آتے آتے کہیں رُک سی گئی ہے۔ بارش ہو رہی ہے۔ موسم بہار کی بارش جو اسلام آباد کے درختوں کو عجیب سی راحت بخش کر انھیں دیکھنے والوں کو شاعرانہ بنا دیتی ہے۔ شاعری کی بات پر خیال آیا کہ اسد اللہ خان غالبؔ میرا پسندیدہ شاعر ہے۔ میں اس کے اشعار پڑھتا یا سنتا حیرت میں گم ہو جاتا ہوں۔ کئی طرح کے سوالات ذہن میں اُٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان سوالات کا تمام تر مقصد مگر یہ جاننا ہوتا ہے کہ اس نابغہ روزگار کو اپنے ہنر پر اس قدر مہارت کیسے حاصل ہوئی۔ تخلیقی اور چونکا دینے والے خیالات تو عام انسانوں کے دل و دماغ میں بھی کئی بار آ جاتے ہیں۔ اصل کمال تو انھیں بیان کر دینا ہے۔ وہ بھی زبان و بیان اور غزل جیسی صنف کے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرتے ہوئے۔ غالبؔ کے خطوط اکثر پڑھتا رہتا ہوں۔ اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی تھوڑا بہت پڑھا ہے۔ اس سب کے باوجود کبھی یہ خیال نہ آیا کہ غالبؔ اتنا ہی ’’پھنے خان‘‘ تھا تو بہادر شاہ ظفرؔ کے دربار میں ذوقؔ کی زیادہ پذیرائی سے جل کیوں جاتا تھا۔ شاہ کا مصاحب بننے کے بعد اِتراتا رہا۔ مگر اس شاہ کو جب زوال آیا تو انگریزی حکمرانوں کو چٹھیاں لکھ لکھ کر اپنے خاندان کے لیے ایک زمانے میں بندھی پنشن کیوں یاد دلاتا رہا۔ اس نے خود کو بھری عدالت میں ’’آدھا مسلمان‘‘ کہا تھا۔ مجھے اس کی ’’آدھی مسلمانی‘‘ بھی پریشان نہیں کرتی کیونکہ بڑی دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ شاعر کا ایمان نہیں کام دیکھا جاتا ہے اور اسی تناظر میں مجھے ان دنوں چند کالم نگاروں کے درمیان چھڑی وہ بحث بھی کافی عجیب لگ رہی ہے جو اقبالؔ کے ’’ایمان‘‘ کے بارے میں سوالات اٹھا رہی ہے۔

اپنے کالج جانے تک مجھے اسکول کے دنوں میں پورے دس سال تک اپنی پڑھائی کا آغاز اسمبلی لائن میں دوسرے بچوں کے ساتھ ’’لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری‘‘ کو زیر لب دہرانے سے کرنا ہوتا تھا۔ ہمارے نصاب میں پھر شکوہ اور جوابِ شکوہ کے چند اقتباسات بھی شامل کر دیے گئے۔ میں نے انھیں رٹ لیا اور ان نظموں میں آئے چند مشکل الفاظ کے معنی بھی یاد کر لیے لہذا امتحانات میں ’’سلیس ترجمہ‘‘ کرنے کے قابل ہو گیا۔ میرے اسکول کے دنوں میں ’’مطالعہ پاکستان‘‘ ایک باقاعدہ مضمون کی صورت نصاب میں داخل نہیں ہوا تھا۔ قیام پاکستان کی تاریخ ضرور رٹائی جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے سمجھ بس اتنی آئی کہ اس ملک کے قیام کا خواب علامہ اقبالؔ نے دیکھا تھا اور قائدِ اعظم نے اس کی تعبیر فراہم کر دی۔ اسکول چھوڑنے کے بعد مجھے شاعری سے پہلے ابنِ صفی اور بعد ازاں منٹو جیسے لوگوں کی لکھی فِکشن زیادہ پسند آئی۔ کالج مکمل کرنے تک اسی عادت میں مبتلا رہا اور پھر ایک صحافی بن کر جرائم سے سیاست کے بارے میں خبریں ڈھونڈنے میں مصروف ہو گیا۔ مختصراََ میں ہر گز اس قابل نہیں کہ اقبالؔ کے بارے میں جاری بحث میں کود کر کوئی نیا نکتہ بیان کر سکوں۔ ایک واقعہ ضرور بیان کر سکتا ہوں۔

اپنی وفات سے چند ہی روز پہلے فیض احمد فیضؔ اسلام آباد کے ایک مختصر دورے پر آئے تھے۔ یہاں نعیم پاشا بھی رہتے ہیں جو اب بڑی بڑی عمارتوں کے نقشے بناتے ہیں۔ مگر ان دنوں شاعری اور مصوری میں بھی اپنے لیے کوئی جگہ تلاش کر رہے تھے۔ وہ NCA کے پڑھے ہوئے ہیں اور فیضؔ صاحب کی بیٹی سلیمہ اور ان کے شوہر شعیب ہاشمی کے ساتھ ان کی بڑی قریبی دوستی ہے۔ اس دن بھی اسلام آباد میں ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ فیضؔ صاحب عصر کے قریب نعیم پاشا کے ہاں آگئے۔ انھوں نے مجھے اور سرمدؔ صہبائی کو ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کے لیے مدعو کر لیا۔

ہم وہاں بیٹھے تھے اور سامنے ٹی وی بند کی ہوئی آواز کے ساتھ چل رہا تھا۔ ان دنوں ٹی وی کا مطلب بس PTV ہوتا تھا۔ اس پر ایک اسٹل (Still) نمودار ہوئی جس پر اقبالؔ اپنے گال پر ہاتھ رکھے بیٹھے تھے اور نیچے ان کا کوئی شعر۔ فیض احمد فیضؔ وہ شعر دیکھ کر بہت ناراض ہوئے۔ ’’پی ٹی وی والوں کو جانے کیا بیماری ہے ہمیشہ علامہ صاحب کا وہ شعر چنتے ہیں جو موچی دروازے میں ہونے والے کسی جلسے میں سنائے جانے کے لائق ہوتا ہے‘‘۔ ان کا یہ فقرہ سننے کے بعد میں یہ کہنے کی جسارت کر بیٹھا کہ شاید اقبالؔ کی ساری شاعری موچی دروازے میں ہونے والے جلسوں ہی کے لیے تھی۔ میرا یہ فقرہ سن کر ان کا منہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ انھوں نے خلافِ عادت ذرا درشت آواز میں مجھے آگاہ کیا کہ اگر ’’علامہ صاحب نہ ہوتے تو ہم ہرگز وہ شاعری نہ کر سکتے جو آج کل کر لینے کی جسارت کر لیتے ہیں‘‘۔ یاد رہے کہ فیضؔ صاحب نے ہم کا صیغہ صرف اپنی ذات کے لیے استعمال کیا تھا۔ مارے شرم کے میں خاموش ہو کر صوفے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ مگر اس دن کے بعد سے اس سوال نے کبھی پیچھا نہیں چھوڑا کہ فیض احمد فیضؔ جیسے لینن انعام یافتہ ’’غدار اور کمیونسٹ‘‘ اقبالؔ کو مارے ادب کے صرف علامہ صاحب کیوں کہتے رہے اور میرے ایک روایتی پھکڑ پن والے فقرے پر اتنے چراغ پا کیوں ہو گئے۔

PTV کے انتظامی امور کو چلانے میں ساری زندگی گزار دینے والے آغا ناصر نے مجھے بہت عرصے بعد کئی محفلوں میں قسط وار سمجھایا کہ فیض احمد فیضؔ اقبالؔ کے بہت ہی کٹر عقیدت مند تھے۔ ان کی شاعری پر کی جانے والی نرم ترین تنقید کو بھی برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ آغا ناصر نے فیض احمد فیضؔ کی اقبال کے ساتھ عقیدت کی داستانیں سنائیں تو میں نے ان کی کلیات خرید کر اپنے پاس رکھ لی۔ فارسی کلام تو ظاہر سی بات ہے میرے لیے سراہنا تو کیا سمجھنا بھی ممکن نہیں۔ ہاں اُردو کلام کا شکوہ اور ولولہ حیران کر دیتا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اس امر پر ہوتی ہے کہ اقبالؔ کا ذہن کتنا زرخیز تھا۔ وہ ابلیس کی مجلس میں پہنچ کر وہاں ہونے والی گفتگو کو ایک ماہر ڈرامہ نگار کی طرح بیان کر دیتا ہے اور لینن کو خدا کے حضور لے جا کر اپنے لیے ’’مٹی کا حرم اور بنا دو‘‘ کہہ ڈالنے کی جسارت کر لیتا ہے۔ اشعار کے حوالے دے کر بات کو مزید کیا بڑھانا۔ ’’مُکدی گل‘‘ یہ ہے کہ اقبالؔ کی صرف روح بے چین نہیں تھی۔ اس کا ذہن بھی حیرت انگیز حد تک تخلیقی تھا اور پھر وہی غالبؔ والی بات کہ نادر اور چونکا دینے والے خیالات کو زبان و بیان اور شاعری کے تمام قواعد و ضوابط کی پوری پابندی کرتے ہوئے بیان کر دینے کی مہارت ہی اصل بات ہوا کرتی ہے۔ ہر بڑے شاعر کا کمال اس کا ہنر ہوتا ہے اور اقبالؔؔ کی اپنے ہنر پر قدرت تقریباََ ساحروں والی تھی۔

1994ء میں مجھ کو ایران میں دس روز قیام کا موقعہ ملا۔ وہاں میری ایک دانشور دوست نے اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا۔ وہاں ایک بہت ہی حسین پارسی عورت بھی موجود تھی۔ میری دوست نے جس کا بھائی ایرانی حکومت میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھا بڑے فخر سے مجھے اس عورت سے یہ کہہ کر ملوایا کہ یہ فارسی شاعری کی بہت بڑی اتھارٹی مانی جاتی ہیں۔ میں فارسی شاعری کا ذکر اس خاتون سے کیا کرتا۔ زبان سے مکملنا آشنائیسے بڑی حقیقت یہ بھی تھی کہ میں اس خاتون کو دیکھ کر غزل گو ہونا چاہ رہا تھا۔ میرے اس فقرے کو سمجھنے کے لیے بس یاد کر لیجیے کہ غزل کے لغوی معنی ’’عورتوں سے گفتگو‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ اتفاق سے چند ہی دن پہلے رومیؔ کا انگریزی ترجمہ پڑھا تھا۔

بات چلانے کو اس کا ذکر چھیڑ دیا تو بڑی رعونت سے جواب ملا ’’مولانا روم فارسی زبان کے شاعر تو نہیں ہیں‘‘۔ میں حیران ہو کر خاموش ہو گیا۔ اپنی خفت مٹانے کو اقبالؔ کا ویسے ہی نام لے دیا تو آنکھیں پھاڑ کر عقیدت سے فرمانے لگیں کہ ’’اقبالؔ لہوری فارسی زبان کے جدید ترین شعرا کے بابائے آدم ہیں۔ انھیں پڑھے بغیر آپ شاعری کا شغل اختیار ہی نہیں کر سکتے‘‘۔ سچی بات ہے میں بڑا نادم ہوا کہ اپنے شہر لاہور سے منسوب اقبالؔ کی آفاقیت سے میں اتنا ناواقف کیوں ہوں۔ ایک قصہ اقبالؔ ہی کے ضمن میں میرے پاس راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا کے حوالے سے بھی ہے۔ 2005ء کی ایک دعوت میں اس کا تعارف نئی دہلی کے ایک ہوٹل میں یوسف صلاح الدین سے کروایا گیا تو ذکر اس بات کا بھی ہوا کہ وہ اقبال کے نواسے ہیں۔ تعارف کروانے والا سمجھا کہ شاید پریانکا گاندھی اقبالؔ سے واقف نہ ہوں گی۔ اس نے مدد کرنا چاہی تو ترنت جواب ملا۔ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ والے اقبالؔ کی بات کر رہے ہیں ناں آپ؟

عرض بس اتنا کرنا ہے کہ اقبالؔ جس کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کو ’’غیر‘‘ بھی تسلیم کرتے ہیں آپ صرف اپنی پسند کے کسی چوکھٹے میں کیوں بند کر دینا چاہ رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔