بلوچوں کو قومی دھارے میں ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں،نواز شریف

نمائندہ ایکسپریس / اے پی پی  جمعـء 4 اپريل 2014
حکومت بھرپور نجکاری پالیسی پر عمل پیرا ہے،اجلاس سے خطاب، اختر مینگل کی ملاقات ۔ فوٹو : آن لائن

حکومت بھرپور نجکاری پالیسی پر عمل پیرا ہے،اجلاس سے خطاب، اختر مینگل کی ملاقات ۔ فوٹو : آن لائن

اسلام آ باد: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل سے ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، ناراض لوگوں کی ناراضی کا خاتمہ، صوبے کے عوام کو تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

تمام بلوچوں کو قومی دھارے میں ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔ صوبے کے بزرگ سیاستدان سردار عطااﷲ مینگل کو اس موقع پر حالات کی بہتری کیلیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ریلوے حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام ریلوے اسٹیشنوں کو شہریوں کو بہترین خدمات کی فراہمی کے ساتھ جدید بنایا جائے۔ ریلوے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ قواعد وضوابط، میرٹ پر مبنی ہیومن ریسورسز پالیسی پر وزارت ریلوے کی توجہ قابل تعریف ہے۔ اجلاس میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال، وزیراعلیٰ شہباز شریف اور اعلیٰ حکومتی افسروں نے شرکت کی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کی موجودہ انتظامیہ نے مسافروں اور مال برداری کے بنیادی کاروبار پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔

بہتر انتظام کے ذریعے اس سال 4.5 ارب روپے کے اضافی ریونیو کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے اور ریلوے کے نقصانات میں5 ارب کی کمی ہوئی ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے پر کام کا جلد آغاز ہوگا۔اجلاس میں ریلوے بورڈ کی نجی شعبے سے بہتر نمائندگی کے ساتھ تشکیل نو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ’’ومپل کام‘‘ کے سی ای او جولنڈر، ’’ایمرٹس‘‘ کے شریک بانی اور چیئرمین اوگئی کے فبیلا اور ’’موبی لنک‘‘ کے سی ای او اور صدر راشد خان پر مشتمل ٹیلی کام صنعت کے وفد سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ تھری جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ۔’’ومپل کام‘‘ کے وفد سے گفتگو میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے آزادانہ اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کی بدولت پاکستان ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کیلیے پرکشش مقام بن چکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔