ڈالر قلت کی وجہ اسمگلنگ نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی ہے، ایف بی آر

شہباز رانا  جمعـء 6 جنوری 2023
اوپن مارکیٹ اور گرے مارکیٹ میں فرق 30 روپے فی ڈالر تک بڑھ چکا ہے، ممبرکسٹمز
فائل فوٹو

اوپن مارکیٹ اور گرے مارکیٹ میں فرق 30 روپے فی ڈالر تک بڑھ چکا ہے، ممبرکسٹمز فائل فوٹو

 اسلام آباد: ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈالر کی قلت میں کرنسی اسمگلنگ کے کردار کو بعض مفاد پرست بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں کیونکہ تقریباً 90 فیصد قلت ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہے نہ کہ اسمگلنگ کے باعث۔

ان خیالات کا اظہار ایف بی آر کے ممبر کسٹمز آپریشنز مکرم علی جاہ نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کے پاس بھی کرنسی اسمگلنگ کے حجم کے بارے میں درست اعداد وشمار نہیں لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ مارکیٹ میں ڈالر کی موجودہ قلت میں کرنسی کی اسمگلنگ کا حصہ صرف 10 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ اور گرے کرنسی مارکیٹ کے درمیان فرق 30 روپے فی ڈالر تک بڑھ چکا ہے۔ انٹربینک اور گرے مارکیٹ کے نرخوں کے درمیان بہت زیادہ فرق کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی ذخیرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ذخیرہ اندوزی مقامی عوامل کی وجہ سے ہونے والی کرنسی قلت میں 90 فیصد کی حصہ دار ہے۔ کسٹمز نے بین الاقوامی پروازوں کی جامع جانچ پڑتال کی، جس سے پتہ چلا کہ دبئی جانے والی پروازوں کے مسافروں کے پاس اعلان کردہ کل رقم اوسطاً صرف 50,000 ڈالر فی پرواز تھی۔

ممبر کسٹمز آپریشنز نے بتایا کہ کسٹمز نے اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں دگنی کر دی ہیں۔ 2022 میں کسٹمز نے تقریباً 125 کیسز میں 5 ملین ڈالر کے مساوی غیرملکی کرنسی ضبط کی جبکہ 2021 میں 26 کیسز میں صرف 270,000 ڈالر ضبط کیے گئے تھے۔ رقم ضبطی میں اکتوبر سے دسمبر کے دوران بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز اسامیاں 150 ہیں لیکن اس وقت وہاں صرف 15 اہلکار کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط تاثر یہ بھی پیدا کیا جا رہا ہے کہ بہت سارے امریکی ڈالر افغانستان اسمگل کیے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ نظرثانی شدہ ضوابط کے مطابق پاکستان سے بین الاقوامی مسافر سال بھر میں زیادہ سے زیادہ 30,000 ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی لے جاسکتے ہیں، جس کی فی سفر بالائی حد 5000 ڈالر تک ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔