سیلاب متاثرین کیلیے عالمی کانفرنس؛ وزیراعظم جنیوا پہنچ گئے

ویب ڈیسک  اتوار 8 جنوری 2023
وزیراعظم انتونیو گوٹیرس کے ساتھ پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر کانفرنس کی میزبانی کریں گے (فوٹو : فائل)

وزیراعظم انتونیو گوٹیرس کے ساتھ پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر کانفرنس کی میزبانی کریں گے (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کی میزبانی کے لیے وزیراعظم جنیوا پہنچ گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اعلی سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے جنیوا پہنچ گئے۔ وفد میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان اور وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب شامل ہیں۔

وزیراعظم آج کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ساتھ مل کر پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔

پاکستان کانفرنس میں تعمیر نو اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا فریم ورک پیش کرے گا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دے گا۔

کانفرنس میں اعلی افتتاحی اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر تعمیر نو اور سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی میں شراکت کی دستاویز کا آغاز کیا جائے گا، جس کے بعد پارٹنر سپورٹ کے اعلانات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مشترکہ پریس اسٹیک آؤٹ میں بھی شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں سربراہان مملکت و حکومت، وزراء اور متعدد ممالک کے اعلیٰ سطح نمائندے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، فاؤنڈیشنز اور فنڈز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور آئی این جی اوز کے نمائندے شرکت کریں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ترقی کے شراکت داروں اور دوست ممالک کے سامنے بحالی اور تعمیر نو کا جامع فریم ورک پلان رکھیں گے، بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے فنڈنگ کے فرق کو پورا کرنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے، دنیا کی تاریخ میں انسانیت ایک موڑ پر ہے، آج کے اقدامات آنے والی نسلوں کے لچک دار مستقبل کی تشکیل کریں گے، تباہی سے متاثر ہونے والے لاکھوں پاکستانی واپسی کے لیے ہمدردی اور یکجہتی کے خواہاں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔