مختلف اضلاع کی حد بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواستیں مسترد

ویب ڈیسک  منگل 10 جنوری 2023
ایم کیوایم کی درخواستوں میں  صوبائی الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا:فوٹو:فائل

ایم کیوایم کی درخواستوں میں صوبائی الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا:فوٹو:فائل

  کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے مختلف اضلاع کی حد بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواستیں مسترد کردیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مختلف اضلاع کی حد بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی 2 درخواستوں پر سماعت کی۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ  یہ مسئلہ بنیادی طور پر یو سیز اور ٹائونز کی حد بندیوں کا ہے۔ سندھ حکومت نے سیاسی فائدے کیلئے غیر منصفانہ حد بندیاں کیں۔ ضلع غربی میں یوسیز اور ٹاؤنز کی تشکیل غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ اورنگی، مومن آباد، بلدیہ، نارتھ ناظم آباد اور شاہ فیصل کالونی میں حلقہ بندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ اپیلیٹ اتھارٹی نے بھی ہمارا مؤقف نہیں سنا۔ یہ غیر منصفانہ عمل ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جو نوٹیفیکیشن چیلنج کیا ہے اس پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے ایم کیو ایم کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔

درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اگر حلقہ اور حد بندیاں درست نہ ہوئیں تو انتخابات منصفانہ نہیں ہوں گے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے دائر درخواستوں میں صوبائی الیکشن کمیشن، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔