چترا پریتم اور نروان کی تلاش

شائستہ مومن  اتوار 15 جنوری 2023
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

سورج جوبن پر تھا۔ اس کے اردگرد زندگی پوری توانائی کے ساتھ رواں دواں تھی۔ صرف وہ خاموش کھڑا بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو اور کبھی چمکیلے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ اتنی روشنی کے اور شور کے باوجود اسے سب کچھ تاریک لگ رہا تھا۔

کہاں جانا ہے اسے معلوم نہ تھا۔ پیچھے رہ جانے والا دروازہ اس پر بند ہوچکا تھا اور آگے کا راستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ آج سے چند سال پہلے جب اس نے گھر کی دہلیز چھوڑ کر اپنی تلاش کا سفر شروع کیا تھا، تب وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سفر کتنا کٹھن ہوگا۔ راہ میں سنگ نہیں بلکہ کوہ گراں آئیں گے اور آج جب وہ کراچی جیسے بڑے شہر میں تھا، ایک بار پھر نیا کوہ گراں سامنے تھا۔

اس نے خود کو اس لمحے انتہائی کم زور محسوس کیا۔ کہاں جائے کیا کرے۔ پچھلا دروازہ بند ہوچکا تھا اور آگے کی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ اس نے گہری سانس بھری۔ اندر سے آواز آئی ’’تم اکیلے نہیں ہو۔ صدیوں پہلے گوتم بھی اپنی تلاش کے سفر پر نکلا تھا۔ تم گوتم ہو۔ تمہیں منزل تک لے جانے والی طاقت اب تک تمہاری راہ نما ہے، بس خود کو اس کے حوالے کرو۔‘‘ اور پھر جیسے روشنی نے اسے گھیر لیا۔ راستے کہیں نہیں ہوتے، ہم جس راہ پر چلیں وہی منزل تک پہنچاتی ہے۔ اس نے ارد گرد نظر دوڑائی اور چل پڑا۔

ہزاروں آبلے پائے سفر میں

مسلسل قافلہ اک چل رہا ہے

یہ نوجوان آج کے پاکستان کا نام ور مصور چترا پریتم تھا۔ چترا پریتم نے 11 ستمبر 1966 کو جنوبی پنجاب (پاکستان) کے ایک گاؤں سنجرپور میں آنکھ کھولی۔ ابھی لڑکپن کی دہلیز پار نہ ہوئی تھی کہ چترا نے گھر کی دہلیز چھوڑ کر ایک ایسا سفر اختیار کیا جو ہنوز جاری ہے۔ اس سفر میں کئی پڑاؤ آئے جن میں حنیف رامے، شکیل عادل زادہ، انور سن رائے، جمال احسانی، عبید اللہ علیم اور پھر جمیل نقش شامل تھے۔

سفر جاری رہا اور وہ ایک کے بعد ایک منزل طے کرتا رہا۔ سن 2000 عیسوی میں اسے نیشنل کلچرل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سن 2013 سنگ میل ثابت ہوا جب صدر پاکستان نے چترا پریتم کے سینے پر تمغۂ امتیاز سجایا۔

چترا پریتم کا سفر تو جاری و ساری ہے مگر وہ کہاں کہاں اپنی چھاپ چھوڑتا گیا یہ ہم اس کے کام پر نظر دوڑا کر ہی جان پائیں گے۔

چترا اکثر کہتے ہیں،’’لائن اور نقطہ مصور کے لیے ایک نظریہ ہے۔‘‘ چترا پریتم کے کام کا جائزہ لیں تو لکیر کا نظریہ واضح ہوتا جاتا ہے۔ لکیر کیا ہے؟ اگر نقطوں کے تسلسل کو لکیر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ نقطہ ایک زاویہ کہا جا سکتا ہے اور یہی زاویہ کوئی نظریہ بناتا ہے۔ یعنی نقطۂ نظر۔ نقطہ اپنے اندر محدود ہوتا ہے جب کہ لکیر اس راستے کی طرح ہوتی ہے جس پر آپ کی نظر سفر کرتی ہے۔

بالکل ویسے ہی جیسے کوئی نظریہ ہمیں راستہ فراہم کرتا ہے۔ وژول آرٹ میں مصور کا اظہار اگر کینوس پر ہے تو نقطہ، لائن، کلر، ٹکسچر، فارم اور پرسپیکٹو وہ عناصر ہیں جن پر کسی فن پارے کا انحصار ہوتا ہے، اور پرکھنے والوں کے لیے یہی عناصر پیمانہ بن جاتے ہیں۔

برسوں کی ریاضت کے بعد مصور اتنا مشاق ہوجاتا ہے کہ وہ ان عوامل کے زیراثر نہیں رہتا بلکہ ان کو اپنا مطیع کرلیتا ہے۔ نقطے، لائن، رنگ اور فارم اس کے اشاروں پر چلتے نظر آتے ہیں۔ چترا کے کام میں ہمیں یہی مشاقی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک ماہر سوار ہیں جنہوں نے آرٹ کے بے لگام گھوڑے کو قابو کرلیا ہے۔

ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں چترا اس نقطے سے آن ملے جس نے انہیں، بقول ان کے ذرے سے آفتاب کردیا۔ اور وہی چترا کا مدار ٹھہرا۔ یہ نقطہ بذات خود بے کراں تھا۔ جمیل نقش جنہوں نے کبھی کسی کو شاگردی میں نہ لیا تھا، چترا کوبھی نہیں۔۔۔۔۔۔ مگر ایک وقت ایسا آیا جب وہ چترا کو اپنا شاگرد تسلیم کرلینے پر مجبور ہوگئے۔

فن کار کے خمیر میں ضد نہ ہو تو فن کار کیسا؟ سمندر کی لہریں بار بار ساحل پر پٹخ دیں مگر سچا فن کار سمندر میں اتر جانے کی ضد نہیں چھوڑتا۔ سمندر کو ہارماننی ہی پڑتی ہے۔

جمیل نقش جیسے گھنے درخت کا سایہ چترا کی مصوری کی بیل کو منڈھے چڑھنے سے روک بھی سکتا تھا، کیوںکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ استاد کا رنگ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ شاگرد اس کی پرچھائیں بن کر رہ جاتے ہیں مگر چترا کے پاس اپنا ہی رنگ تھا۔ اس نے استاد سے سب کچھ لیا مگر اپنا وجود اپنا آہنگ قائم رکھا۔ ایبسٹریکٹ، کیلیگرافی، لینڈ اسکیپ، سی اسکیپ ہر میدان میں چوکھا رنگ جمایا۔

چترا پریتم کے کام کا جائزہ لیں تو اسے ہم بہ آسانی پانچ یا چھے خانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، مگر تقسیم کے باوجود یہ خانے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ ایک طرف چترا پریتم بُدھا میں خود کو تلاش کرتا نظر آتا ہے، تو وہیں دوسری طرف قرآنی آیات اپنے کینوس کی زینت بناتا ہے۔

کہیں وہ میرا کے عشق لازوال کی مالا پروتا ہے تو کہیں اپنے اندر بسی ہوئی مٹی کے سوندھے پن کو لینڈاسکیپ کی صورت مجسم کرتا ہے۔ کراچی کے ہجوم میں کھونے اور پھر ابھرنے کی کہانی وہ سمندر کی لہروں پر ابھرتی، ڈولتی کشتیاں بناکر رقم کرتا ہے۔ ان تمام جہتوں میں اگر کوئی قدر مشترک رہتی ہے تو وہ چترا پریتم ہے۔

چالیس برس کے سفر کی طویل کہانی ہزاروں پینٹنگز کی صورت آج چترا کے دستخط کے ساتھ موجود ہیں۔

٭لینڈ اسکیپ اور سی اسکیپ

چترا پریتم کی لینڈاسکیپ تصاویر پر بات کریں تو یہ ہمیں پوسٹ امپریشنسٹ نظریے کی عکاس نظر آتی ہیں۔ کچھ پینٹنگز میں وین گو سے انسپریشن ایسی ہے کہ نظر دھوکا کھا جائے۔

سنہری دھان ہو یا مٹی کا گدیالہ رنگ، گلابی آسمان یا پتوں کا ہرا رنگ، رنگوں کے چھوٹے بڑے اسٹروکس کی اوور لیپنگ سے شکل نکالتے نظر آتے ہیں۔ رنگ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود ہیں، مگر منظر اور ماحول پر حاوی نہیں ہیں۔ قریب جائیں تو ہر رنگ الگ الگ دکھائی دیتا ہے اور دور سے دیکھیں تو سارے رنگ آپس میں مدغم ہو کر منظر کی تشکیل کرتے نظر آتے ہیں۔ پوسٹ امپریشن ازم کی یہی خاصیت تھی۔ یہ وہی کھیت کھلیان، کچی مٹی کے مکان، گھنے درخت اور ڈھور ڈنگر ہیں جن کے درمیان چترا نے پرورش پائی۔

ان پینٹنگز کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اسپاٹ پینٹنگز نہیں ہیں بلکہ بچپن کی یادوں میں بسے گاؤں کے مناظر کو تمام جزئیات کے ساتھ پینٹ کیا گیا ہے۔ چترا وہاں سے جیسے کبھی گیا ہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر پینٹنگز میں سریلزم کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

چترا سادگی اور گہرائی کا امتزاج ہے۔ اگر آپ کو کبھی چترا پریتم سے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کو اندازہ ہوگاکہ یہ سادہ سا نظر آنے والا شخص بہت تہہ دار ہے۔ ادب کے قاری، شاعری سے شغف رکھنے والے اس مصور کی سادہ سی بات کے اندر کئی معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔

یہی حال چترا پریتم کی پینٹنگز کا بھی ہے۔ سادہ سے لینڈ اسکیپ کو بغور دیکھیں تو کہیں اداسی دکھائی دے گی، کہیں جدائی اور تنہائی کا کرب۔ فارم کے اندر فارمز نظر آئیں گی۔ وہ کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہنا چاہتا ہے۔ تہہ داری متقاضی ہے کہ پرت در پرت چھپے ہوئے معنوں کو تلاش کرنے والی کوئی آنکھ ہو مگر دکھ یہ ہے کہ جس ملک اور جس دور سے اس مصور کا تعلق ہے وہاں ہر شعبۂ زندگی تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں چترا کے کام کی گہرائی کو سمجھنے والے موجود نہیں ہیں۔

نہ سمجھو تم اسے شورِبہاراں

خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے

سی اسکیپ پینٹنگ کہنے کو تو انتہائی سادہ ہیں۔ کہیں کوئی پوشیدہ پیغام یا فلسفہ دکھائی نہیں دیتا۔ چترا پریتم اسی اسکول آف تھاٹ کے پروردہ ہیں جو کسی بھی ایک کمپوزیشن کو مختلف انداز میں پینٹ کرنے کی صلاحیت کو فن کی معراج مانتا ہے۔ فلسفہ یہی ہے کہ ایک ہی فارم اور ایک ہی کمپوزیشن ہزار ہا پیرایوں میں بیان کی جا سکتی ہے۔ ایک پینٹنگ پر کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہیں سے نئی کہانی شروع ہوتی ہے۔

سی اسکیپ پینٹنگ میں بھی ہمیں جابجا ان کی کیلیگرافک لکیریں نظر آتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ لکیریں ان کی ذات میں کہیں پیوست ہیں۔ جیسے ہزاروں سال پرانی تہذیب کے سربستہ راز لیے کسی قدیم زبان کے حروف مٹی کی تختی پر کندہ ہوں۔

٭بدھا، میراسیریز

فن کار خود کو ساری زندگی تلاش کرتا رہتا ہے۔ دریافت کی نئی منزلیں طے کرتا ہے۔ چترا کا بدھا اسی تلاش کی ایک اور کڑی ہے۔ بدھا جس نے انسانی زندگی کی یاسیت اور درد کا کارن تلاش کرنے کی خاطر سفر اختیار کیا، دردر کی خاک چھانی اور بالآخر اپنی ذات کے اندر کا سفر طے کرکے نروان تک پہنچا۔

چترا پریتم نے کہیں نہ کہیں خود کو بدھا سے مماثل پایا اور بطور زاد راہ رنگ، لکیریں، ٹیکسچر، فارم اور پرسپیکٹو لیے اپنی تلاش کو نکل کھڑا ہوا۔ کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوجاتا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں کی مراقباتی نشست کے بعد جو کچھ وجود میں آتا ہے اسے الفاظ کی گرفت میں لانا ممکن نہیں۔ جہاں زمان و مکان گم ہوجائیں وہاں الفاظ بھی گم ہو جاتے ہیں۔

چترا کی مشہور زمانہ بدھا سیریز کی سب سے بڑی خاصیت ان کی سادگی ہے۔ بقول چترا پریتم،’’اگر مصور اپنی روایات، تہذیب اور مٹی سے جڑا نہ ہو تو اس کا فن تکمیل نہیں پا سکتا۔‘‘ چترا کا کوئی بھی کام اٹھا کر دیکھیں تو وہ بہ زبان خود کہتا نظر آئے گا کہ مجھے تخلیق کرنے والے کا تعلق کس زمین سے ہے۔

دنیا  کے بیشتر مصور بدھا پینٹ کرتے ہیں مگر اکثر محض بدھا کے مخصوص چہرے اور فارمز ہی بناتے ہیں جب کہ پاکستان میں صرف چترا پریتم بدھا پینٹ کرتا ہے مگر وہ بدھا کا ظاہری وجود نقش نہیں کرتا بلکہ اس کے باطن کی گہرائی میں اترتا چلا جاتا ہے۔ بدھا جس نے کہا ’’اناتا‘‘ Anatta یعنی ’’یہ میں نہیں ہوں‘‘، جس نے ظاہری فارم سے انکار کیا، اور روح کی حقیقت کو سمجھنے کا پیغام دیا۔ چتر کاروں اور مورتی بنانے والوں نے اسے اسی فارم میں مقید کرکے اس کے پیغام کو سبوتاژ کر دیا۔ چترا نے بدھا کو بے شمار روپ دے کر اسے فارم کی بندش سے آزاد کر دیا۔

عورت ہزاروں سال سے مصوروں کا پسندیدہ موضوع رہی ہے۔ مصوری ہی کیا، فنون کے مجموعی اثاثے سے اگر عورت کو نکال دیا جائے تو یہ نصف بھی نہ بچے گا۔ مگر اکثر مصور عورت کے حسن و جمال سے آگے نہ دیکھ پائے۔ چترا نے جب عورت پینٹ کی تو وہ عشق حقیقی کا استعارہ ’’میرابائی‘‘ تھی۔

میرا جس نے کرشنا کو مادی وجود میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ جس نے بھگوان کرشن کو یوں چاہا کہ اس کا اپنا وجود منفی ہوگیا۔ اور اس نفی نے پریت کی لازوال داستان رقم کی۔

سفر بدھا کا ہو یا میرابائی کا، راستے بے شک جدا ہیں مگر منزل ابدیت ہی ہے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو چترا پریتم بھی ابدیت کے راستے پر گام زن رہا اور اس کی منزل بھی وہی رہی۔

ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے

٭ایبسٹریکٹ

چترا پریتم کی ایبسٹریکٹ پینٹنگ میں ان کی تمام جہتیں اکھٹی نظر آتی ہیں۔

بقول چترا پریتم کسی پینٹنگ کی خوبی یہ ہے کہ اگر ایک بھی اسٹروک کو ہٹا دیا جائے تو پینٹنگ ادھوری لگنے لگے۔ یعنی کوئی نقطہ، کوئی لکیر بے مقصد نہ ہو۔ یوں ہمیں چترا پریتم کی پینٹنگ میں معمولی سے معمولی نقطہ اور باریک سے باریک لائن بھی اپنے پورے وجود کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ہر نقطہ، ہر لکیر ایک کیریکٹر ہے۔ لفظ آرٹ کے لغوی معنی ہیں ’’چیزوں کو ان کے درست مقام پر رکھنا۔‘‘ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ چترا نہایت عمدگی سے اپنے کینوس کی سطح کو تقسیم کر کینقطوں اور لکیروں کا ایسا جال بُنتا ہے کہ ایک ٹانکا بھی کم ہو جائے تو جال بکھر جائے گا۔

یوں تو اس مصور نے کہیں کسی ادارے سے مصوری کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی مگر جمیل نقش جو کہ خود ایک اداراہ، ایک اسکول آف تھاٹ کا درجہ رکھتے ہیں۔

ان کی قربت میں وہ کچھ سیکھا جو بڑے بڑے اداروں میں پڑھنے والے نہیں سیکھ پاتے۔ چترا نے ماڈرن آرٹ کو یوں گھول کر پی لیا کہ وین گو، جان میرو، ماتیس، مونے اور ارشل گورکی اس کے اپنے وجدان کا حصہ بن گئے۔ ماڈرن آرٹ اظہار کی آزادی کا نام تھا۔ بدلتی، پھیلتی ہوئی دنیا میں مصور انفرادی اور شخصی آزادی کے حصول کی خاطر کلاسیکل آرٹ کی روایات کو توڑ رہے تھے۔ اسپیس ویلیو بدل رہی تھی۔

فارمز ڈسٹارٹ کی جا رہی تھیں۔ پرانے دور کی اجتماعیت جو ہمیں کلاسیکل آرٹ میں نظر آتی تھی اب انفرادیت کی صورت اختیار کر رہی تھی، جہاں مصور صرف وہ پینٹ کرنا چاہتا تھا جو اس کی ذات کی پیچیدگیوں کا اظہار ہو، مگر وہ دنیا سے خود کو کاٹ کر الگ نہیں کر رہا تھا بلکہ ارد گرد ہونے والی تبدیلیوں کا اظہار زیادہ پر زور طریقے سے کر رہا تھا ، جو آج سے پہلے کے مصور نے نہیں کیا تھا۔

چترا نے ویسٹ کے مصوروں کو سمجھا، ان سے سیکھا مگر ان کے رنگ میں خود کو رنگا نہیں بلکہ اپنی انفرادیت قائم رکھی۔ آپ کو کہیں کہیں اس کے کام میں انسپریشن کی جھلک ضرور نظر آئے گی مگر مشرق کی مٹی کی خوشبو اور یہاں کی سادگی اسے منفرد اور ممتاز بناتی ہے۔

اس کا اظہار روایات کو توڑتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ مشرق کی پاس داری، تقدس اور رکھ رکھاؤ لیے ہوئے ہے۔ اس کی فارمز کا بغور جائزہ لیں تو ان میں پوشیدہ وہ فارمز بھی نظر آئیں گی جنہیں ویسٹ کے مصوروں نے شتر بے مہار کی طرح نمایاں کرکے آزادی کو نئے معنی دے دیے مگر چترا کی ذومعنی فارمز آزاد ہونے کے باوجود بے راہ رو نہیں ہیں اور یہیں ہمیں روایات سے جُڑا مشرقی مصور نظر آتا ہے۔

کوئی پابندی نہ چاہے ایسی آزادی کہاں

خود مری خواہش سے نکلا سلسلہ زنجیر کا

٭ کیلیگرافی

میں اگر یہ کہوں کہ چترا پریتم آج چترا پریتم ہے تو وہ اپنی کیلیگرافی مصوری کی وجہ سے ہے تو غلط نہ ہوگا۔ کیلیگرافی نے چترا کو ایک نئی اور ان مٹ پہچان عطا کی۔ چترا کے تمام کام پر نظر ڈالیں تو یقیناً صرف اس ایک جہت کے کام کو ہم کل اثاثہ نہیں مان سکتے مگر کیلیگرافی کی چھاپ ہمیں اس کے ہر کام پر گہری دکھائی دیتی ہے اور عوامی مقبولیت اور شناخت کا سہرا بھی خطاطی کے سر ہی جاتا ہے۔

نوے کی دہائی میں جب چترا نے اپنی خطاطی شو کیس کی تو اس کا نام شہ سرخیوں کی زینت بن گیا۔ وجہ صرف آرٹ نہ تھی بلکہ ہمارے معاشرے کی اندھی نظر تھی جو خدا اور قرآن کو بھی دائروں میں قید کردینا چاہتی ہے۔ اس تنازعے نے چترا کے دل کو زخمی ضرور کیا مگر اس کے مصوری کے سفر کو پر لگ گئے۔

چشم زدن میں چترا پاکستانی آرٹ کے افق پر روشن ستارے کی طرح نمودار ہوگیا، اور آج تک اس کی چمک ماند نہیں پڑی۔ اپنی خطاطی کے بارے میں چترا پریتم بتاتے ہیں کہ ان کا خط، خط مغربی سے متاثر ہے۔

یہ کوئی روایتی خط نہیں ہے اس لیے اس کا موازنہ رائج خطوط سے نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے محض خطاطی کہا جا سکتا ہے۔ مصورانہ خطاطی پاکستان میں بہت بڑے بڑے مصوروں نے کی، مگر اکثر نے الفاظ کو اس حد تک ڈسٹورٹ کردیا کہ وہ قابل فہم نہیں رہے۔

چترا کی خطاطی مصورانہ خطاطی ہونے کے باوجود لفظ بہ لفظ پڑھی جا سکتی ہے۔ ان تصویروں میں بھی چترا کے باقی کام کی طرح لائن، کلر اور بیلنس کا ہی کھیل نظر آتا ہے۔ الفاظ کے تسلسل کے درمیان، لکیر، نقطوں اور دائروں کا بیلنس حیران کن دکھائی دیتا ہے اور مصور کی عرق ریزی کی نشان دہی کرتا ہے۔

چترا پریتم کے کل سفر اور تمام کام کو اگر چند جملوں میں سمیٹنا ہو تو میں اسے نروان کی تلاش کہوں گی۔ ایک انسان، جسے اپنے وجود کی تلاش تھی، جو اپنی ذات کو بہت سے آئینوں میں دیکھتا تھا، جو وجودیت کے ازلی اور ابدی سوال کا جواب چاہتا تھا، جو آئینے سے پوچھتا تھا کہ تو کون ہے؟ کیوں ہے؟ تیرے ہونے کا ارتھ کیا ہے، جو اپنے ہونے کو ثابت کرنا چاہتا تھا، زندگی کی بے معنویت سے انکاری تھا۔

اس نے کبھی اپنی مٹی کی نمی میں گزرتے وقت کی چاپ سنی کبھی ساحل پر کھڑی کشتی سے حوصلہ بٹورا۔ کبھی بُدھا کے راستے پر خود کو تلاش کیا تو کبھی میرا کے عشق میں پناہ لی، اور کبھی مقدس کلام سے کلام کیا۔ کل ملا کر اس کی یہ تلاش کینوس کی سطح پر ابھرتی گئی اور ایک انمول ذخیرہ بنتی گئی جسے بر صغیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا امین کہا جا سکتا ہے۔

پڑھنے والوں کو یہ جملہ شاید بڑا لگے مگر چترا کی تصویروں میں موجود رمز کو پا جانے والے اس کی شہادت ضرور دیں گے۔ گو کہ چترا جس دور میں سانس لے رہا ہے وہ سطح پر تیرنے والوں کا دورہے۔ پانیوں کی گہرائی میں سچے موتیوں کی تلاش کرنے کوئی نہیں اترتا، مگر امید ہے کہ چترا پریتم کے کام کو کوئی دیدہ ور مل جائے گا۔

چترا کا سفر ابھی جاری ہے۔ ابھی بہت کچھ اندر ہے جو باہر آنے کے لیے وقت کا منتظر ہے۔ اس کا ذخیرہ یوں بھی مکمل ہے مگر زندگی بخیر، آنے والے سالوں میں اس میں یقیناً بیش بہا اضافہ ہوتا رہے گا۔ چترا پریتم کو یقیناً پاکستان کی پہچان کے طور پر د نیا بھر میں جانا جائے گا۔

کچھ آئینے سے رکھے ہوئے ہیں سر وجود

اور ان میں اپنا جشن مناتی ہے میری ذات

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔