خدایا، یہ ریاستی ظلم و استحصال کب ختم ہوگا؟

تنویر قیصر شاہد  پير 16 جنوری 2023
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

دُنیا بھرکے خوش بخت اور خوش قسمت لوگوں کے لیے نیا سال مسرتوں اور خوشیوں کے جام لیے طلوع ہوتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین اور روہنگیا کے مجبور و مقہور مسلمانوں کے لیے یہ نیا سال،2023، بھی اپنے دامن میں نئے مظالم اور نئے انداز کے استحصال لیے طلوع ہُوا ہے۔

نیا سال بھی گزشتہ برسوں کی طرح زیادتی اور جبر کے ہتھکنڈے لیے یوں چڑھا ہے کہ میانمار کے روہنگیا مسلمان اپنے بال بچوں کے ساتھ ہجرت کا عذاب سہتے سمندروں میں غرقاب ہو رہے ہیں ، کشمیری مسلمان بھارتی استبدادی بندوق برداروں کے ہا تھوں زندگیوں اورآزادیوں سے محروم ہو رہے ہیں اور مقبوضہ فلسطینی مسلمانوں کا خون صہیونی قابض افواجِ قاہرہ کے ہاتھوں مسلسل بہہ رہا ہے۔

دُنیا حسبِ معمول خاموش ہے۔ اپنے بھی اور بیگانے بھی مہر بہ لب۔ سب اپنے اپنے اور وقتی مفادات کے حصار میں قید ۔

مغربی ممالک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق:پچھلے سال صہیونی قابض اسرائیلی فوجیوں نے 200کے قریب فلسطینیوں کو شہید کیا۔ نیتن یاہو کی شکل میں نیا اسرائیلی وزیر اعظم ایک بار پھر سے برسر اقتدار آ چکا ہے۔اس کی حکومت متشدد اور انتہا پسند صہیونی اسرائیلی منتخب سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔

اِس اتحاد کا  ہر رکن فلسطین اور فلسطینی مسلمانوں اور شہریوں کا جانی دشمن کہا جاتا ہے۔ہررکن برسر عام کہتا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے اسرائیل اور خود فلسطین میں آزادانہ طور پر رہنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ہررکن اسرائیلی دارالحکومت کو یروشلم شہر کے قدیم حصے(جہاں بیت المقدس ہے) میں منتقل کرنے کا خواہاں ہے ۔

نیتن یاہو حکومت کا ہررکن مسلمانوں کے مقدس قبلہ اوّل کو بلڈوز کرکے وہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنے کا خواہشمند ہے۔اسرائیلی ریاست کے زیر اہتمام ، دانستہ،کوششیں کی جاتی ہیں کہ یروشلم میں مقیم مسلمانوں کو مشتعل کرکے اپنے بہیمانہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔ایسا ہی ایک سانحہ چند دن پہلے وقوع پذیر ہُوا ہے۔

نئے سال2023 کے پہلے ہی ہفتے فلسطینی مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے ایک اسرائیلی وزیر نے بیت المقدس کے مقدس صحن میں ناجائز اور قطعی غیر قانونی طور پر گھس کر توہین کا ارتکاب کیا۔ اس وزیر کا نام اتمار بن گویر(Itamar Ben Gvir)ہے۔ یہ ’’صاحب‘‘ نیتن یاہو کی نئی انتہا پسند حکومت کا وزیر نیشنل سیکیورٹی ہے۔

جب سے نئی اسرائیلی حکومت نے حلف اُٹھایا ہے، صہیونی قابض فوجوں کے فلسطین اور بیت المقدس پر مظالم بڑھ گئے ہیں ۔ اتمار بن گویر کا اپنے مسلّح سرکاری اہلکاروں کی معیت میں بیت المقدس کے احاطے میں داخل ہونا نئی تشدد پسند اسرائیلی حکومت کی سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ ہے۔

عالمِ اسلام مجموعی طور پر اسرائیل کا دستِ ستم روکنے اور توڑنے کی صلاحیت سے تو محروم ہے ، لیکن شکر ہے کہ مسلمان ممالک نے بیت المقدس کے خلاف اِس تازہ صہیونی زیادتی کے خلاف بیک زبان سخت احتجاج کیا ہے ۔

مثال کے طور پر سب سے پہلے عالمِ اسلام کی نمایندہ تنظیم ’’او آئی سی‘‘نے کہا: ’’ اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا بیت المقدس میں بے محابہ اور غیر قانونی طور پر داخل ہونا دراصل عشروں قبل کے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی بھی ہے اور مسلمانوں کو بھڑکانے اور مشتعل کرنے کی ایک دانستہ کوشش بھی۔‘‘ فلسطینی صدر، وزیر اعظم اور فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بھی فوری طور پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہُوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر کی یہ بھڑکاؤ حرکت دراصل اس دیرینہ صہیونی کوشش کا حصہ ہے کہ کسی طرح بیت المقدس کو یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا جائے، اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلیٰ تر سطح پر اتمار بن گویر کی مذمت کی ہے۔سعودی عرب کوشش کرتا رہا ہے کہ کسی طرح اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صلح اور امن کا پرچم لہرانا شروع کر دے ۔ لیکن شومئی قسمت سے اتمار بن گویر ایسے اسرائیلی انتہا پسند اور مفسد وزرا سعودی کوششوں کو بلڈوز کر دیتے ہیں ۔

اُردن ، مصر ، ترکی اور متحدہ عرب امارات بھی اب اسرائیل کی ناجائز، ظالم اور غاصب حکومت کو ، بہ امر مجبوری، تسلیم کر چکے ہیں۔اُردن، ترکی اور مصر کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات تو خاصے پرانے ہیں۔

تعلقات کی اُستواری کے عقب میں ، مبینہ طور پر، یہ خواہش کارفرما تھی کہ امریکا اور طاقتور مغربی ممالک کی اشیر واد اور پُشت پناہی رکھنے والے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بنا کر خطے میں پائیدار امن بھی قائم ہو سکے گا اور فلسطین و فلسطینی مسلمانوں کے حقوق بھی محفوظ کیے جا سکیں گے۔ بد قسمتی سے مجموعی طور پر ان ممالک کی یہ تمنا پوری نہیں ہو سکی ہے ۔

فلسطین پر اسرائیلی مظالم رک سکے ہیں نہ فلسطین پر اسرائیلی غاصبانہ اقدامات ۔ اتمار بن گویر کی شکل میں بیت المقدس کے خلاف تازہ سانحہ وقوع پذیر ہُوا ہے تو اُردن، مصر ، ترکی اور یو اے ای نے بھی بیک زبان(خواہ اپنے عوام کے اطمینان کی خاطر ہی سہی) اسرائیلی حکومت کی مذمت کی ہے۔

عالمِ اسلام کی طرف سے دیے گئے یہ مذمتی، مزاحمتی اور احتجاجی بیانات کیا اسرائیل کی صہیونی ریاست کو آیندہ ایام میں قدس الشریف میں شرارتیں اور شیطانیاں کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں؟ شاید ایسا ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل کو اپنی طاقت پر بڑا ناز اور زعم ہے۔

اُسے عالمِ اسلام کی کمزوریوں کا بھی پورا ادراک ہے۔اسرائیلی ریاست اور حکومت کو عالمی معاہدوں کا پابند بنائے رکھنا مشکل ہے، لیکن اتمار بن گویر کی اشتعال انگیز حرکت کے نتیجے میں سامنے آنے والے احتجاجی بیانات کا کم از کم یہ نتیجہ ضرور نکلا ہے کہ خود اسرائیلی وزیر اعظم، نیتن یاہو، بھی پسپا اور نادم ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

برطانیہ ( جو اسرائیلی وجود کا باپ کہلاتا ہے) اور امریکا ( جو اسرائیل کا اصل پُشتی بان ہے) نے بھی اتمار بن گویر کے اس اقدام کی مذمت بھی کی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک ترجمان نے خاص طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کرکے یقین دہانی لی ہے کہ آیندہ ایسا کوئی اشتعال انگیز واقعہ نہیں ہوگا۔

اسرائیل میں متعین امریکی سفیر (Tom Nides)کے ترجمان نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا ہے کہ آیندہ نیتن یاہو کے کسی وزیر کی طرف سے ایسی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہیے جس سے غزہ اور تل ابیب کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھیں ۔

کمزور فریق ،طاقتوروں کے سامنے آس اور اُمید ہی رکھ سکتا ہے۔ سو، عالمِ اسلام کے حکمران اسرائیل کے سامنے یہی اُمید رکھ سکتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کا خون مزید بہانے ، اُن کے حقوق مزید غصب کرنے اورمزید ارضِ فلسطین ہتھیانے سے باز رہے گا۔لگتا مگر نہیں ہے کہ غصب اور ظلم و استحصال کی بنیاد پر جنم لینے والا اسرائیل زیادتیوں سے باز آئیگا۔

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 2023کا نیا سال طلوع ہوتے ہی اسرائیلی فوجیوں نے کئی بے گناہ اور معصوم فلسطینی نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ نئے سال کے پہلے ہفتے کے دوران ان شہدا کی تعداد 10ہو چکی ہے ۔

نئے سال کی آمد کے موقع پر اسرائیل نے غزہ کو طبّی آلات کی فراہمی بھی بند کر دی۔ اور یوں لاکھوں فلسطینی مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں ۔ کیا یہ ستم کم ہے کہ 6جنوری2023 کو اسرائیل نے ایک ایسے بے گناہ فلسطینی نوجوان، کریم یونس، کو جیل سے رہا کیا ہے جسے چالیس سال قبل اسرائیلی زندان میں ڈالا گیا تھا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔