تارکین وطن کو 240 روپے فی ڈالرکی پیشکش کی جائے، کرنسی ڈیلرز

سلمان صدیقی  منگل 17 جنوری 2023
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو غیرقانونی بلیک مارکیٹ میں265روپے فی ڈالر مل رہے ہیں
فوٹو: فائل

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو غیرقانونی بلیک مارکیٹ میں265روپے فی ڈالر مل رہے ہیں فوٹو: فائل

 کراچی:  کرنسی ڈیلرز نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بہتر شرح مبادلہ 240 روپے فی ڈالر کی پیشکش کی جائے تاکہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ ہو اور ملک کے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔

تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق بیرون ملک سے ترسیلات زر میں مسلسل چوتھے مہینے کمی واقع ہوئی ہے، جو دسمبر 2022ء میں 31 ماہ کی کم ترین سطح 2 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں۔

اسحاق ڈار کے ستمبر 2022 کے آخر میں وزیرخزانہ کے طور پر واپس آنے کے بعد سے ترسیلات زر میں مجموعی طور پر 16 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے بجائے کہ مارکیٹ فورسز (زیادہ تر کمرشل بینک)کو انٹربینک مارکیٹ میں کرنسی کی شرح کا تعین کرنے دیں، فوری طور پر روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا، ان کے اقدامات نے پاکستان میں بلیک کرنسی مارکیٹ کو دوبارہ جنم دے دیا، جو کوویڈ-19 وباء کے دنوں میں تقریباً ختم ہوگئی تھی۔

سری لنکا اور بنگلادیش نے ماضی قریب میں بلیک کرنسی مارکیٹ میں چلی جانے والی ترسیلات زر کو قانونی سسٹم میں واپس لانے کے لیے بیرون ملک مقیم باشندوں کو بہتر شرح مبادلہ کی پیشکش کی، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر قیمت (ایکسچینج ریٹ) کی پیشکش نہ صرف سسٹم میں کھوئی ہوئی رقوم کو واپس لائے گی بلکہ چھ ماہ (جنوری-جون 2023) میں ورکرز کی ترسیلات زر میں 15 فیصد اضافہ بھی کرسکتی ہے۔

28 ستمبر 2022 کو نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تقرری کے بعد سے نہ صرف انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے ایک نئی شرح کو بھی جنم دیا یعنی ڈالر کی کمی کی وجہ سے بلیک مارکیٹ شرح تبادلہ کو۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار کی تقرری کے بعد ترسیلاتِ زر اکتوبر سے دسمبر 2022 میں سال بہ سال بنیادوں پر 16 فیصد کم ہو کر 6.4 ارب ڈالر رہ گئیں۔

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالرز کی کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب ایکسچینج کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق 100 فیصد ترسیلات زر انٹربینک مارکیٹ میں لانی پڑتی ہیں۔

یاد رہے کہ بہت سے سمندرپار پاکستانیوں نے غیررسمی چینلز مثلاً غیرقانونی حوالہ ہنڈی آپریٹرز کے ذریعے اپنے رشتہ داروں کو رقوم بھیجنا شروع کردی ہیں کیونکہ انہیں بلیک مارکیٹ میں بہتر شرح مبادلہ 265 روپے فی ڈالر مل رہی ہے جبکہ قانونی آپریٹرز مثلاً بینکوں اور کرنسی ڈیلروں کے ذریعے کنٹرولڈ ریٹ 228 روپے فی ڈالر ملتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔